بدلتی دنیا کے بدلتے تقاضے
از قلم: محمد کونین صدّیقی کٹیہاری
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
پوری کائنات میں تغیر و تبدل کا نظامِ حق اس کے حدوث ہونے پر شاہد ہے، جس کا قدیم زمانے کی صعوبت و کلفت میں گزرے ہوئے ایام، عصر حاضر میں موجود آسائشیں، سہولیات فراہم کردہ سے بلا تشویش ترقی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، کیوں کہ تخیلات کے زیر نگیں گزرتے زمانے میں نئی نئی اشیا کا اختراعِ فائقہ ہوتے رہتے ہیں، زمانہ جس کا تقاضا کرے، اس کو پاے تکمیل تک لے جاے جاتے ہیں، سابقہ عہد میں جس کا محض غور و فکر ہی کیا جا سکتا تھا، دور جدید میں وہ خواب و خیال حقیقت کا لبادہ ملبوس کیا گیا ہے، اور ممکن العمل کی وجہ عصری تعلیم کو فروغ دینا پھر اسی کو عملی جامہ پہنانے کی ہے، مزید آج جو چیزیں فقط وہم و گماں میں گردش کر رہی ہے مستقبل میں حقیقت شناس نسل نو اس کو ضرور بالضرور ترقی یافتہ زمانے میں مکمل کرے گا۔
اسی لیے مدارسِ دینیہ اور عصریہ میں نئے خیالات کو پیدا کرنے کی ذہن سازی کرائی جانی چاہیے، ان سب کا تعلق نصابِ تعلیم پر ہے، جدید دور کے مطابق کتابیں لکھی، پڑھی اور پڑھائی جانی چاہیے، تاکہ دن بہ دن ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔
گواہی شہادت یہ ہے کہ تعلیمی نصاب کئی صدیوں قبل کا اور تکرار و تنازع آئندہ سو سال کا، تو اس دور کے تقاضوں کو کیسے پورا کیا جا سکتا ہے، اسی لیے سلیبس کو مستحکم و منظم اور منضبط کیا جاے۔
سماج کی بنیاد اقدار پر قائم ہوتی ہے، اس اعلیٰ تعلیم یافتہ زمانے میں اخلاقیاتِ معاشرہ مفقود ہو رہے ہیں، شارٹ فیملی کو جوائنٹ فیملی پر ترجیح دی جا رہی ہے، رشتہ میں قربت کے بجائے مفاد غالب آ چکا ہے، جیسے شمس کا وجود نہار پر، جس کا مشاہدہ ہم سب تعمق نظری سے کر ہی رہے ہیں۔
دو صدیوں سے سائنس، ایجادات، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے اثرات رونما ہو رہی ہیں، یہ مسلم ہے کہ مذکورہ بالا تمام افکار و نظریات محققوں نے پہلے ہی اپنی بے بہا کوششوں اور تلاش و جستجو میں منہمک ہو کر دریافت کر چکے تھے، مگر عملی جامہ نہیں پہناےگئے، یا پھر ان کی ایجاداتی تاریخ کو مسمار کر دیا گیا؟
نئی تہذیب و تمدن میں اچھائیاں بلا شبہ بحر بے کراں ہیں، اور امید قوی ہے کہ مستقبل میں ضرورت بھی اسی طرح روز بروز ترقی کرنے کا ہے، مگر برائی اتنی عام و خاص ہو چکی ہے کہ اس افسوسناک بات پر بھی شرمسار نہیں،
پرانی ثقافت گرچہ ان آسانیوں سے نا آشنا تھے، مگر اخلاقیات معاشیات وغیرہ میں علمی عملی میدان کو مضبوطی سے پکڑے رکھے تھے، عقائد میں پختگی مسائل پہ عمل قرآن و حدیث اور فقہ وغیرہ کا علمی مقام بالا تر تھا، دور حاضرہ میں نئی تعلیم کے ساتھ ساتھ پرانی تہذیب و ثقافت کو فروغ دیا جاے تاکہ نسل نو ایک باعزم صالح مرد ہو، ترقی کی راہ ہموار کرنے کا عنفوان و امنگ ہو، اور عقائد و نظریات درست ہو۔
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

%20(1).png)
Wow outstanding 😚😚
ReplyDelete🥰🥰
ReplyDelete