حضرت علامہ مفتی احمد رضا مصباحی حنفی رضوی زید اقبالہ و عمرہ
از قلم: محمد کونین صدیقی کٹیہاری۔ابن حاجی عبد المنان عفر لہما
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ہر زمانے میں کچھ ایسے علم و فضل کے مینار پیدا ہوتے ہیں جن کی علمی اور روحانی روشنی سے ایک جہان منور و تابندہ ہوتا ہے، یہ شخصیات علم و ادب کے سمندر میں گوہر نایاب کی مانند ہوتی ہے جن کی تحریریں اور خدمات علم کے پیاسے دلوں کو سیراب کرتی ہے اور روحانی دنیا میں ہدایت کا چراغ بن کر روشنی بکھرتی ہیں ایسے ہی ایک علمی اور روحانی ہستی جنہوں نے اپنی تعلیمی تقریری تدریسی اور تصنیفی خدمات سے امت مسلمہ کو فیضیاب کیا وہ ذات مفتی احمد رضا مصباحی غفرلہ کی ہے،
نام: محمد احمد رضا
والد: حضرت علامہ محمد الیاس اشرفی قادری علیہ الرحمہ، المعروف: بلبل بنگال، (یہ وہ شخصیت ہیں جو محتاج تعارف نہیں عوام و خاص میں ایک منفرد المثال مقرر تھے)۔
ںمسکونہ: کنٹھی گچھ (نیچا کھالی)، پوسٹ: داسپاڑا، تھانہ: چوپڑا، ضلع: اتردیناجپور، صوبہ: مغربی بنگال ہندوستان۔
تاریخ پیدائش: ٤/ جولائی ١٩٨٤ء
:تعلیمی سفر
مصنف کی علمی تشنگی کا آغاز مقامی اسکول سے ہوا جہاں انہوں نے بنگلہ، انگریزی اور ہندی زبانوں میں ابتدائی تعلیم حاصل کی، دینیات کی تعلیم اپنے والد بزرگوار کی خصوصی نگرانی میں حاصل کرنے کے بعد سن ١٩٩٨ء میں حفظ کا آغاز کیا اور ١٩٩٩ء میں گلشن بغداد رامپور، یوپی، میں داخلہ لیا اور سن ٢٠٠٠ء میں فرزندِ غوث اعظم حضرت سیدنا عبداللہ شاہ قادری بغدادی علیہ الرحمہ کے عرس مقدس کے پر بہار موقع پر اساتذہ گلشن بغداد کی موجودگی میں خلیفہ حضور مفتی اعظم ہند و قاضی شہر رام پور حضرت سید شاہد میاں نور اللہ مرقدہ کے دست مبارک سے فراغت حفظ قرآن کی دستار بندی ہوئی،
:اعلیٰ تعلیم
مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے سن ٢٠٠١ء میں أزهر الہند الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور، اعظم گڑھ، یوپی، میں درجہ اعدادیہ میں داخلہ لیا یہیں سے قرأت حفص اور قرأت سبعہ، عالمیت اور ٢٠٠٩ء میں فضیلت کی دستار بندی سے سرفراز ہوئے،
بعد ازاں اس چمن درخشندہ سے فراغت کے بعد مدرسہ شمس العلوم گھوسی، مئو، یوپی، میں حضرت بحر العلوم علامہ عبدالمنان اعظمی علیہ الرحمہ کی خدمت بابرکت میں تخصص فی الفقہ اور مشق افتا کا کورس مکمل کرکے ٢٠١١ء میں دستار و سند سے نوازے گئے،
:اساتذہ
والد ماجد بلبلِ بنگال علامہ الیاس اشرفی قادری علیہ الرحمہ
بحر العلوم مفتی عبدالمنان اعظمی علیہ الرحمہ
تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان قادری علیہ الرحمہ،
محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفی مدظلہ العالی والنورانی،
محدث جلیل علامہ عبدالشکور مصباحی علیہ رحمہ،
خیر الاذکیا علامہ محمد احمد مصباحی عفی عنہ،
سراج الفقہا مفتی نظام الدین رضوی عفرلہ،
علامہ مفتی ممتاز عالم مصباحی مد ظلہ العالی و النورانی،
:بیعت و خلافت
ماضی قریب کی ایک عظیم ہستی قاضی القضاة فی الہند حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان قادری نور اللہ مرقدہ سے مرشد بیعت حاصل کی اور مرشد خلافت سے بھی سرفراز ہوئے،
ماہر الہیات شیخ الاسلام علامہ سید محمد مدنی میاں اشرفی جیلانی مد ظلہ العالی،
نیز حضور غیاث ملت علامہ سید غیاث الدین احمد قادری ترمذی مدظلہ العالی و النورانی۔
:تدریسی خدمات
مادرِ علمی گلشنِ بغداد رامپور یوپی،
جامعہ چشتیہ ردولی شریف،
جامعہ ضیاء العلوم کالپی شریف،
دارالعلوم قادریہ کنٹھی گچھ نیچاکھالی داسپاڑا،
جامعہ اہل سنت جوہر العلوم گنجریا اسلام پور۔
(جامعہ ہذا میں زیر تدریس ہیں)
: تصانیف مطبوعہ
مصنف کی علمی و ادبی خدمات، ان کی تصنیفی مہارت اور تدریسی کاوشیں ایک روشن مثال ہے ان کے علم و فضل کی روشنی میں کئی دلوں کو منور کیا اور دینی علوم کی ترویج میں ان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے، جن کی شائع کردہ تصانیف درج ذیل ہیں:
۱. تازیانہ بر محبین عام دیابنہ،
۲. قہر ربانی بر فتنہ شیطانی،
۳. تذکرہ غوثیہ از افادات رضویہ،
٤. سوت پیر کی اصلیت اور گانے بجانے کی ممانعت،
٥. بعث بعد الموت کا عقیدہ قرآن مجید کی روشنی میں،
٦. المذہب المشہور فی زیارت القبور،
٧. اسلام کا پیغام تعلیم،
٨. فیض الاکابر فی احکام المقابل (مسائل قبرستان) ۔
:غیر مطبوعہ تصانیف
حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کی کنیت اور تابعیت،
بارہ خواجگان چشت کا مختصر تعارف،
حالات زندگی بلبل بنگال علامہ محمد الیاس اشرفی قادری علیہ الرحمہ،
فرضی اور غیر معتبر مزارات کے احکام۔
ترجمہ،تخریج، تحشیہ و تقدیم مع تربیت جدید،
تنویر الصحیفہ فی تابعیت ابی حنیفہ از علامہ عبدالباری فرنگی محلی،
العمل المغفور فی زیارت القبور از علامہ عبدالباری فرنگی محلی،
تذکرہ سجادگان حضرت مخدوم عبدالحق ردولوی علیہ الرحمہ،
ضیائے محمدی (حالات حضرت مخدوم سید محمد ترمذی کالپوی علیہ الرحمہ۔
مفتی احمد رضا مصباحی کی علمی و ادبی خدمات نے نہ صرف ان کے نام کو عزت و احترام کے اعلیٰ مقام پر پہنچایا، بلکہ ان کی محنت و لگن نے علم و معرفت کی شمع کو ہمیشہ روشن رکھا ہے۔ ان کی تصانیف میں دینی بصیرت، فقہی مہارت، اور روحانی بصارت کی ایسی جھلکیاں ملتی ہیں جو ہر قاری کے دل میں علم کی پیاس بجھانے کی تڑپ پیدا کرتی ہیں۔ان کی تدریسی خدمات نے طلبا کی کئی نسلوں کو علم کے زیور سے آراستہ کیا، اور ان کی تربیت سے بے شمار شاگرد دین کی خدمت کے لیے تیار ہوئے۔ ان کے اساتذہ اور مرشدین نے ان کی تربیت و رہنمائی میں کوئی کسر نہ چھوڑی، جس کی بدولت مفتی صاحب قبلہ نے علمی و دینی میدان میں کئی فتوحات حاصل کیں، موصوف کی تحریریں اور کتابیں آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی ورثہ ہیں، ان کی علمی کاوشیں اور روحانی تعلیمات ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں روشن رہیں گی، اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کا نام علمی و دینی دنیا میں ہمیشہ ایک مثال کے طور پر زندہ رہے گا، اور ان کی کتابیں علم و عرفان کی روشنی بکھیرتی رہیں گی۔بے شک، حضرت کی شخصیت علم و ادب کے آسمان پر ایک چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہے، جن کی روشنی سے آنے والے زمانے بھی مستفید ہوں گے۔ ان کی خدمات اور کاوشیں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں، اور ان کی یادیں ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------


ماشاءاللہ 💌
ReplyDelete