انسانی معاشرے میں ڈرامے،فلم کے پراگندہ اثرات
از قلم: محمد کونین صدیقی کٹیہاری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 🤍
ایک نکتہ جو اس حوالے سے قابل ذکر ہے، وہ یہ کہ سماجی و ثقافتی اقدار کی تخریب ڈرامے اور فلمیں اکثر غیر اخلاقی و غیر مہذب رویوں کو گلیمرائز کر کے پیش کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں عصر حاضر کے وہ نوجوان نسل جن کے عنفوان شباب کے بنا پہ مادۂ منویہ ابال مار رہے ہو ان رویوں کو قبولیت کا درجہ دے کر معاشرے کو غلیظ بناۓ رکھا ہے، مثال کے طور پر، جرائم، تشدد اور بے حیائی جیسے لا تعداد موضوعات کو عام اور معمولی بنا کر دکھانا، ان کی سنجیدگی کو کم کر دیتا ہے۔
نیز اہم نکتہ مادی اور مالی استحصال ہے، تجارتی مقاصد کے تحت بنائی جانے والی فلمیں اور ڈرامے ناظرین کو غیر ضروری اور مہنگی اشیاء کی خریداری پر مائل کرتے ہیں، ان اسراف سے نہ صرف افراد کو معاشی مشکلات میں مبتلا کرتا ہے، بلکہ مجموعی طور پر سماجی ناہمواری کو بھی بڑھاوا دیتا ہے۔یہیں تک بس نہیں بلکہ نفسیاتی دباؤ اور ذہنی انتشار، تیز رفتار مناظر، بلند آوازیں، اور مسلسل جذباتی اُتار چڑھاؤ انسان کے اعصابی نظام کو متاثر کرتے ہیں، جس کے باعث لوگ اضطرابی کیفیت، افسردگی، اور دیگر نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان ذرائع ابلاغ کی حد سے زیادہ اور غیر ضروری استعمال ذہنی سکون اور پرسکون زندگی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
ڈرامے اور فلموں کے اداکاروں کی نقالی نوجوان نسل کو غیر حقیقی دنیا میں لے جاتی ہے، جن کے فیشن کا مآل حقیقی زندگی میں دور دور تک نظر نہیں آتا، یہی وجہ ہے کہ عملی زندگی میں ناکامی اور مایوسی کا باعث بنتی ہے، اور ساتھ ہی ساتھ ان کی مغربی طرز زندگی اور لباس کی تقلید سے ثقافتی اقدار زوال پذیر ہوتی ہیں، مہنگے طرز زندگی کی نقالی مالی مشکلات اور قرضوں کا سبب بنتی ہے، غیر اخلاقی مناظر اور رومانوی خیالات سماجی رویوں میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں،
وقت اور وسائل کا ضیاع: بہت زیادہ فلمیں اور ڈرامے دیکھنے سے قیمتی وقت اور وسائل کا ضیاع ہوتا ہے، جو تعلیم، کام اور دیگر مفید سرگرمیوں میں صرف ہو سکتے تھے۔نفسیاتی اثرات: کچھ لوگ فلموں اور ڈراموں کے کرداروں اور کہانیوں میں اس قدر ملوث ہو جاتے ہیں کہ وہ ان کی نفسیاتی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں، جیسے کہ ڈپریشن، اضطراب، اور تنہائی کا احساس۔یہ اہم ہے کہ ناظرین فلموں اور ڈراموں کو تفریح کے طور پر دیکھیں اور ان کے منفی اثرات سے بچنے کے لئے ان پر زیادہ انحصار نہ کریں۔ محتاط انتخاب اور متوازن نقطہ نظر اپنانا ضروری ہے تاکہ ان کے ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔
مذکورہ تمام مسائل کا سدباب ہو سکتا ہے، اس لیے حتی الامکان والدین، اساتذہ، اور رہنماؤں کو نوجوانوں کی تربیت پر زور دینا چاہیے تاکہ وہ حقیقی اقدار اور معیارات کو اپنائیں، اور نسل نو کو صراط مستقیم پر گامزن رکھنے کی عرق ریزی ہی نہیں بلکہ جان کو اصلاح کے غرض سے قربان کردے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مزید دوسرے مضامین پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں https://sadaeqalb1.blogspot.com/2025/06/blog-post_26.html?m=1

.png)
🥰🥰
ReplyDelete💗💚
ReplyDeleteماشاءاللہ 💌
ReplyDelete