تراویح کے پیسے طے کرنا کیسا؟ تفصیلی جواب | محمد اویس العطاری المصباحی




 تراویح کے پیسے طے کرنا کیسا؟ تفصیلی جواب ارشاد فرما دیجئے۔



بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

 ----------- ----------------------- ----------------------- ----------------------- ---------------------------------


اصل یہ ہے کہ طاعت وعبادات پر اجرت لینا دینا مطلقا حرام ہے، لیکن متاخرین نے ضرورت ومجبوری کے تحت چند چیزوں کی اجازت دی ہے جیسے تعلیم قرآن، علوم دین و اذان وامامت وغیرہا ۔ لہذا تراویح پڑھانے کے لیے پہلے سے پیسے طے کرنا جائز نہیں بلکہ اگر معلوم ہو کہ یہاں کچھ ملتا ہے، اگرچہ اس سے طے نہ ہوا ہو یہ بھی ناجائز ہے کہ اَلْمَعْرُوْفُ کَالْمَشْرُوْطِ ہاں اگر کہہ دے کہ کچھ نہیں دوں گا یا نہیں لُوں گا پھر پڑھے اور حافظ کی خدمت کریں تو اس میں حرج نہیں۔ جواز کی صورت یہ سکتی ہے کہ مسجد کی کمیٹی والے تراویح پڑھانے والے کو 2 یا 3 گھنٹے کے لیے اجیر رکھ لیں اور کہیں کہ ہم ان میں آپ سے آپ کے منصب کے مطابق کام لیں گے اور حافظ صاحب منظور فرما لیں اور ساتھ ہی پیسے بھی فکس کر لیں تو  یہ صورت جواز کی ہو جائے گی۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:”اصل یہ ہے کہ طاعت وعبادات پر اجرت لینا دینا(سوائے تعلیم قرآن عظیم وعلوم دین و اذان وامامت وغیرہا معدودے چنداشیاء کو جن پر اجارہ کرنا متاخرین نے بنا چاری ومجبوری بنظر حال زمانہ جائز رکھا)مطلقا حرام ہے،اور تلاوت قرآن عظیم بغرض ایصال ثواب وذکر شریف میلاد پاك حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ضرورت منجملہ عبادات وطاعت ہیں تو ان پر اجارہ بھی ضرور حرام ومحذور۔“ فتاویٰ رضویہ، جلد:19، صفحہ:486، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)

اعلیٰ حضرت ایک مقام پر اجرات کے بارے میں فرماتے ہیں:”جبکہ اُن میں معہود ومعروف یہی لینا دینا ہے تویہ اُجرت پر پڑھنا پڑھوانا ہوا فان المعروف عرفا کالمشروط لفظًا(کیونکہ عُرف ورواج میں جو کچھ مشہور ہے وہ اس طرح ہے کہ جس طرح الفاظ سے شرط طے کی جائے۔ت)اور تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی پر اُجرت لینادینا دونوں حرام ہے،لینے والے دینے والے دونوں گنہگار ہوتے ہیں کما حققہ فی ردالمحتار وشفاء العلیل وغیرھا(جیسا کہ فتاوٰی شامی،شفاء العلیل او ردیگر کتب میں اس کی تحقق فرمائی گئی۔ت)اور جب یہ فعل حرام کے مرتکب ہیں تو ثواب کس چیز کا اموات کو بھیجے گا،گناہ پرثواب کی امید اور زیادہ سخت واشد ہے کما فی الھندیۃ والبزازیۃ وغیرھما وقد شدد العلماء فی ھذا ابلغ تشدید(جیسا کہ فتاوٰی عالمگیری اور بزازیہ وغیرہ میں مذکور ہے،علماء کرام نے اس مسئلہ میں بہت شدّت برتی ہے۔ ت)ہاں اگر لوگ چاہیں کہ ایصال ثواب بھی ہو تو اس کی صورت یہ ہے کہ پڑھنے والوں کو گھنٹے دوگھنٹے کے لئے نوکر رکھ لیں اور تنخواہ اتنی دیر کی ہرشخص کی معین کردیں مثلًا پڑھوانے والا کہے میں نے تجھے آج فلاں وقت سے فلاں وقت تك کے لئے اس قدر اجرت پر نوکر رکھا جو کام چاہوں گا لُوں گا وہ کہے میں قبول کیا،اب اتنی دیر کے واسطے اس کا اجیر ہو گیا جو کام چاہے لے سکتا ہے اس کے بعد اس سے کہے فلاں میّت کے لئے اتنا قرآن عظیم یا اس قدر کلمہ طیبہ یا درود شریف پڑھ دو،یہ صورت جواز کی ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:23، صفحہ:538، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظَمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:” آج کل اکثر رواج ہوگیا ہے کہ حافظ کو اُجرت دے کر تراویح پڑھواتے ہیں یہ ناجائز ہے ۔دینے والا اور لینے والا دونوں گنہگار ہیں، اُجرت صرف یہی نہیں کہ پیشتر مقرر کر لیں کہ یہ لیں گے یہ دیں گے، بلکہ اگر معلوم ہے کہ یہاں کچھ ملتا ہے، اگرچہ اس سے طے نہ ہوا ہو یہ بھی ناجائز ہے کہ اَلْمَعْرُوْفُ کَالْمَشْرُوْطِ ہاں اگر کہہ دے کہ کچھ نہیں دوں گا یا نہیں لُوں گا پھر پڑھے اور حافظ کی خدمت کریں تو اس میں حرج نہیں کہ اَلصَّرِیْحُ یُفَوِّقُ الدَّلَالَۃَ (یعنی صراحت کو دلالت پر فوقیت ہے۔)۔“ (بہارِ شریعت، تراویح کا بیان، جلد:1، حصہ:4، صفحہ:692، مجلس المدينة العملية دعوت اسلامی)

والله تعالیٰ اعلم بالصواب

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی


 ----------------------- ----------------------- ----------------------- ----------------------- ----------------------- ----------------------- ----------------------- ----------------------- ----------------------- ------------------


امام کے پیچھے الحمد شریف پڑھنا کیسا ہے اس مسئلے کو پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈 



Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.