کافروں کو کھانا کھلا سکتے ہیں یا ان کی پیسوں سے مدد کر سکتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟ اور یہ رمضان کا مہینہ چل رہا ہے بہت سے شخص ہر کسی کی مدد کرتے ہیں زکوٰۃ، صدقہ، فطرہ کس کو دینا چاہیے مسلمان کو دینا چاہیے یا کافر کو دینا چاہیے؟


کافروں کو کھانا کھلا سکتے ہیں یا ان کی پیسوں سے مدد کر سکتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟ اور یہ رمضان کا مہینہ چل رہا ہے بہت سے شخص ہر کسی کی مدد کرتے ہیں زکوٰۃ، صدقہ، فطرہ کس کو دینا چاہیے مسلمان کو دینا چاہیے یا کافر کو دینا چاہیے؟

کافروں کو کھانا کھلا سکتے ہیں یا ان کی پیسوں سے مدد کر سکتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟ اور یہ رمضان کا مہینہ چل رہا ہے بہت سے شخص ہر کسی کی مدد کرتے ہیں زکوٰۃ، صدقہ، فطرہ کس کو دینا چاہیے مسلمان کو دینا چاہیے یا کافر کو دینا چاہیے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`


اگر کوئی کافر پریشان یا محتاج ہو تو انسانیت کے ناطے اس کی مالی مدد کرنے میں، بھوکا ہو تو کھانا کھلانے میں کوئی حرج نہیں کہ ہر تر جگر والی (یعنی ذی روح) مخلوق کو کھلانے پلانے میں اجر ہے۔ البتہ زکوٰۃ صرف مسلمان فقراء ہی کو دی جائے گی، ذمی کافر کو نہ زکوۃ دے سکتے ہیں، نہ کوئی صدقہ واجبہ جیسے نذر و کفارہ و صدقہ فطر اور حربی کو کسی قسم کا صدقہ دینا جائز نہیں نہ واجبہ نہ نفل۔ اور ہندوستان اگرچہ دار الاسلام ہے مگر یہاں کے کفار خربی ہیں۔

کسی ضرورت مند کی مدد کرنے میں اجر ہے، چنانچہ ”بخاری شریف“ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”في كل كبد رطبة أجر.“ یعنی ہر تر جگر والی (ذی روح) مخلوق (کو کھلانے پلانے) میں اجر ہے۔ (صحیح بخاری، الحدیث: 2363، صفحہ:376)



مصارفِ زکوٰۃ کے متعلق ”قرآن مجید“ میں ہے:”﴿اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِؕ-فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ.﴾ ترجمۂ کنز الایمان:زکوٰۃ تو انہیں لوگوں کے لیے ہے محتاج اور نرے نادار اور جو اسے تحصیل کرکے لائیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے اور گردنیں چھوڑانے میں اور قرضداروں کو اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کو یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کا اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔ (القرآن الکریم، سورۃ التَّوْبَة، آیت:60)


زکوٰۃ کے مستحق آٹھ قسم کے لوگ قرار دیئے گئے ہیں ان میں سے مُؤَلَّفَةُ الْقُلُوْبْ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْهُم کے اِجماع کی وجہ سے ساقط ہوگئے کیونکہ جب اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی نے اسلام کو غلبہ دیا تو اب اس کی حاجت نہ رہی اور اسی پر اجماع ہے، چنانچہ ”ہدایہ“ میں ہے:”(الأصل فيه قوله تعالى:«إنما الصدقٰت للفقرآء والمسٰكين» الآية، فهذه ثمانية أصناف، وقد سقط منها المؤلفة قلوبهم، لأن الله تعالى أعز الإسلام وأغنى عنهم) وعلى ذلك انعقد الإجماع.“ یعنی مصارفِ زکوٰۃ میں اصل (دلیل) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، زکوٰۃ تو انہیں لوگوں کے لیے ہے محتاج اور نرے نادار، تو یہ آٹھ مصارف ہیں اور ان مصارف سے المؤلفة قلوبهم ساقط ہو گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزّت بخشی اور ان لوگوں سے غنی فرما دیا اور اسی پر اجماع ہے۔ (الهداية، كتاب الزكاة، باب من يجوز دفع الصدقة إليه ومن لا يجوز، الجزء الأول، جلد:1، صفحة:120)

زکوۃ صرف مسلمان فقراء ہی کو دی جائے گی، چنانچہ ”ترمذی شریف“ کی حدیثِ مبارک میں ہے:”عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث معاذا إلى اليمن فقال له إنك تأتي قوما أهل كتاب ۔۔۔۔ فأعلمهم أن الله افترض عليهم صدقة في أموالهم تؤخذ من أغنيائهم وترد على فقرائهم.“ یعنی حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے جب حضرت سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طر ف بھیجا تو فرمایا کہ تم اہل کتاب میں سے ایک قوم کے پاس جا رہے ہو۔۔۔ تم انہیں یہ بات بتا دینا کہ اللہ عزوجل نے ان کے مالوں میں زکوۃ فرض کی ہے، یہ زکوۃ ان کے مال داروں سے لے کر ان کے فقراء کو دی جا ئے گی۔ (الجامع الصحيح سنن الترمذي، کتاب الزکاۃ، حدیث:625، جلد:3، صفحۃ:12، ملتقطاً)


مذکورہ بالا حدیث پاک کے تحت ”فتح الباری“ میں ہے:”وأن الزكاة لا تدفع إلى الكافر لعود الضمير في فقرائهم إلى المسلمين.“ یعنی کافروں کو زکوۃ نہیں دی جاسکتی کیونکہ "فقرائهم" میں "هم" کی ضمیر مسلمانوں کی طرف لوٹ رہی ہے۔ (فتح الباری شرح صحیح بخاری، کتاب الزکاۃ، ج:3، صفحہ:360)

غیر مسلم کو زکوۃ دینا جائز نہیں، جیسا کہ ”بدائع الصنائع“ میں ہے:”لا یجوز صرف الزکاة إلی الکافر بلا خلاف لحدیث معاذ رضي اللہ عنہ: خذ من أغنیائهم وردها إلی فقرائهم أمر بوضع الزكاة في فقراء من يؤخذ من أغنيائهم وهم المسلمون فلا يجوز وضعها في غيرهم.“ یعنی بغیر کسی اختلاف کے کافر کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں، حضرتِ معاذ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی وجہ سے کہ یہ مال تم مسلمانوں کے اغنیاء سے لو اور مسلمانوں کے فقراء کو لوٹا دو، پس یہاں مسلمان اغنیاء سے وصول ہونے والی زکوٰۃ کو انہی کے فقراء میں خرچ کرنے کا حکم دیا گیا اور وہ مسلمان ہیں پس مسلمانوں کے علاوہ کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، کتاب الزکاۃ، الجزء الثاني، صفحة:49، دار الکتب العلمیة، بیروت)

”فتاویٰ عالمگیری“ میں ہے:” وأما أهل الذمة فلا يجوز صرف الزكاة إليهم بالاتفاق۔۔۔ أما الحربي المستأمن فلا یجوز دفع الزکوٰۃ والصدقة الواجبة إلیه بالإجماع.“ یعنی ذمی کافر کو زکوٰۃ دینا بالاتفاق جائز نہیں۔۔۔ رہی بات حربی اور مستامن کافر کی تو انہیں بالاجماع زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ دینا جائز نہیں۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، الجزء الأول، صفحة:207، دار الكتب العلمية بيروت)

”بہارِ شریعت“ میں ہے:”ذمی کافر کو نہ زکوۃ دے سکتے ہیں، نہ کوئی صدقہ واجبہ جیسے نذر و کفارہ و صدقہ فطر اور حربی کو کسی قسم کا صدقہ دینا جائز نہیں نہ واجبہ نہ نفل، اگرچہ وہ دارالاسلام میں بادشاہِ اسلام سے امان لے کر آیا ہو۔ ہندوستان اگرچہ دار الاسلام ہے مگر یہاں کے کفّار ذمّی نہیں، انھیں صدقات نفل مثلاً ہدیہ وغیرہ دینا بھی ناجائز ہے۔ (بہارِ شریعت، مالِ زکوٰۃ کا مصارف، جلد:1، حصہ پنجم، صفحہ:931، مجلس المدينة العلمية دعوت اسلامی)

ہندوستان دار الإسلام ہے، چنانچہ ”اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ“ تحریر فرماتے ہیں:”ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ بلکہ علمائے ثلٰثہ رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم کے مذہب پر ہندوستان دارالاسلام ہے ہرگز دارالحرب نہیں کہ دار الاسلام کے دار الحرب ہوجانے میں جو تین باتیں ہمارے امام اعظم امام الائمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیك درکار ہیں ان میں سے ایك یہ ہے کہ وہاں احکام شرك علانیہ جاری ہوں اور شریعتِ اسلام کے احکام و شعائر مطلقًا جاری نہ ہونے پائیں اور صاحبین کے نزدیك اسی قدر کافی ہے مگر یہ بات بحمداﷲ یہاں قطعًا موجود نہیں اہل اسلام جمعہ و عیدین واذان واقامت و نماز باجماعت وغیرہا شعائر شریعت بغیر مزاحمت علی الاعلان ادا کرتے ہیں۔فرائض، نکاح، رضاع، طلاق، عدۃ، رجعت، مہر، خلع، نفقات، حضانت، نسب، ہبہ، وقف، وصیت، شفعہ وغیرہا، بہت معاملات مسلمین ہماری شریعت غرابیضاء کی بناپر فیصل ہوتے ہیں۔ “ (فتاویٰ رضویہ، جلد 14، صفحہ:106-107، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)

مگر یہاں کے کفار حربی ہیں، چنانچہ ”تفسیرات احمدیہ“ میں ہے:”إن هم إلا حربي وما يعقلها إلا العالمون.“ (التفسيرات الأحمدية في بيان الآيات الشرعية، صفحة:300)


والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مزید پڑھیں 👇🏻 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.