بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوش آمدید

Sada e Qalb
The voice of our heart
آپ کی آمد ہمارے لیے باعثِ مسرت ہے
Sada e Qalb
The Voice of our heart

Sada E Qalb

صداۓ قلب
مؤسس: محمد کونین الصدیقی المصباحی
کسی اچھی اور معیاری تحریر کا مطالعہ انسان سے انسانیت تک کا ایک مکمل سفر ہے، ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحریر انسانی فکرونظرکو معراج کی آخری سرحد تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،آئیں مطالعے کے اس سفر میں قدم قدم ساتھ چلتے ہیں۔

عالم کو برا کہنے والے کا حکم

اگر کوئی عالم دین کو بُرا کہتا ہو تو اسے کافر کہ سکتے ہیں؟


عالم کو برا کہنے والے کا حکم مسئلہ محمد اویس العطاری المصباحی

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم 
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
`

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

نہیں، عالمِ دین کی برائی کرنے والے کو مطلقاً کافر نہیں کہ سکتے۔

اس مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ اگر کوئی شخص سُنی صحیحُ العقیدہ عالمِ دین کو بُرا اس کے علم کی وجہ سے کہتا ہے تب تو یہ کفر ہے اور اگر کسی دُنیوی دشمنی کی وجہ سے گالی دیتا ہے تو یہ سخت حرام ہے اور اگر بلا وجہ اس سے بغض رکھتا ہے تو یہ دل کی بیماری ہے دوا لینی چاہیے اس پر کفر کا اندیشہ ہے۔

مَجْمَعُ الْاَنھر  میں ہے:اَلْاِسْتِخْفَافُ بِالاَشْرَافِ وَالْعُلَمَاءِ کُفْرٌ “ 
 یعنی اشراف (ساداتِ کرام) اور عُلَما  کی تحقیر (انہیں گھٹیا جاننا) کفر ہے۔ (1)

  خُلاصۃ الفتاویٰ میں ہے:”مَنْ اَبْغَضَ عَالِماً مِنْ غَیْرِ سَبَبٍ  ظَاھِرٍ خِیْفَ عَلَیْہِ الْکُفْر یعنی جو بلا کسی ظاہری وجہ کے عالِم دین سے بُغض رکھے اُس پر کُفر کا خوف ہے۔ (2)

 اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  عالِم دین کو بُرا کہنے کے تعلق سے فرماتے ہیں:”اگر عالم کو اس لیے برا کہتاہے کہ وہ عالم ہے جب تو صریح کافر ہے اور اگر بوجہ علم اس کی تعظیم فرض  جانتا ہے مگر اپنی کسی دنیوی خصومت کے باعث برا کہتاہے گالی دیتا تحقیر کرتاہے تو سخت فاسق فاجر ہے اگر بے سبب رنج رکھتاہے تو مریض القلب خبیث الباطن ہے اور اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔  خلاصہ میں ہے:

من ابغض عالما من غیر سبب ظاھر خیف علیہ الکفر ۔ جو کسی عالم سے بغیر سبب ظاہری کے عداوت رکھتاہے اس کے کفر کا 
اندیشہ ہے۔ (3)


(1) `مَجْمَعُ الْاَنْھَر`، جلد:2، صفحہ:509.
(2) `خُلاصَۃُ الفتاوٰی`، جلد:4، صفحہ:388.
(3) `فتاویٰ رضویہ`، جلد:21، صفحہ:129.

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
=====================================================================================
مزید پڑھیں 👇🏻 

0 Response to "عالم کو برا کہنے والے کا حکم "

Post a Comment

Article Top Ads

Central Ads Article 1

Middle Ads Article 2

Article Bottom Ads

-->