کالا جوتا پہننا کیسا ہے؟
Friday, 2 October 2026
Add Comment
کالا جوتا پہننا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِاَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جوتا کسی بھی رنگ کا پہننا شرعاً جائز ہے۔ لہذا کالے رنگ کے جوتے کا استعمال کرنا بھی جائز ہے شرعاً کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اجتناب کرنا مناسب ہے کیونکہ بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ سیاہ جوتا غم لاتا ہے۔ البتہ پیلے جوتے پہننا بہتر ہے کیونکہ پیلے جوتے پہننے سے فکروں میں کمی ہوتی ہے۔
کالا جوتا پہننے سے غم پیدا ہوتا ہے، چنانچہ امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفی:671ھ) حضرت ابن زبیر اور محمد بن ابو کثیر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے لکھتے ہیں:”ونهي ابن الزبير ومحمد بن أبي كثير عن لباس النعال السُّود، لأنها تُهّم.“ یعنی اور حضرت سیدنا عبد اللہ بن زبیر اور محمد بن ابو کثیر علیھما الرحمہ نے کالے جوتے پہنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ یہ غم کا باعث ہوتے ہیں۔ (تفسیر القرطبی، سورة البقرة، تحت الآية:69، جلد:1، صفحة:451، مطبوعہ دار الکتب المصریة، قاہرہ)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”سیاہ جوتا رنج (یعنی غم) اور زرد خوشی لاتا ہے۔“ (حیاتِ اعلیٰ حضرت، جلد:3، صفحہ:97، مطبوعہ فیضانِ امام احمد رضا لاہور)
پیلے جوتے پہننے سے فکروں میں کمی ہوتی ہے، چنانچہ امام ابو البرکات عبد اللہ بن احمد بن محمود نسفی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفی:710ھ) حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”عن علي رَضِیَ اللہُ عَنْهُ :من لبس نعلاً صفراء قل همه.“ یعنی جس نے پیلے رنگ کا جوتا پہنا اس کی فکروں میں کمی ہوگی۔ (تفسیر نسفی، سورة البقرة، تحت الآية:69، صفحة:58)
وَاللہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
كتبه: محمد اُویس العطاری المصباحی
Link will be apear in 60 seconds.
Well done! you have successfully gained access to Decrypted Link.

0 Response to "کالا جوتا پہننا کیسا ہے؟"
Post a Comment