وہابی امام کی اقتدا کرنا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
وہابی کے پیچھے نماز پڑھنا محض باطل ہے، ہوگی ہی نہیں، دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ اور پڑھنے والا گناہ گار۔ کیونکہ وہابیہ کے عقائد کفریہ ہیں تفصیل کے لیے ”فتاویٰ حُسام الحرمینن“ اور ”الصوارم الہندیہ“ کا مطالعہ کریں۔ اور وہ بد مذہب جس کی بد مذہبی حد کفر کو پہنچ گئی ہو، ان کے پیچھے نماز نہیں ہوسکتی۔ اور جس بد مذہب کی بد مذہبی حد کفر کو نہ پہنچی ہو، اس کے پیچھے نماز، مکروہ تحریمی ہے۔
فتح القدیر میں ہے:”روی محمد عن ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اﷲ تعالیٰ عنھما“ یعنی امام محمد نے امام ابو یوسف و امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے راوی : ان الصلٰوۃ خلف اھل الھواء لاتجوز (اہل بدعت و بدمذہب کے پیچھے نماز جائز نہیں ۔ (فتح القدیر، باب الإمامة، 1/304)
غنیہ شرح منیہ میں ہے:”المبتدع نفاسق من حیث الاعتقاد وھواشد من الفسق من حیث العمل لان الفاسق من حیث العمل یعترف بانہ فاسق ویخاف ویستغفر بخلاف المبتدع“ یعنی بدعتی ، اعتقاد کے لحاظ سے فاسق ہوتا ہے جو عمل کے اعتبار سے فسق سے کہیں بد تر ہے کیونکہ فاسق اپنے فاسق ہونے کا معترف ہوتا ہے اور ﷲ تعالٰی سے ڈرتا اور معافی مانگتا ہے بخلاف بدعتی کے۔ (غنية المستملى، شرح منية المصلى، فصل فى الإمامة، صفحة:514)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:”تجوز الصلاة خلف صاحب هوى وبدعة ولا تجوز خلف الرافضي والجهمي والقدري والمشبهة و من يقول بخلق القرآن، وحاصله إن كان هوى لا يكفر به صاحبه تجوز الصلاة خلفه مع الكراهة وإلا فلا هكذا في التبيين والخلاصة، وهو الصحيح هكذا في البدائع“ (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، باب الإمامة، الفصل الثالث في بيان من يصلح إماماً لغيره، جلد:1، صفحة:93، دار الكتب العلمية، بيروت)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے سوال ہوا کہ امامت کن کن شخصوں کی ناجائز ہے تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا:”جو قرأت غلط پڑھتا ہو جس سے معنی مفسد ہوں وضو یا غسل صحیح نہ کرتا ہو یا ضروریاتِ دین سے کسی چیز کا منکر ہو جیسے وہابی ، رافضی ، غیر مقلد ، نیچری ، قادیانی ، چکڑالوی وغیرہم یا وہ جوان میں سے کسی کے عقائد پرمطلع ہوکر اس کے کفر میں شك کرے یا اسکے کافر کہنے میں تامل کرے اُن کے پیچھے نماز محض باطل ہے ، اور جس کی گمراہی حدِ کفر تك نہ پہنچی ہو جیسے تفضیلیہ : مولٰی علی کوشیخین سے افضل بتاتے ہیں رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم یا تفسیقیہ کہ بعض صحابہ کرام مثل امیر معاویہ وعمروبن عاص وابوموسٰی اشعری و مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو بُرا کہتے ہیں ان کے پیچھے نماز بکراہت شدیدہ تحریمیہ مکروہ ہے کہ انھیں امام بنانا حرام ان کے پیچھے نماز پڑھنی گناہ اور جتنی پڑھی ہوں سب کا پھیرنا واجب۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:6، صفحہ:627، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:”سنّی کی نماز وہابی کے پیچھے نہیں ہوسکتی ، امام محمد وامام ابو یوسف و امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے راوی: ان الصلٰوۃ خلف اھل الھواء لاتجوز (یعنی اہل بدعت و بدمذہب کے پیچھے نماز جائز نہیں۔)
بلکہ وہابی کی نماز نہ کسی کے پیچھے ہوسکتی ہے نہ خود تنہا ، وہابی کے پیچھے کسی کی نماز ہوسکتی ہے اگر چہ اس کا ہم مذہب ہو کہ صحتِ نماز کے لئے پہلی شرط اسلام ہے اور وہابیہ توہینِ خدا و رسول کے سبب اسلام سے خارج ہیں۔ فتاوٰی علمائے کرام حرمین شریفین میں ہے:من شك فی کفرہ و عذابہ فقد کفر یعنی جس نے اس کے کفر و عذاب میں شك کیا وہ بھی کافر ہو گیا۔“ (فتاویٰ رضویہ،جلد 6، صفحہ:624، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)
مفتی امجد علی اعظَمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:”وہ بد مذہب جس کی بد مذہبی حد کفر کو پہنچ گئی ہو، جیسے رافضی اگرچہ صرف صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی خلافت یا صحبت سے انکار کرتا ہو، یا شیخین رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کی شانِ اقدس میں تبرّا کہتا ہو۔ قدری، جہمی، مشبہ اور وہ جو قرآن کو مخلوق بتاتا ہے اور وہ جو شفاعت یا دیدار الٰہی یا عذابِ قبر یا کراماً کاتبین کا انکار کرتا ہے، ان کے پیچھے نماز نہیں ہوسکتی۔ اس سے سخت تر حکم وہابیۂ زمانہ کا ہے کہ اﷲ عزوجل و نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی توہین کرتے یا توہین کرنے والوں کو اپنا پیشوا یا کم از کم مسلمان ہی جانتے ہیں۔“ (بہارِ شریعت، امامت کا بیان، جلد:1، حصہ:3، صفحہ:562، مجلس المدينة العملية دعوت اسلامی)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

