بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوش آمدید

Sada e Qalb
The voice of our heart
آپ کی آمد ہمارے لیے باعث مسرت ہے
Sada e Qalb
The Voice of our heart

Sada E Qalb

صداۓ قلب
✦ مؤسس: محمد کونین الصدیقی المصباحی ✦
کسی اچھی اور معیاری تحریر کا مطالعہ انسان سے انسانیت تک کا ایک مکمل سفر ہے، ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحریر انسانی فکرونظرکو معراج کی آخری سرحد تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،آئیں مطالعے کے اس سفر میں قدم قدم ساتھ چلتے ہیں۔

امامت کے شرائط کیا ہیں | محمد اویس العطاری المصباحی


 امامت کے شرائط کیا ہیں؟ 



بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`


امامت صحیح ہونے کے لیے چند بنیادی شرائط ہیں اگر ان میں سے کوئی ایک شرط بھی مفقود ہو تو امامت صحیح نہیں ہوگی۔ مثلاً امام کا مسلمان سنی صحیح العقیدہ ہونا یعنی کافر اور بد عقیدہ، گستاخِ انبیاء، یا ایسا فاسد العقیدہ جس کا کفر متفقہ ہو اس کی اقتداء نہیں ہوگی، بالغ ہونا یعنی نابالغ کی امامت بالغ مردوں کی نماز میں صحیح نہیں نابالغ نابالغوں کی امامت کر سکتا ہے، عاقل ہونا یعنی مجنون/پاگل کی امامت نہیں، صحیح القراءة ہونا یعنی اتنا قرآن صحیح پڑھ لے کہ نماز فاسد نہ ہو۔ اگر "الحمد" کی فاتحہ بھی غلط پڑھے جس سے معنی بگڑ جائے تو امامت نہیں ہوگی۔ حروف جیسے ا، ع، ت، ط، س، ص، ث وغیرہ میں فرق کرنا ضروری ہے، صحیح الطهارۃ ہونا یعنی معذور نہ ہو۔ دائمی سلس بول، ریح والا شخص امامت نہیں کرا سکتا جب تک شرعی معذور نہ ہو، مرد ہونا یعنی عورت مردوں کی امامت نہیں کرا سکتی اور غیرِ فاسق ہونا ضروری ہے یعنی کھلم کھلا گناہ کرنے والا، داڑھی منڈوانے والا، شراب پینے والا وغیرہ کی امامت مکروہ تحریمی ہے۔

امامت کے شرائط کے متعلق ”نور الایضاح“ میں ہے:
”وشروط صحة الإمامة للرجال الأصحاء ستة أشياء:الإسلام، والبلوغ، والعقل، والذكورة والقراءة، والسلامة من الأعذار.“ یعنی صحت مند مردوں کے لیے امامت کے صحیح ہونے کی 6 شرطیں ہیں: اسلام، بلوغت، عقل، مرد ہونا، قرآن پاک صحیح پڑھنے پر قادر ہونا اور عذر سے پاک ہونا۔ (نور الإيضاح، كتاب الصلاة، باب الإمامة، صفحة:63، مطبوعہ المكتبة العصرية، بيروت)

اعلی حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ فرماتے ہیں:”امام میں چند شرطیں ضروری ہیں اولًا قرآن عظیم ایسا غلط نہ پڑھتا ہو جس سے نماز فاسد ہو جیسے وہ لوگ کہ مثلًا ا، ع یا ت، ط یا ث، س، ص یا ح، ہ ذ، ز، ظ، ض میں فرق نہیں کرتے، دوسرے وضو، غسل، طہارت صحیح رکھتا ہو، سوم سنی صحیح العقیدہ مطابق عقائد علمائے حرمین شریفین ہو تفضیلی وغیرہ بد مذہب نہ ہو نہ کہ وہابی خصوصا دیوبندی کہ سرے سے مسلمان ہی نہیں، یا ان کو اچھا جانے والا کہ وہ بھی انھیں کے مثل ہے شفا شریف وبزازیہ و مجمع الانہر و درمختار وغیرہا میں ہے: ومن شك فر کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جس نے اس کے کفر اور عذاب میں شك کیا وہ خود کافر ہوجائےگا۔ (ت)

چہارم فاسق معلن نہ ہو، اسی طرح اور امور منافی امامت سے پاك ہو، ان کے بعد ذی علم ہونا شرط صحت وحلت نہیں شرط اولیت ہے اگر جاہل ہے اور شرط مذکورہ رکھتا ہے اس کے پیچھے نماز ہو جائیگی۔ اگرچہ اولی نہیں۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد: 6، صفحہ: 543، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:”ہر سنی صحیح العقیدہ صحیح القراۃ صحیح الطہارۃ غیر فاسق معلن جس میں کوئی بات ایسی نہ ہو کہ لوگوں کے لئے باعث نفرت اور جماعت کے لئے وجہ قلت ہو اس کے پیچھے نماز بلا کراہت جائز ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد: 6، صفحہ: 590، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی) 
 
 
وَاللہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
 
كتبه: محمد اُویس العطاری المصباحی

0 Response to " امامت کے شرائط کیا ہیں | محمد اویس العطاری المصباحی"

Post a Comment

Article Top Ads

Central Ads Article 1

Middle Ads Article 2

Article Bottom Ads

-->