حاملہ عورت کا روزہ رکھنا کیسا ہے؟


حاملہ عورت کا روزہ رکھنا کیسا ہے؟



بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`



اگر بچے یا اس عورت کو یقیناً کوئی پرابلم نہ ہو تو، روزہ رکھنا فرض ہے اور اگر روزہ رکھ کر بچے یا اس عورت کو خطرہ ہو تو حاملہ کو روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے لیکن بعد میں فقط قضا کرے گی، کفارہ نہیں۔ اور نہ ہی فدیہ دے گی۔ بعض جاہلوں نے یہ خیال کر لیا ہے کہ روزے کا فدیہ ہر شخص کے لئے جائز ہے جبکہ روزے میں اسے کچھ تکلیف ہو، ایسا ہرگز نہیں، فدیہ صرف شیخ فانی کے لیے رکھا ہے جو بہ سبب پیرانہ سالی حقیقۃً روزہ کی قدرت نہ رکھتا ہو، نہ آئندہ طاقت کی امید کہ عمر جتنی بڑھے گی ضُعف بڑھے گا اُس کے لیے فدیہ کا حکم ہے، اور جو شخص روزہ خود رکھ سکتا ہو اور ایسا مریض نہیں جس کے مرض کوروزہ مضر ہو، اس پر خود روزہ رکھنا فرض ہے اگر چہ تکلیف ہو۔ بھوک پیاس گرمی خشکی کی تکلیف تو گویا لازم روزہ ہے اور اسی حکمت کے لیے روزہ کا حکم فرمایا گیا ہے، اس کے ڈر سے اگر روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہوتو معاذاﷲ روزے کا حکم ہی بیکارومعطل ہوجائے۔

”ابو داؤد و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ انس بن مالک کعبی رضی اﷲ تعالیٰ عنه“ سے راوی، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:”إن الله وضع عن المسافر شطر الصلاة، والصوم عن المسافر وعن المرضع والحبلى“ یعنی اللہ تعالٰی نے مسافر سے آدھی نماز معاف فرما دی اور روزہ مسافر، دودھ پلانے والی اور حاملہ سے۔ (جامع الترمذي ، أبواب الصوم، باب ماجاء في الرخصة في الإفطار للحبلی والمرضع، الحدیث:715، جلد:2، صفحة170)


”خاتم المحققين حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَةُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَيْهِ“ اس حدیث کے تحت لكھتے ہیں:”افطار مرمرضع وحبلی را بر تقدیرے است کہ اگر زیاں کند بچہ را یا نفس ایشاں را‘‘ یعنی دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت صرف اس صورت میں ہے کہ بچہ کو یا خود اس کو روزہ سے نقصان پہنچے۔ (ورنہ رخصت نہیں ہے)۔ (أشعة اللمعات، کتاب الصوم، باب صوم المسافر، الفصل الثانی، جلد:2، صفحة:100)


”فتاویٰ عالمگیری“ میں ہے:الحامل والمرضع إذا خافتا على أنفسهما أؤ ولدهما أفطرتا وقضتا، ولا كفارتا عليهما كذا في الخلاصة“ یعنی حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو جب اپنی یا بچے کی جان کا اندیشہ ہو تو وہ روزہ چھوڑ سکتی ہیں اور اس کی قضا کریں گی، ان دونوں پر اس کا کفارہ نہیں۔ اسی طرح خلاصہ میں ہے۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الصوم، الباب الخامس في الأعذار التي تبيح الإفطار، الجزء الأول، صفحة:228، دار الكتب العلمية بيروت)


حاملہ عورت پر بھی روزے کی قضا ہی واجب ہے، وہ فدیہ نہیں دے سکتی، چنانچہ ”مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ” فرماتے ہیں:”خیال رہے کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت پر بھی روزے کی قضاء ہی واجب ہے وہ فدیہ نہیں دے سکتیں، یہ ہی ہم احناف کا مذہب ہے یہ دونوں اس حکم میں مسافر کی طرح ہیں، نیز ان دونوں عورتوں کو قضاء کی اجازت جب ہے جب کہ انہیں روزہ سے اپنے بچہ پر خوف ہو۔ اشعہ نے فرمایا کہ مالدار عورت جس کا بچہ دودھ پیتا ہو وہ بچہ کے لیے دودھ پلائی رکھے اور خود روزہ رکھے۔“ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد:3، صفحة:186، تحت الحدیث:2025)

فدیہ شیخ فانی کے لیے ہے، چنانچہ ”کنز الدقائق“ میں ہے:” للشیخ الفانی وھو یفدی“ یعنی شیخ فانی فدیہ ادا کرے۔ (کنز الدقائق، فصل في العوارض، صفحة:70)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

مزید پڑھیں 👇🏻 







Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.