पेशाब करते वक़्त उसकी बूँद जिस्म मे नही लगना चाहिए लेकिन सर्दियों मे जो उसकी भाप निकलती है उससे कैसे बचे?
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ناپاک چیز کا دھواں یا بھاپ اگر بدن یا یا کپڑے کو لگ جائے تو کپڑا یا بدن ناپاک نہیں ہوگا، ہاں اگر نجاست کا اثر اس میں ظاہر ہو جائے تو ناپاک ہو جائے گا۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں سردیوں میں پیشاب کرتے وقت جو بھاپ نکلتی ہے اس سے کپڑے یا بدن ناپاک نہیں ہوں گے۔ لیکن اگر کپڑے یا بدن میں نجاست کا اثر ظاہر ہو گیا تو ناپاک ہو جائیں گے۔
علامہ علاؤالدین حصکفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:”طين شارع وبخار نجس، وغبار سرقين عفو“ یعنی راستے کی کیچڑ، نجاست کے بخارات اور گوبر کا غبار معاف ہیں۔ (الدرالمختار مع شامی ملتقطا، جلد1،صفحہ 583 ۔584)
علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:”والعفو مقید بما اذا لم یظھر فیہ اثر النجاسۃ“ یعنی اور معاف ہونا مقید ہے اس کے ساتھ کہ جب تک اس میں نجاست کا اثر ظاہر نہ ہو۔ (ردالمحتار، جلد1،صفحہ 583،مطبوعہ:کوئٹہ)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:”ما یصیب الثوب من بخارات النجاسات لا یتنجس بھا و ھو الصحیح ھکذا فی الظہیریة دخان النجاسة اذا اصاب الثوب او البدن الصحیح انہ لا ینجسہ ھکذا فی السراج الوھاج“ یعنی نجاستوں کے جوبخارات کپڑوں پر لگ جائیں،تو کپڑے ناپاک نہ ہوں گےاور یہی صحیح ہے، ایسا ہی ظہیریہ میں مذکور ہے۔ نجاست کا دھواں اگر کپڑے یا بدن کو لگے، تو صحیح یہ ہے کہ وہ کپڑا نجس نہیں ہوگا، ایسا ہی السراج الوہاج میں مذکور ہے۔ (فتاوی عالمگیری، كتاب الطهارة، الباب السابع في النجاسة وأحكامها،الفصل الثاني، الجزء الأول، صفحة:52، دار الكتب العلمية، بيروت)
والله تعالىٰ أعلم بالصواب
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

