شبِ براءت کا روزہ رکھنا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
شبِ براءت کا روزہ جائز ومستحسن ہے، حضور ﷺ اکثر شعبان کے روزے رکھتے تھے اور 15 شعبان المعظم کا روزہ رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی۔
حضور ﷺ شعبان المعظم کے اکثر روزے رکھتے تھے، چنانچہ ”سنن ابن ماجہ“ میں حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزوں کے متعلق سوال ہوا، تو فرمایا:”کان یصوم شعبان کله حتی یصله برمضان“ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (گویا) مکمل شعبان کے روزے رکھتے تھے حتی کہ رمضان سے ملا دیتے۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الصیام، باب ما جاء فی وصال شعبان برمضان، صفحہ:119)
دوسری حدیث پاک میں ہے:”عن عائشة، أنها قالت:ما رأيت النبي ﷺ في شهر أكثر صياماً منه في شعبان.“ یعنی روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں حضور اقدسﷺ کو شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزہ رکھتے میں نے نہ دیکھا۔ (جامع الترمذي، أبواب الصوم، باب ماجاء في وصال شعبان برمضان، الحدیث:736، المجلد الثاني، صفحة:182)
حضور ﷺ نے 15 شعبان المعظم کو روزہ رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی، چنانچہ حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:”إذا كانت ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلها وصوموا نهارها فإن الله تعالى ينزل فيها لغروب الشمس إلى سماء الدنيا فيقول ألا من مستغفر لي فاغفر له ألا مسترزق فارزقه ألا مبتلى فاعافيه ألا كذا ألا كذا حتى مطلع الفجر“ یعنی شبِ براءت جب آئے شب میں جاگو اور مصروفِ عبادت رہو اور دن میں (15 شعبان) کا روزہ رکھو۔ اللہ تعالیٰ اس شَب غروبِ آفتاب کے وقت سے آسمانِ دُنیا کی طرف نُزُول فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے؟ جسے میں بخش دوں۔ کوئی روزی طلب کرنے والا ہے؟ جسے میں روزی دوں۔ کیا کوئی مُبتلا ہے؟ جسے میں عافیت عنایت فرماؤں۔ اِسی طرح طُلوعِ فجر تک اپنے حاجت مندوں کو اپنی رحمت کی طرف بُلاتا ہے۔ (سنن ابنِ ماجہ، أبواب إقامة الصلوات ۔۔۔إلخ ، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان، الحديث:1388، 2/160)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی
-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

