راستے کی کیچڑ پاک یا ناپاک
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
روڈ پر جو کیچڑ ہوتی ہے تو جب تک اس کا نجس ہونا معلوم نہ ہو، پاک سمجھا جائے گا، اگر کپڑے یا بدن پر لگ گئی تو کپڑا یا بدن پاک سمجھا جائے گا اور اس کے ساتھ ادا کی گئی نماز بھی جائز ہے البتہ دھو لینا بہتر ہے۔ اور اگر اُس کیچڑ کا ناپاک ہونا معلوم ہو مثلاً اُس میں نجاست کا اثر ظاہر ہویا کوئی شرعاً معتبر آدمی بتادے، تو جس جگہ وہ ناپاک کیچڑ لگے، وہ جگہ ناپاک ہو جائے گی۔
”در مختار“ میں ہے:”طين شارع...عفو.“ یعنی راستے کی کیچڑ معاف ہے۔ (الدر المختار، کتاب الطهارة، باب الأنجاس، الجزء الأول، صفحة:530، دار عالم الكتب رياض)
اس کے تحت ”رد المحتار“ میں ہے:”طین الشوارع عفو وإن ملأ الثوب للضرورۃ ولو مختلطاً بالعذرات وتحوز الصلاة معه... أقول:والعفو مقید بما إذا لم یظھر فیه أثر االنجاسة.“ یعنی ضرورت کی وجہ سے راستوں کی کیچڑمیں معافی ہے، اگرچہ کپڑے اس سے بھر جائیں، اگرچہ غلاظت سے مل جائے اور اس کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے، میں(علامہ شامی) کہتا ہوں:یہ معافی اُسی صورت میں ہے، جبکہ اُس میں نجاست کا اثر ظاہر نہ ہو۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الطهارة، باب الأنجاس، مطلب في العفو عن طين الشارع، الجزء الأول، صفحة:531، دار عالم الكتب رياض)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی
------------------------------------------------------------------------------------------
مزید پڑھیں 👇🏻

