امنگوں کی حنابندی
از : اسلم ساقی مصباحی
عزیز المساجد کے مرکزی دروازے کے جسٹ سامنے طلبہ کی ایک بڑی تعداد موجزن ہے۔ ہر ایک کا چہرہ نور کی موجوں میں نکھرا ہوا معلوم ہو رہا ہے۔ ان میں شوخئ طبع کے ساتھ ساتھ غایت درجہ کی محویت بھی طاری ہے۔ نشاط و سرور کی پیہم لہریں اُن کی پیشانی کے سلوٹوں پر خوب عیاں ہیں۔ پیروں میں بجلی کی برق رفتاری واضح اور نمایاں ہے۔ کبھی ایک لمحہ کے لیے ان میں انجماد و تعطل چھا جاتا ہے تو عین دوسرے لمحہ میں ان کے پیروں کی بیڑیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک حیرت انگیز مگر دلچسپ بھگدڑ مچ جاتی ہے۔اور ان کی عنانِ توجہ کا مرکز تین جہتوں پر منقسم ہو جاتا ہے۔
اب انجمن کا ایک حصہ، سورج کے ٹکیا کی مانند مگر بے نور گولے کے پیچھے چابک خرام گھوڑے کی طرح بھاگ رہا ہے۔ جبکہ دوسرا حصہ اپنی منزل کی جانب ایک نہایت حیرت انگیز سرعت کے ساتھ رواں دواں ہے۔ اس برق شِتاب گروہ کی چابک خرامی دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے یہ کوئی مقابلۂ دوڑ کا میدان ہو، جہاں نہ قدموں کی آہٹ کے سِوا کچھ سنائی دیتا ہے۔ اور نہ منزل کی نشانِ علم کے سِوا کچھ دکھائی دیتا ہے۔ مگر اس ریس اور یہاں کے گیم میں ایک واضح فرق ہے۔ وہاں تمام شرکا، منزل کی یکسانیت کے سبب یکساں طور پر ایک سمت بھاگتے ہیں۔ جبکہ یہاں منزل کے ایک ہونے کے باوجود فائز المرام ہونے کے لیے ایک کو دوسرے کے مخالف سمت دوڑنا پڑتا ہے۔ یہ مخالف سمت کی دوڑ بھی ایک خوشنما اور مرغوب الطبع منظر کریٹ کرتی ہے۔ جسے دیکھ کر نہ صرف یہ کہ انسانی نگاہِیں لطف اندوز ہو رہی ہیں بلکہ چشمِ فلک بھی حیرتوں کا مجسمہ بنی ہوئی ہے۔ اس ہماہمی کے عالم میں ایک آن کے لیے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر دوسرے شخص کا اپنے مقابل شخص سے ایک زبردست تصادم ہوگا۔ مگر یہ تماشائیوں کے ذہن کا وہم، اور نظر کا فریب ہوتا ہے۔ کیوں کہ میدان کا ہر فرد میکدۂ مہارت کے جامِ صبوحی سے آشنا ہے جس میں خطا کی گنجائش نہیں۔
اس دلربا محشر کا تیسرا حصہ بھی لائق دید اور قابل اعتنا ہے، اس حصے نے خود کو مزید دو ذیلی حصوں پر تقسیم کر لیا ہے۔ اور ہر حصہ اپنے اپنے مقام پر تعینات ہے۔ نگاہیں شاہین جیسی... قوتِ سماعت آسمان چھوتی ہوئی... پیروں کی رفتار بجلی سے مستعار... وجود کا ہر ہر انگ ضرغام صفت... بس ایک موقع کی تلاش، پھر شوکتوں کا پھریرا آسمان کی چوٹی پر۔ غرض کہ میدان کا ہر فرد اپنے سینوں میں فاتحانہ ولولوں کا چراغِ امید روشن کر کے سرگرمیوں کا مظہر بنا ہوا ہے۔
ستاروں کی انجمن شاہد ہے کہ آج سطح زمین کا ذرہ ذرہ عیش و نشاط کی دلفریبی سے بیخود ہوکر طلبہ کے قدموں کا بوسہ لے رہا ہے۔ اپنے نازک اور لطیف سینوں پر نشانِ قدم نقش کرنے کے لیے بیتاب ہے۔ یہ البیلی اور من موہن منظر دیکھ کر کہکشاؤں کی انجمن میں ایک عجیب ترنگ اور سرگوشی کا ماحول بنا ہوا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ اس بات کا تمنّا لیے محو گفتگو ہو کہ اے کاش؛ آج ہمیں فرش زمیں پر اترنے کی اجازت مل جاتی۔ اُس خطۂ زمین کا تقدس چومنے کا موقع مل جاتا جس پر طلبہ کے پیروں کی عظمت و جلالت آبشار کے قطروں کی طرح بہہ رہی ہیں۔ فرش کے آفتاب و ماہتاب کے تابِ عارض کی کچھ چھینٹیں چلّو میں بھر کر اپنے چہروں پر ملنا نصیب ہو جاتا۔ ان کی بزم میں شریک ہو کر اقبال مندوں کی فہرست میں اپنی جگہ بنا لیتا۔۔۔۔ مگر افسوس کہ یہ ممکن نہیں۔ زمین کا سب سے قریب سیارہ جو اپنے درخشاں صورت کی بنا پر ہزاروں اہل دل کا مرکزِ عشق و محبت بنا ہوا ہے، جب اُسے یہ سرفرازی نہیں مل سکتی ہے تو ہمیں کیوں کر۔۔۔۔
شاید آپ یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہوں کہ "میں" اس دل کشا انجمن کے کس گوشے میں جلوہ گر ہوں۔
اچھا رُکیے....
پہلے ایک لمبی سانس لےکر تازہ دم ہو جائیے۔۔۔۔
گے
ہاں؛ تو میں یہ کہ رہا تھا کہ عزیز المساجد کے مرکزی دروازے کی تیسری سیڑھی پر میں اپنے رفقائے محترم کے بیچ و بیچ نہال و مسرور بیٹھا ہوں۔ میرے دائیں سائڈ رفیق گرامی "مولانا رحمت علی مصباحی" زیر لب مسکراہٹ لیے جلوہ بار ہے۔ جن کے وجود کے ہر ہر انگ سے سادگی اور سنجیدگی جھلک رہی ہے۔ اور میرے بائیں جانب دوستی کی سچی مثال "مولانا احمد رضا اشرفی مصباحی" رونق افروز ہے۔ جن کا سراپا محبت، خلوص، ایثار اور پاکیزگی سے آراستہ ہے۔ ایک دوست کے اندر جن خوبیوں کا ہونا ضروری قرار پاتا ہے وہ میرے ان دوستوں کے اندر وافر مقدار میں موجود ہے۔
جس وقت میں اس شاداب لمحے کو ضبط تحریر میں لا رہا ہوں، میری نگاہیں مسلسل سامنے موجود دو نیم کے درختوں پر پڑ رہی ہیں۔ جو اپنے تجمل و تابانی سے میری توّجہ منتشر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی شکیل زیبا ڈالیاں دعوت نظارہ دے رہی ہیں۔ پتوں کی چمک ایسی، جیسے ابھی ابھی بارشِ نور میں نہا کر فارغ ہوئے ہوں۔ نہ بالکل جامد نہ کلی حرکت بلکہ ایک متوسط تحریک درختوں پر نمایاں ہے۔ جیسے طلبہ کی ہماہمی دیکھ کر ان پر وجد کی کیفیت طاری ہو۔
ان درختوں کے پیچھے مگر تھوڑا اُوپر نازشِ فرش و فلک، مثالِ حُسنِ جاناں، جسے ہم ماہ و ماہتاب، قمر و بدر اور ہلال و نیّر جیسے ناموں سے پکارتے ہیں۔ آج اس کا حسن و شباب کنگرۂ افلاک کو چھو رہا ہے۔ رات کے بکھرے گیسو اس کی درخشانی کے آگے شرمسار ہیں۔ افلاک کے تمام سیاروں کی روشنی مدھم پڑ گئی ہے۔ شباب و سرمستی کے نور میں جگمگاتے ہوئے پروانے قطار باندھ کر شمع فروزاں کے گرد رقص کر رہے ہیں۔ حدودِ جامعہ کی ساری فضا تابِ عارض کی طرح روشن و تابناک ہے۔ اس کے سائے میں جامعہ کے در و بام پر تبسم کی جھلک محسوس کی جا سکتی ہے۔ روضہ حضور حافظ ملت موجِ نور کا مرکز بنا ہوا ہے۔ جیسے گلستان کی ساری بہاریں سمٹ کر یہاں اکٹھا ہو گئی ہوں۔
طلبہ کے اس فرحت بخش اور سرور انگیز کھیل سے جامعہ کے حدود کا ذرہ ذرہ کھل اٹھا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ کھیل سب کے لیے یکساں طور پر مسرّت کا باعث بنا ہو۔ اس دلرُبا رات کی سیاہ مگر قدرے روشن زلفوں نے میرے دل کے نہاں خانوں میں تجلیات کی فضا قائم کر دی۔ شعور و احساس کا کونہ کونہ بشاشت کی کرنوں سے معمور ہو گیا۔
مزید پڑھیں 👇🏻

