عالم کو برا کہنے والے کا حکم



عالم کو برا کہنے والے کا حکم مسئلہ محمد اویس العطاری المصباحی


اگر کوئی عالم دین کو بُرا کہتا ہو تو اسے کافر کہ سکتے ہیں؟



بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم 
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

----------------------------------------------


نہیں، عالمِ دین کی برائی کرنے والے کو مطلقاً کافر نہیں کہ سکتے۔

اس مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ اگر کوئی شخص سُنی صحیحُ العقیدہ عالمِ دین کو بُرا اس کے علم کی وجہ سے کہتا ہے تب تو یہ کفر ہے اور اگر کسی دُنیوی دشمنی کی وجہ سے گالی دیتا ہے تو یہ سخت حرام ہے اور اگر بلا وجہ اس سے بغض رکھتا ہے تو یہ دل کی بیماری ہے دوا لینی چاہیے اس پر کفر کا اندیشہ ہے۔

مَجْمَعُ الْاَنھر  میں ہے:”اَلْاِسْتِخْفَافُ بِالاَشْرَافِ وَالْعُلَمَاءِ کُفْرٌ “ 
 یعنی اشراف (ساداتِ کرام) اور عُلَما  کی تحقیر (انہیں گھٹیا جاننا) کفر ہے۔ (1)

  خُلاصۃ الفتاویٰ میں ہے:”مَنْ اَبْغَضَ عَالِماً مِنْ غَیْرِ سَبَبٍ  ظَاھِرٍ خِیْفَ عَلَیْہِ الْکُفْر“ یعنی جو بلا کسی ظاہری وجہ کے عالِم دین سے بُغض رکھے اُس پر کُفر کا خوف ہے۔ (2)

 اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  عالِم دین کو بُرا کہنے کے تعلق سے فرماتے ہیں:”اگر عالم کو اس لیے برا کہتاہے کہ وہ عالم ہے جب تو صریح کافر ہے اور اگر بوجہ علم اس کی تعظیم فرض  جانتا ہے مگر اپنی کسی دنیوی خصومت کے باعث برا کہتاہے گالی دیتا تحقیر کرتاہے تو سخت فاسق فاجر ہے اگر بے سبب رنج رکھتاہے تو مریض القلب خبیث الباطن ہے اور اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔  خلاصہ میں ہے:

من ابغض عالما من غیر سبب ظاھر خیف علیہ الکفر ۔ جو کسی عالم سے بغیر سبب ظاہری کے عداوت رکھتاہے اس کے کفر کا 
اندیشہ ہے۔ (3)

قرآن مجید کی تلاوت کے درمیان سبحان اللہ وغیرہ کہنا کیسا ہے اس مسئلہ کو جاننے کے لیے لنک پر کلک کریں 

==============================

(1) `مَجْمَعُ الْاَنْھَر`، جلد:2، صفحہ:509.
(2) `خُلاصَۃُ الفتاوٰی`، جلد:4، صفحہ:388.
(3) `فتاویٰ رضویہ`، جلد:21، صفحہ:129.

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 

والله تعالیٰ اعلم باالصواب

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.