فضائل بیت المقدس قرآن و احادیث کی روشنی میں
از قلم: محمد کونین صدیقی کٹیہاری
------------------------------------------------------
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الأنبیاء والمرسلین، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین، أما بعد!
معزز حاضرینِ کرام!
آج میری تقریر کا عنوان "بیت المقدس کی فضیلت قرآن و احادیث کی روشنی میں" ہے جس موضوع پر میں گفتگو کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں، میری دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں حق بات کہنے، سننے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
وقت کو مد نظر رکھتے ہوئے سب سے پہلے آئیے جانتے ہیں کہ بیت المقدس کس مقدس جگہ کا نام ہے؟
یہ وہی عظیم مقام ہے جسے مسجد اقصیٰ بھی کہتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ صرف ایک عمارت ہی نہیں بلکہ یہ انبیاے کرام علیہم الصلاۃ و التسلیم کی جائے عبادت رہی ہے، یہاں انبیاے کرام کی برکتیں نازل ہوئیں، یہ وہی سرزمین ہے جس کے اطراف کو اللہ تعالیٰ نے بابرکت قرار دیا۔
میرے عزیزو!
اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں بیت المقدس کی شان و شوکت عظمت و جلالت کو کئی مقامات پر ذکر فرمایا ہے۔
پہلا باوقار مقام:
یہ امت مسلمہ کا پہلا قبلہ ہے! شروع میں جب نماز فرض ہوئی تو رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے، پھر بعد میں اللہ نے قبلہ کو خانہ کعبہ کی طرف بدل دیا، اس کا ذکر سورۃ البقرۃ آیت نمبر 144 میں ہے: قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ...
ترجمہ: ’’ہم دیکھتے ہیں کہ اے محبوب! آپ بار بار آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتے ہیں، ہم آپ کو ضرور اسی قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس پر آپ راضی ہیں۔‘‘
دوسرا عظیم شرف:
یہ وہی مقدس جگہ ہے جہاں سے معراجِ مصطفیٰ ﷺ کا عظیم سفر شروع ہوا،
چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ.....
(الإسراء: 1)
ترجمہ: ’’پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی جس کے ارد گرد ہم نے برکت رکھی ہے۔‘‘
میرے بھائیو! ذرا سوچیے!
اللہ رب العزت نے خانہ کعبہ سے اس مسجد کو جوڑا ہے، حضور ﷺ کو اپنے پیارے نبیوں کی امامت کرائی ، اس سے بڑی فضیلت اور کیا ہی ہو سکتی ہے؟
تیسرا مقام:
یہ انبیاے کرام علیہم الصلاۃ والتسلیم کی سرزمین ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اسی سرزمین میں ہجرت کرنے کا حکم نافذ فرمایا
اللہ فرماتا ہے: وَنَجَّيْنَاهُ وَلُوطًا إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ
(الأنبیاء: 71)
’’اور ہم نے ابراہیم اور لوط کو اس سرزمین کی طرف نجات دی جس میں ہم نے جہاں والوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘
احادیث نبوی ﷺ کی روشنی میں بھی بیت المقدس کی شان و شوکت کو ظاہر کرتی ہے،
محترم سامعین!
آئیے اب رسول اللہ ﷺ کی مبارک احادیث کی روشنی میں بیت المقدس کی فضائل و مناقب سماعت کرتے ہیں۔
پہلی حدیث:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
١ - لا تُشَدُّ الرِّحالُ إلّا إلى ثَلاثَةِ مَساجِدَ: المَسْجِدِ الحَرامِ، ومَسْجِدِ الرَّسُولِ ﷺ، ومَسْجِدِ الأقْصى.
الراوي: أبو هريرة • البخاري، صحيح البخاري (١١٨٩) • أخرجه مسلم (١٣٩٧)
’’کسی مسجد کی طرف سفر کرنا جائز نہیں مگر تین مسجدوں کے لیے: مسجد حرام (مکہ مکرمہ) میرا یہ مسجد نبوی (مدینہ منورہ) مسجد اقصیٰ (بیت المقدس)‘‘
غور کرنے کی بات ہے پوری دنیا میں صرف تین مسجدیں ایسی ہیں جن کے لیے سفر افضل اور ثواب کا باعث قرار دیا گیا ہے۔ ان جلیل القدر مساجد میں مسجد اقصیٰ شامل ہے۔
نیز حدیث پاک میں ہے:
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سب سے پہلی مسجد کون سی بنائی گئی؟
فرمایا: مسجد حرام۔
میں نے عرض کیا: پھر کون سی؟
فرمایا: مسجد اقصیٰ!
میں نے عرض کیا: دونوں کے درمیان کتنا عرصہ تھا؟
فرمایا: چالیس سال۔
(بخاری، مسلم)
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد اقصیٰ کو اللہ تعالیٰ نے ابتدا سے ہی خاص عظمت عطا کی ہے۔
تیسری حدیث پاک ہے:
حضور ﷺ نے فرمایا: صلاةٌ في المسجدِ الأقصى كخمسِمائةِ صلاةٍ فيما سواه. (مستدرک حاکم)
’’مسجد اقصیٰ میں پڑھی گئی ایک نماز دوسری جگہ پڑھی گئی 500 نمازوں کے برابر ہے۔‘‘
یہ کتنی بڑی فضیلت ہے! سوچئے، کتنی بڑی سعادت ہے کہ انسان وہاں نماز پڑھے۔
چوتھی حدیث نبوی ﷺ ہے:
قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بیت المقدس ہی میں ہوگا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اتریں گے اور بیت المقدس میں امام مہدی کے ساتھ نماز ادا کریں گے۔"
یہ بتاتا ہے کہ بیت المقدس کا تعلق امت مسلمہ کے ابتدا سے آخری وقت تک جڑا رہے گا۔
میرے پیارے بھائیو!
عصر حاضر میں بیت المقدس پر ظلم ہو رہا ہے، مسجد اقصیٰ کو جلانے، گرانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، لیکن یاد رکھیں!
بیت المقدس کسی ایک ملک کا ذاتی نہیں، بلکہ پوری امت مسلمہ کا مرکز ہے، یہ انبیاے کرام کی میراث ہے، یہ قبلۂ اول ہے، جس سے ہمارا روحانی تعلق ہے۔
ہم پر لازم ہے کہ: بیت المقدس سے محبت کریں۔
اس کی حفاظت و صیانت کے لیے دعا کریں، نمازیں ادا کریں۔
ظالموں کے خلاف آواز بلند کریں، اپنی نسل کو اس کی تاریخ اور فضائل و مناقب بتائیں، اپنی دعاؤں میں اسے ضرور بالضرور یاد رکھیں۔
الٰہی!
ہمیں بیت المقدس کی محبت نصیب فرما!
یا اللہ! مسجد اقصیٰ کی حفاظت فرما!
یا اللہ! وہاں یعنی فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی مدد فرما!
یا اللہ! ہمیں انبیاے کرام کی اس سرزمین کی برکتوں سے مالامال عطا فرما!
کریں
آمین، یا قادر مطلقﷺ
وما علینا إلا البلاغ!
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمین۔
============°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°============°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°============°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

