سوانحِ حیات حضور حافظِ ملت عبد العزیز مرادآبادی علیہ الرحمہ
تحریر: مظفر حسین مصباحی شیرانی
ـ------------ـ----------------------------ـ--------------------------------------------
خداے لم یزل نے اولادِ آدم کی رشد و ہدایت کے لیے انبیاے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرما کر ہم پر غیر معمولی احسان فرمایا۔ لیکن بعثت کا وہ سلسلہ خاتم الانبیاء ﷺ پر مکمل ہو گیا، اب آپ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی جلوہ فرما نہیں ہوگا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے رشد و ہدایت کے منصبِ جلیل پر امتِ محمدیہ کے علما کو فائز فرما دیا، انھیں وارثینِ انبیاء کی مقدس جماعت میں حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کی ذات مبارکہ بھی شامل ہے، جن کی علمی و دینی خدمات کا نقش لوحِ تاریخ پر کندہ ہو چکا ہے۔
:مختصر تعارف
آپ کا نامِ نامی عبدالعزیز بن حافظ غلام نور بن مولانا عبدالرحیم ہے۔ جب کہ کنیت ابوالفیض اور القاب میں جلالۃ العلم اور حافظ ملت جیسے عظیم لقب شامل ہیں۔
: ولادتِ باسعادت
آپ کی ولادت ۱۳۱۲ھ بمطابق ١٨٩٤ء کو ضلع مرادآباد کے قصبہ بھوج پور میں پیر کے دن صبح کے وقت ہوئی۔ (مختصر سوانحِ حافظِ ملت، ص: ۱۸، المجمع الاسلامی، مبارک پور)
:ابتدائی تعلیم
آپ نے ابتدائی تعلیم، ناظرہ اور حفظِ قرآن کی تکمیل اپنے والدِ ماجد حافظ غلام نور رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں کی۔
اس کے علاوہ اردو کی چار جماعتیں وطنِ عزیز بھوج پور میں پڑھیں، جب کہ فارسی کی ابتدائی کتب کی تعلیم بھوج پور اور پیپل سانہ (ضلع مراد آباد) میں حاصل کی۔ (مختصر سوانحِ حافظِ ملت، ص: ۲۲ ملخصًا)
:اعلیٰ تعلیم
ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۳٣٩ھ کو تقریباً ۲۷/ سال کی عمر میں جامعہ نعیمیہ، مراد آباد میں داخلہ لیا اور وہاں تین سال تک تعلیم حاصل کی۔ مگر اب علم کی پیاس مزید شدت اختیار کر چکی تھی، جسے بجھانے کے لیے کسی علمی سمندر کی حاجت تھی۔ پس شوال المکرم ۱۳٤٢ھ میں آپ نے اپنے چند ہم سبق دوستوں کے ہمراہ جامعہ معینیہ (اجمیر شریف) میں داخلہ لیا۔ جہاں حضور صدر الشریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں رہ کر منازلِ علم طے کرتے رہے، اور بالآخر استاذِ محترم حضرت صدر الشریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نگاہِ فیض سے ١٣۵١ھ بمطابق ۱۹۳۲ء میں دارالعلوم منظرِ اسلام، بریلی شریف سے دورۂ حدیث مکمل کیا اور دستار بندی ہوئی۔ (حافظِ ملت نمبر، ص: ۲۳۲ ملخصًا)
:مبارک پور آمد
استاذِ محترم حضرت صدر الشریعہ علیہ رحمہ کے حکم پر آپ ۲۹/ شوال المکرم ۱۳۵۲ھ بمطابق ۱٤/جنوری ۱۹۳٤ء کو مبارک پور تشریف لائے اور مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم (واقع محلہ پورا رانی بستی) میں تدریسی خدمات میں مصروف ہو گئے۔ ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے کہ آپ کے طرزِ تدریس اور علم و عمل کے چرچے عام ہو گئے اور تشنگانِ علوم نبویہ کا ایک سیلاب اُمنڈ آیا، جس کی وجہ سے مدرسے میں جگہ کم پڑنے لگی اور ایک بڑی درسگاہ کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چناں چہ آپ نے اپنی جدوجہد سے گولا بازار میں ۱۳۵۳ھ میں دنیاے اسلام کی ایک عظیم دینی درسگاہ "باغِ فردوس" کی تعمیر کا آغاز فرمایا، جس کا نام سلطان التارکین حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ النورانی کی نسبت سے " دار العلوم اشرفیہ مصباح العلوم “ رکھا گیا۔ (سوانحِ حافظِ ملت، ص: ۳۹ تا ٤٠)
:الجامعۃ الاشرفیہ کا قیام
١٩٧٢ء میں قصبہ مبارک پور سے باہر سٹھیاؤں روڈ پر ایک وسیع و عریض خطۂ آراضی پر "الجامعۃ الاشرفیہ" کی بنیاد ڈالی جس کا سنگ بنیاد مفتی اعظم ہند، حضرت سید العلماء، مجاہد ملت، رئیس القلم، خطیبِ مشرق اور ان جیسے بڑے جید علما و مشائخ کے ہاتھوں رکھا گیا۔ یہ درس گاہ اس وقت ہندوستان کی ایک معیاری دانشگاہ بن چکی ہے، جہاں دو ہزار کے قریب بیرونی طلبہ مستقل طور پر ہاسٹل میں رہتے ہیں اور مختلف شعبوں میں زیر تعلیم ہیں۔ پچاس سالوں سے ادارے کی سربراہی عزیزِ ملت علامہ شاہ عبدالحفیظ دام ظلہ العالی فرما رہے ہیں۔
:ماہ نامہ اشرفیہ کا اجرا
حضور حافظ ملت نے ۱۹۷٤ء میں شعبۂ نشر و اشاعت قائم کیا اور فروری ۱۹۷٦ء میں ماہ نامہ اشرفیہ جاری ہوا، جو آج بھی اپنی انفرادی شان کے ساتھ نکل رہا ہے۔
سنی دارالاشاعت کے تحت فتاویٰ رضویہ کی کئی جلدوں کی تحقیق و اشاعت کا کام ہوا اور نصابی کتاب بھی چھپیں۔ یہ عظیم کام حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ کے دو شاگردوں علامہ حافظ عبدالرؤف بلیاوی اور بحر العلوم مفتی عبدالمنان اعظمی علیہما الرحمہ نے انجام دیا۔
آپ کے تلامذہ آج بھی دنیا کے مختلف خطوں میں فروغِ علم اور خدمتِ اسلام میں مصروف ہیں اور مختلف میدانوں میں اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔
:قلمی خدمات
آپ کا قلم و قرطاس سے بھی گہرا تعلق تھا، فتویٰ نویسی بھی کرتے تھے لیکن تحریر و تصنیف کا وقت زیادہ نہ مل سکا، پھر بھی مختلف موضوعات پر چند کتب و رسائل تصنیف فرمائے، جو یہ ہیں:۔
(۱)معارفِ حدیث (۲)ارشاد القرآن (۳)المصباح الجدید (٤)انباء الغیب (۵)فرقۂ ناجیہ (٦)فتاویٰ عزیزیہ (۷)حاشیہ شرح مرقات۔ (سوانحِ حافظِ ملت، ص: ۷۳ ملخصًا)
وصالِ پر ملال
آپ یکم جمادى الأخرى ۱۳۹٦ھ بمطابق ۳۱/ مئی ۱۹۷٦ء کو رات ۱۱/ بج کر ۵۵/ منٹ پر دارِ فانی سے عالم جاودانی کی طرف کوچ کر گئے۔ (اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) (حیاتِ حافظِ ملت، ص: ۸۰۹ ملخصًا)
آپ کا مزارِ مبارک جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے کیمپس میں عزیز المساجد کے داہنی جانب زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کے نقشِ قدم پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ سید الانبیاء والمرسلین ﷺ۔
=====================================================================================
حضور بحر العلوم مفتی عبد المنان اعظمی رحمۃ اللّٰہ علیہ می سوانحِ حیات کو پڑھنے کے لیے


Mashallah
ReplyDelete🤍💌
Delete