"Sada e Qalb" ایک ایسا بلیغ و دقیق منبرِ فکر ہے جہاں روحِ عصر کی بازگشت اور قلبِ انسانی کی صداے حق یکجا ہوتی ہے، یہاں علومِ دین و ادب کی باریکیاں اور افکارِ اسلامی کی شمعیں اپنے قاری کو فکر کی نئی جہتیں عطا کرتی ہیں، اس بزم میں علم و حکمت کی وہ قدیم روایت سانس لیتی ہے جو قلوب کو جلا بخشتی اور اذہان کو روشنی عطا کرتی ہے۔ہر صاحبِ ذوق کو ایک ایسے معنوی سفر پر لے جاتا ہے جہاں روایت و تحقیق، عشق و فہم، تحقیق و تدبر یکجا جلوہ گر ہیں تا کہ قاری محض مطالعہ نہ کریں، بلکہ فکر و عمل کی نئی راہوں سے آشنا ہے
کسی اچھی اور معیاری تحریر کا مطالعہ انسان سے انسانیت تک کا ایک مکمل سفر ہے، ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحریر انسانی فکرونظرکو معراج کی آخری سرحد تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،آئیں مطالعے کے اس سفر میں قدم قدم ساتھ چلتے ہیں۔
اٹھارویں صدی سے عصر حاضر تک جب انسان مشینی، تکنیکی ترقی کے عروج پر فائز ہیں، اس سے ان کی زندگی میں تفریح کے ذرائع بھی اسی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، اس فکری اور ثقافتی تبدیلی کے محور پر، ڈرامے اور فلمیں بلاشبہ ایک ممتاز مقام رکھتی ہیں، یہ فلمیں اور ڈرامے جہاں ایک طرف ذہن کو ذریعۂ تفریح فراہم کرتے ہیں، بالعکس وہ انسانی شعور، اخلاقیات، اور معاشرتی ساخت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں، ایک طرف یہ مرقع فکر و فن کا ذریعہ بنتی ہیں، تو دوسری طرف ان کے پراگندہ اثرات انسانی معاشرے کے اخلاقی توازن اور اجتماعی شعور کو متزلزل کر رہے ہیں یہ مضمون اسی نازک موضوع پر روشنی ڈالے گا کہ کس طرح یہ تفریحی ذرائع معاشرتی اقدار کو بگاڑنے اور اخلاقی معیارات کو متاثر کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
ایک نکتہ جو اس حوالے سے قابل ذکر ہے، وہ یہ کہ سماجی و ثقافتی اقدار کی تخریب ڈرامے اور فلمیں اکثر غیر اخلاقی و غیر مہذب رویوں کو گلیمرائز کر کے پیش کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں عصر حاضر کے وہ نوجوان نسل جن کے عنفوان شباب کے بنا پہ مادۂ منویہ ابال مار رہے ہو ان رویوں کو قبولیت کا درجہ دے کر معاشرے کو غلیظ بناۓ رکھا ہے، مثال کے طور پر، جرائم، تشدد اور بے حیائی جیسے لا تعداد موضوعات کو عام اور معمولی بنا کر دکھانا، ان کی سنجیدگی کو کم کر دیتا ہے۔
نیز اہم نکتہ مادی اور مالی استحصال ہے، تجارتی مقاصد کے تحت بنائی جانے والی فلمیں اور ڈرامے ناظرین کو غیر ضروری اور مہنگی اشیاء کی خریداری پر مائل کرتے ہیں، ان اسراف سے نہ صرف افراد کو معاشی مشکلات میں مبتلا کرتا ہے، بلکہ مجموعی طور پر سماجی ناہمواری کو بھی بڑھاوا دیتا ہے۔
یہیں تک بس نہیں بلکہ نفسیاتی دباؤ اور ذہنی انتشار، تیز رفتار مناظر، بلند آوازیں، اور مسلسل جذباتی اُتار چڑھاؤ انسان کے اعصابی نظام کو متاثر کرتے ہیں، جس کے باعث لوگ اضطرابی کیفیت، افسردگی، اور دیگر نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان ذرائع ابلاغ کی حد سے زیادہ اور غیر ضروری استعمال ذہنی سکون اور پرسکون زندگی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
ڈرامے اور فلموں کے اداکاروں کی نقالی نوجوان نسل کو غیر حقیقی دنیا میں لے جاتی ہے، جن کے فیشن کا مآل حقیقی زندگی میں دور دور تک نظر نہیں آتا، یہی وجہ ہے کہ عملی زندگی میں ناکامی اور مایوسی کا باعث بنتی ہے، اور ساتھ ہی ساتھ ان کی مغربی طرز زندگی اور لباس کی تقلید سے ثقافتی اقدار زوال پذیر ہوتی ہیں، مہنگے طرز زندگی کی نقالی مالی مشکلات اور قرضوں کا سبب بنتی ہے، غیر اخلاقی مناظر اور رومانوی خیالات سماجی رویوں میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں،
وقت اور وسائل کا ضیاع: بہت زیادہ فلمیں اور ڈرامے دیکھنے سے قیمتی وقت اور وسائل کا ضیاع ہوتا ہے، جو تعلیم، کام اور دیگر مفید سرگرمیوں میں صرف ہو سکتے تھے۔نفسیاتی اثرات: کچھ لوگ فلموں اور ڈراموں کے کرداروں اور کہانیوں میں اس قدر ملوث ہو جاتے ہیں کہ وہ ان کی نفسیاتی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں، جیسے کہ ڈپریشن، اضطراب، اور تنہائی کا احساس۔یہ اہم ہے کہ ناظرین فلموں اور ڈراموں کو تفریح کے طور پر دیکھیں اور ان کے منفی اثرات سے بچنے کے لئے ان پر زیادہ انحصار نہ کریں۔ محتاط انتخاب اور متوازن نقطہ نظر اپنانا ضروری ہے تاکہ ان کے ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔
مذکورہ تمام مسائل کا سدباب ہو سکتا ہے، اس لیے حتی الامکان والدین، اساتذہ، اور رہنماؤں کو نوجوانوں کی تربیت پر زور دینا چاہیے تاکہ وہ حقیقی اقدار اور معیارات کو اپنائیں، اور نسل نو کو صراط مستقیم پر گامزن رکھنے کی عرق ریزی ہی نہیں بلکہ جان کو اصلاح کے غرض سے قربان کردے۔
Link will be apear in 60 seconds.
Well done! you have successfully gained access to Decrypted Link.
Share this post
3 Responses to "انسانی معاشرے میں فلم، ڈرامے کے پراگندہ اثرات"
🥰🥰
ReplyDelete💗💚
ReplyDeleteماشاءاللہ 💌
ReplyDelete