ناپاکی کی حالت میں روزہ رکھنا کیسا ہے؟


 ناپاکی کی حالت میں روزہ رکھنا کیسا ہے



بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`


    ناپاکی کی حالت میں روزہ رکھنے سے روزہ میں کوئی نَقص و خلل نہ آئے گا روزہ درست ہو جائے گا، بلکہ اگرچہ سارے دن جُنُب رہا روزہ نہیں جائے گا کہ طہارت باجماعِ ائمہ اربعہ شرطِ صوم نہیں۔ مگر اتنی دیر تک قصداً غسل نہ کرنا کہ نماز قضا ہو جائے گناہ و حرام ہے۔ لہذا اگر رات کو جنب ہو تو بہتر یہی ہے کہ قبلِ طلوعِ فجر نہالے کہ روزے کا ہر حصہ جنابت سے خالی ہو۔ 

   بحالتِ جَنابت صبح کرنا مانعِ صحتِ روزہ نہیں حضور ﷺ نے عملا اُس کا بے نقص و بے خلل ہونا فرمادیا، چنانچہ صحیحین میں أم المومنین حضرتِ عائشہ صدیقہ و أم المومنین أُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے ہے:”أن رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کان یدرکه الفجر وھو جنب من اھله ثم یغتسل و یصوم“ یعنی رسول اﷲ ﷺ ازواجِ مطہرات سے قربت فرماتے اور صبح ہو جاتی جب تك نہ نہاتے اس کے بعد غسل فرماتے اور روزہ رکھتے۔ (الصحیح بخاری، باب الصائم يصبح جنباً، 1/258) 

   ”صحیح مسلم ومؤطا مالك و سُنن ابی داؤد ونسائی“ میں اُمّ المؤمنین صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ہے:”أن رجلا قال لرسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیه وسلم وھو واقف علی الباب وأنا أسمع یا رسول اﷲ إنی اصبح جنبا وأنا أرید الصیام فقال رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وانا اصبح جنبا وأنا أرید الصیام فاغتسل واصوم فقال الرجل یا رسول اﷲانك لست مثلنا قد غفراﷲلك ما تقدم وما تأخر فغضب رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیه وسلم وقال انی ارجوان اکون اخشٰیکم ﷲ اعلمکم بما اتقی“ یعنی حضور پُر نور ﷺ اپنے دراوزہ اقدس کے پاس کھڑے تھے ایك شخص نے حضور سے عرض کی اور میں سُن رہی تھی کہ یارسول اﷲ! میں صبح کو جنب اٹھتا ہوں اور نیت روزے کی ہوتی ہے حضور ﷺ نے فرمایا میں خود ایسا کرتا ہُوں اُس نے عرض کی حضور کی ہماری کیا برابری، حضور کو تو اﷲعزوجل نے ہمیشہ کے لیے پُوری معافی عطا فرمادی ہے۔ اس پر حضور اقدسﷺ غضب ناك ہُوئے اور فرمایا: بیشك میں امید رکھتا ہوں کہ مجھے تم سب سے زیادہ اﷲعزوجل کاخوف ہے اور میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں جن جن باتوں سے مجھے بچنا چاہئے۔ (سنن أبي داؤد، كتاب الصائم، 1/325) 

   ہمارے علمائے کرام نے آیات واحادیث سے ثابت فرمایا کہ اگر تمام دن جنب رہا جب بھی روزہ کو کچھ مضر نہیں، چنانچہ ”مراقی الفلاح“ میں ہے:”(أو أصبح جنباً، ولو استمر) علی حالته یوما أو أیاما لقوله تعالٰی فالئن باشروھن لاستلزام جواز المباشرۃ إلی قبیل الفجر وقوع الغسل بعد ضرورۃ وقوله صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وأنا اصبح جنبا وأنا أرید الصیام واغتسل وأصوم“ یعنی یا کسی نے حالتِ جنب میں صبح کی اگر چہ وُہ اسی حالت میں ایك دن یا کئی دن رہا، کیونکہ اﷲتعالیٰ کا ارشاد گرامی ”اب تم مباشرت کرسکتے ہو“ اس بات کا متقضی ہے کہ فجر سے تھوڑا سا پہلے تك مباشرت جائز ہو اور اس کے بعد غسل لازم ہو، اور حضورﷺ کا ارشاد گرامی ”میں نے حالتِ جنابت میں صبح کی ہے اور میں روزے کا ارادہ رکھتا ہوں میں غسل کروں گا اور روزہ رکھوں گا۔ (مراقی الفلاح، كتاب الصوم، باب في بيان ما لا يفسد، صفحة:661، دار الكتب العلمية بيروت)

   ”در مختار“ میں ہے:”(أؤ أصبح جنباً) إن بقي كل اليوم... (لم يفطر).“ یعنی یا روزہ دار نے صبح ناپاکی کی حالت میں کی اگرچہ سارے دن ناپاک رہا، روزہ نہیں گیا۔ (الدر المختار، كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، الجزء الثالث، صفحة:373، دار عالم الكتب رياض) 

   ”بحر الرائق“ میں ہے:”لو أصبح جنباً لا يضره كذا في المحيط.“ یعنی اگر روزہ دار نے صبح ناپاکی کی حالت میں کی تو اس کے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، جیسا کہ محیط میں مذکور ہے۔ (البحر الرائق، کتاب الصوم، باب ما یفسد وما لا یفسدہ، جلد:2، صفحة:472) 


   ”فتاویٰ عالمگیری“ میں ہے”ومن أصبح جنباً أو احتلم في النهار لم يضره كذا في محيط السرخسي.“ یعنی جس نے صبح ناپاکی کی حالت میں کی یا اُسے دن میں احتلام ہوا، اُس کے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، جیسا کہ محیطِ سرخسی میں مذکور ہے۔ (الفتاوی الھندیة، کتاب الصوم، الباب الثالث فيما يكره للصائم وما لا يكره، الجزء الأول، صفحة:220، دار الكتب العلمية بيروت) 


   والله تعالٰی اعلم بالصواب

 كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

مزید پڑھیں 👇🏻 

  اُلٹی آنے سے روزہ کب ٹوٹتا ہے۔



Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.