عالمِ دین کو اُس کے فعل یعنی بُرے کاموں کی وجہ سے بُرا کہنا اس کا کیا حُکم ہے؟



عالمِ دین کو اُس کے فعل یعنی بُرے کاموں کی وجہ سے بُرا کہنا اس کا کیا حُکم ہے؟ 

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

    کسی سُنّی صحیح العقیدہ عالمِ دین کی بُرائی کرنا، عام اِنسان کی بُرائی کرنے سے سخت تر ہے۔ اگر واقعی میں کسی عالمِ دین میں کوئی خامی ہے تو اُس کو چھپانا چاہئے کہ عیب جوئی گناہ اور عیب چھپانا ثواب ہے۔ اور اگر پیٹھ پیچھے ان کی بُرائی کرتا ہے تب تو یہ غیبت ہے، اور غیبت سخت ناجائز وحرام ہے۔ لہذا اگر کسی نے کسی عالمِ دین کی برائی کی ہو تو اُسے چاہئے کہ ان سے معافی مانگے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں سچی توبہ کرے۔ 

   سُنّی صحیح العقیدہ عالمِ دین کو ہلکا جاننا جائز نہیں، چنانچہ حدیث پاک میں ہے:”ثلٰثة لا یستخف بحقھم إلا منافق بین النفاق ذو الشیبة في الإسلام وذو العلم والإمام المقسط.“ یعنی تین شخصوں کے حق کو ہلکانہ جانے گا مگرمنافق کھلا منافق، ایك وہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیا، دوسرا علم والا، تیسرا بادشاہ اسلام عادل۔ (المعجم الکبیر، الحدیث:7819، 8/238)

   عُیُوب ڈھونڈھنے اور غیبت کرنے کی ممانعت کے متعلق اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:”﴿وَ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُؕ.﴾ ترجمۂ کنز الایمان:اور عیب نہ ڈھونڈھو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا۔ (القرآن الکریم، سورۃ الْحُجُرٰت، آیت:12) 

   حدیث پاک میں ہے:عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنِ اتَّبَعَ عَوْرَاتِهِمْ يَتَّبِعُ اللَّهُ عَوْرَتَهُ وَمَنْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِي بَيْتِهِ.“ یعنی حضرت ابوبرزہ اسلمی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا :’’اے ان لوگوں کے گروہ، جو زبان سے ایمان لائے اور ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا، مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کی چھپی ہوئی باتوں کی ٹٹول نہ کرو، اس لیے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی چھپی ہوئی چیز کی ٹٹول کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی پوشیدہ چیز کی ٹٹول کرے (یعنی اسے ظاہر کر دے) گا اور جس کی اللہ (عَزَّوَجَلَّ) ٹٹول کرے گا (یعنی عیب ظاہر کرے گا) اس کو رسوا کر دے گا، اگرچہ وہ اپنے مکان کے اندر ہو۔ (ابو داؤد، کتاب الأدب، باب في الغیبة، 4/354، الحدیث:4880)
 
   عیبوں کو چھپانے کے متعلق ”بخاری شریف“ میں ہے، حضرت عبد عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:”من ستر مسلماً ستره الله يوم القيامة.“ یعنی جس نے کسی مسلمان کے عیب پر پردہ رکھا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیوب پر پردہ رکھے گا۔ (بخاری، کتاب المظالم والغصب، باب لا یظلم المسلم... الخ، 2/126، الحدیث:2442)

   جس کی غیبت کی اگر اس کو اس کی خبر ہو گئی تو اس سے معافی مانگنی ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے سامنے یہ کہے کہ میں نے تمہاری اس اس طرح غیبت یا برائی کی تم معاف کر دو، اس سے معاف کرائے اور توبہ کرے تب اس سے برئی الذمہ ہوگا اور اگر اس کو خبر نہ ہوئی ہو تو توبہ اور ندامت کافی ہے۔

   امام غزالی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ یہ فرماتے ہیں، کہ جس کی غیبت کی وہ مرگیا یا کہیں غائب ہو گیا اس سے کیونکر معافی مانگے یہ معاملہ بہت دشوار ہوگیا، اس کو چاہیے کہ نیک کام کی کثرت کرے تاکہ اگر اس کی نیکیاں غیبت کے بدلے میں اسے دے دی جائیں، جب بھی اس کے پاس نیکیاں باقی رہ جائیں۔ ( بہار شریعت، جلد:3، حصہ:16، صفحة:539)
  والله تعالیٰ اعلم بالصواب 
كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مزید پڑھیں 👇🏻 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.