شوہر کا ناپاک کپڑا اگر بیوی دھوے تو کیا شوہر کے لیے پاک ہوگا..؟




شوہر کا ناپاک کپڑا اگر بیوی دھوے تو کیا شوہر کے لیے پاک ہوگا..؟


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

پوچھی گئی صورت میں شوہر کا ناپاک کپڑا اگر بیوی دھوئے تو اس صورت دیکھا جائے گا کہ نجاست گر غیر مرئیہ ہو(یعنی سوکھ جانے کے بعدجس کی جسامت کپڑے کی سطح سے ابھری ہوئی نظرنہ آئےجیسے پیشاب وغیرہ) تو ایسی نجاست اگرکپڑے پرلگے اور کپڑا ایسا ہو کہ اسےنچوڑا جاسکتا ہے تو اب اگر پانی سے نجاست صاف کی جائے تو اس کوتین مرتبہ اس طرح دھونا ضروری ہوتاہے کہ ہر مرتبہ اس حدتک نچوڑا جائے کہ مزیدنچوڑنے سے قطرہ نکلے اور شوہر بھی اگر نچوڑتا تو پانی کا قطرہ نہ نکلتا تو یہ کپڑا شوہر کے حق میں پاک ہے کیونکہ یہ معاملہ طاقت وقوت کے مختلف ہونے سے مختلف ہوتاہے۔ شوہر اگر کپڑے کو نچوڑے تو اس سے مزید قطرہ ٹپک جائے، تواس صورت میں شوہر کے حق میں ناپاک اور بیوی کے حق میں پاک ہوگا۔


اور اگر نجاست اگرمرئیہ ہو(یعنی سوکھ جانے کے بعدجس کی جسامت کپڑے کی سطح سے ابھری ہوئی نظرآئے،جیسے پاخانہ،منی وغیرہ) تو ایسی نجاست کا عین ختم کرنا ضروری ہے اس میں طاقت کا اعتبار نہیں۔

یوں ہی اور اگر نجاست غیرمرئیہ ہو(یعنی سوکھ جانے کے بعدجس کی جسامت کپڑے کی سطح سے ابھری ہوئی نظرنہ آئےجیسے پیشاب وغیرہ) تو ایسی نجاست اگر کپڑے پرلگے اور کپڑا ایسا ہو کہ اسے نچوڑا نہیں جاسکتا، جیسے وہ اتنانازک ہے کہ بقوت نچوڑنے سے پھٹ جائے گا یا اتنا موٹا ہے کہ اسے نچوڑنا ممکن نہیں جیسے رضائی، کمبل وغیرہ تو ایسی صورت میں اس نجاست کودورکرنے کے لیے تین مرتبہ اس طرح دھوناضروری ہوتاہے کہ ہرمرتبہ دھونے کے بعداسے چھوڑ دیا جائے کہ پانی ٹپکنا بند ہو جائے ،اس صورت میں جب تیسری مرتبہ دھونے کے بعد، اس سے پانی گرنا بند ہوجائے گا تو وہ سب کے حق میں پاک ہوجائے گا، اس صورت میں چونکہ کپڑے کونچوڑنے کی ضرورت نہیں پڑتی، اس لیے پاک کرنے والا طاقتور ہو یا کمزور اس سے فرق نہیں پڑتا۔

اس مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ نجاست اگر مرئیہ ہو یعنی خشك ہونے کے بعد بھی نظر آئے تو اُس کی تطہیر میں عدد اصلا شرط نہیں بلکہ زوال عین درکار ہے خواہ ایك بار میں ہو جائے، جیسا کہ ”در مختار“ میں ہے:یطھر محل نجاسة مرئية بعد جفاف بزوال عینھا واثرھا ولو بمرۃ أو بما فوق ثلث في الأصح ولا یضر بقاء اثرکلونٍ وریح لازم فلا یکلف في إزالة الٰی ماء حار أو صابون ونحوہ اھ ملخصا“ یعنی اصح قول کے مطابق نظر آنے والی نجاست کی جگہ سے عینِ نجاست اور اس کا اثر دُور کیا جائے، خواہ ایك مرتبہ سے یا تین سے بھی زیادہ مرتبہ سے دور ہو تو خشك ہونے کے بعد پاك ہوجاتی ہے ، اور ایسا اثر جو اس کے لئے لازم ہوچکا ہے (یعنی دور نہیں ہوتا) مثلًا رنگ اور بُو ، تو اسے گرم پانی یا صابن وغیرہ کے ساتھ دُور کرنے کی تکلیف نہیں دی جائے گی اھ ملخصا۔ (الدر المختار، کتاب الطھارۃ، 1/56)

اگر نجاست رقیق(یعنی پتلی جیسے پیشاب وغیرہ) ہو تو تین مرتبہ دھونے اور تینوں مرتبہ بَقُوَّت (یعنی پوری طاقت سے) نچوڑنے سے پاک ہوگا، چنانچہ ”فتاویٰ عالمگیری“ میں ہے:”وإن غير مرئية يغسلها ثلاث مرات كذا في المحيط، ويشترط العصر في كل مرة فيما ينعصر ويبالغ في المرة الثلاثة حتى لو عصر بعده لا يسيل منه الماء ويعتبر في كل شخص قوته“ یعنی اگر وہ نجاست غیر مرئیہ ہے تو اسے (دور کرنے کے لیے) تین مرتبہ دھوئے گا ایسا ہی محیط میں ہے، اور جو چیز نچوڑی جا سکتی ہے اسے ہر بار نچوڑنا شرط ہے۔ اور تیسری بار خوب اچھی طرح نچوڑ لے حتی کہ اگر اس کے بعد پھر نچوڑے تو اس چیز سے پانی نہ بہے اور ہر شخص کے لیے اس کی اپنی قوت معتبر ہے۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، الباب السابع في النجاسة وأحكامها، الفصل الأول في تطهير الأنجاس، الجزء الأول، صفحة:47، دار الكتب العلمية بيروت)

کپڑا نچوڑنے میں اپنا اعتبار ہے دوسرے کا اعتبار نہیں، چنانچہ ”رد المحتار“ میں ہے:قوله:(طهر بالنسبة إليه) لأن كل أحد مكلف بقدرته ووسعه ولا يكلف أن يطلب من هو أقوى ليعصر ثوبه. شرح المنية. قال في البحر:خصوصاً على قول أبي حنيفة:إن قدرة الغير غير معتبرة، وعليه الفتوى.“ یعنی کیونکہ ہر ایک اپنی قوت اور وسعت کے ساتھ مکلف ہے۔ اسے مکلف نہیں کیا جائے گا کہ وہ ایسے شخص کو طلب کرے جو زیادہ قوی ہو تاکہ وہ اس کے کپڑوں کو نچوڑے ”شرح المنية“۔ ”البحر“ میں فرمایا:خصوصاً امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے قول پر۔ کیونکہ غیر کی طاقت معتبر نہیں ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطهارة، باب الأنجاس، مطلب في حكم الوشم، الجزء الأول، صفحة:541، دار عالم الكتب رياض)

جو چیز نچوڑنے کے قابل نہیں یا جو کپڑا اپنی نازکی کے سبب نچوڑنے کے قابل نہیں اسے دھو کر چھوڑ دیں کہ پانی ٹپکنا موقوف ہو جائے اس طرح تین مرتبہ کریں وہ چیز پاک ہو جائے گی، چنانچہ البحر الرائق میں ہے:”قوله:(وبتثليث الجفاف فيما لا ينعصر) أي ما لا ينعصر فطهارته غسله ثلاثاً وتجفيفه في كل مرة لأن للتجفيف أثراً في استخراج النجاسة وهو أن يتركه حتى ينقطع التقاطر، ولا يشترط فيه اليبس.“ یعنی جو چیز نچوڑی نہیں جا سکتی تو اس کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو تین مرتبہ دھو کر ہر مرتبہ جشک کر لیں؛ کیونکہ خشک کرنے سے نجاست نکالنے میں اثر ہوتا ہے اور خشک کرنے کی حد یہ ہے کہ اس کو اتنا چھوڑ دیا جائے کہ قطرے ٹپکنا بند ہو جائیں، اور اس میں مکمل خشک ہونا شرط نہیں۔ (البحر الرائق، كتاب الطهارة، باب الأنجاس، الجزء الأول، صفحة:413)

اگر ناپاک کپڑا بہتے پانی میں پڑا رہنے دیں اور غالبِ گُمان ہو جائے کہ پانی نجاست کو بَہا لے گیا تو پاک ہو گیا، چنانچہ ”در مختار“ میں ہے:”أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثير، أو جرى عليه الماء طهر مطلقاً بلا شرط عصر وتجفيف وتكرار غمس هو المختار.“ رہا یہ کہ اگر کسی تالاب میں دھویا گیا ہو یا اس پر زیادہ پانی بہایا گیا ہو یا اس پر پانی جاری ہو تو مطلقاً نچوڑنے، خشک کرنے اور بار بار غوطہ دینے کی شرط کے بغیر پاک ہو جائے گا۔ یہی مختار ہے (الدر المختار، كتاب الطهارة، باب الأنجاس، الجزء الأول، صفحة:543، دار عالم الكتب رياض)


ناپاک کپڑے پاک کرنے کا آسان طریقہ بیان کرتے ہوئے ”امیر اہلِ سنت مولانا الیاس عطار قادری دامت برکاتهم العالية“ لکھتے ہیں:” یہ ہے کہ کسی بالٹی یا ٹب وغیرہ میں ناپاک کپڑے ڈال کر اُوپر سے نل کھول دیں، کپڑوں کوہاتھ یا کسی سَلاخ وغیرہ سے اِس طرح ڈَبوئے رکھیں کہ کہیں سے کپڑے کا کوئی حِصہ پانی کے باہَر اُبھرا ہوا نہ رہے۔ جب بالٹی کے اُوپرسے اُبل کر اتنا پانی بہ جائے کہ ظنِّ غالِب ہوجائے کہ پانی نَجاست کو بہا کر لے گیا ہوگا تو اب وہ کپڑے اور بالٹی کا پانی نیز ہاتھ یا سلاخ کاجتنا حصّہ پانی کے اندر تھاسب پاک ہوجائیں گے جبکہ کپڑے وغیرہ پرنَجاست کااثر باقی نہ ہو، اس صورت میں نچوڑنے کی ضرورت نہیں۔


مذکورہ طریقے پر پاک کرنے کیلئے بالٹی یا برتن ہی ضَروری نہیں، نل کے نیچے ہاتھ میں پکڑ کر بھی پاک کرسکتے ہیں۔ مَثَلاً رومال ناپاک ہوگیا، تو بیسَن میں نل کے نیچے رکھ کر اتنی دیر تک پانی بہائیے کہ ظنِّ غالِب آجائے کہ پانی نَجاست کو بہا کر لے گیا ہو گا تو پاک ہو جائے گا۔ بڑا کپڑا یا اس کا ناپاک حصّہ بھی اسی طریقے پرپاک کیا جاسکتا ہے۔ مگر یہ احتیاط ضَروری ہے کہ ناپاک پانی کے چھینٹے آپ کے کپڑے، بدن اور اَطراف میں دیگر جگہوں پر نہ پڑیں۔ (کپڑے پاک کرنے کا طریقہ (مع نجاستوں کا بیان)، صفحہ:30-33، مطنوعہ مكتبة المدينة دعوت اسلامی)


والله تعالیٰ اعلم بالصواب

كتبــــــــــــــــه:محمد اُویس العطاری المصباحی
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مزید پڑھیں 👇🏻 













Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.