کیا مسلمان جانوروں پر ظُلم کرتے ہیں |


کیا مسلمان جانوروں پر ظُلم کرتے ہیں؟


بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء کو انسان کے نفع کے لیے پیدا فرمایا، پھر حرام اشیاء اور نشہ آور چیزوں کو چھوڑ کر باقی تمام چیزیں کھانے کی اجازت عطا فرمائی۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ“ یعنی کھاؤ اور پیو اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے۔ (سورۃ البقرہ: 60)

اسی طرح حرام جانوروں کے علاوہ باقی جانوروں کو کھانے کی اجازت دی۔ حرام جانوروں کو نہ کھانے میں حکمت یہ ہے کہ گوشت یا جو غذا کھائی جاتی ہے وہ جزوِ بدن بن جاتی ہے اور اس کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ چونکہ بعض جانوروں میں مذموم صفات پائی جاتی ہیں، ان جانوروں کے کھانے میں اندیشہ ہے کہ انسان بھی ان بُری صفتوں سے متصف ہو جائے، لہٰذا انسان کو ان کے کھانے سے منع کیا گیا۔ (بہارِ شریعت، 3/ 324)

اسلام میں جانوروں پر ظلم کرنا سختی سے منع ہے۔ شریعت نے جہاں حلال جانوروں کے کھانے کی اجازت دی ہے، وہیں ان کے ساتھ رحم اور حسنِ سلوک کا بھی حکم دیا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو کسی جاندار پر رحم نہیں کرتا، اللہ اس پر رحم نہیں فرماتا۔
لہٰذا مسلمانوں کا جانوروں کو کھانا ظلم نہیں بلکہ ایک منظم اور رحمت پر مبنی نظام کے تحت ہے، جس میں تکلیف کو کم سے کم رکھا جاتا ہے۔

کچھ غیر مسلم مسلمانوں پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ لوگ جانوروں پر ظلم کرتے ہیں، جو بے بنیاد اور محض پروپیگنڈہ ہے۔ جہاں تک کھانے کا تعلق ہے تو اغیار بھی خوب انڈے، مچھلی اور چکن کھاتے ہیں، مگر مسلمانوں کو بدنام کرتے ہیں۔

اگر حلال جانوروں کا کھانا "ہتیا" ہے تو جُوں کو مارنا، کھٹمل کو مارنا، آل آؤٹ کے ذریعے مچھروں کو مارنا، اگر کھیت میں کیڑے ہو جائیں تو انھیں ادویات کے ذریعے مارنا، کیا یہ جاندار نہیں؟ کیا ان کی جان، جان نہیں؟ کیا ان کو ایذا پہنچانا جائز ہے؟ کیا ان کا قتل "ہتیا" نہیں ہے

اب آئیے! بعض غیر مسلم بقر عید یا اس کے علاوہ مواقع پر مسلمانوں پر انگشت نمائی کرتے ہیں۔ ہم پوچھتے ہیں: اکثر غیر مسلم بکری، مرغی، مچھلی کھاتے ہیں، کیا وہ جاندار نہیں؟ کیا ان کی جان، جان نہیں ہے؟ ہولی کے موقع پر قصاب کی دکان پر رش لگ جاتا ہے اور جگہ جگہ اپنے کھانے کے لیے بکروں کو تلاش کرتے پھرتے ہیں، اس پر کوئی تبصرہ نہیں ہوتا۔ اور خود ان کی کتابوں سے رام، لچھمن اور کرشن کا شکار کرنا ثابت ہے، تو اس "ہتیا" کا کیا علاج؟

"والمیکی رامائن" میں ہے:
”उस काल मृगरूपी राक्षस को मार डालकर और इसका इस प्रकार चिल्लाना सुनकर विषाद के मारे तीव्र भय से रामचन्द्र जी भीत हुए।।२६।। उसके पीछे वह एक और मृग को मारकर और उसका माँस धारण करके शीघ्रता से जनस्थान की ओर चले।। २७ ।।“

:اسی سرگ میں آگے ہے
 ”द्विज श्रेष्ठ! एक मुहूर्त भर विश्राम करो।। २२।। अभी हमारे स्वामी बहुत सारे वनफल, मूल और रुरु, वराह व गोधा का वध करके बहुत मांस द्रव्य ले यहाँ आते होंगे...“
(شری والمیکی رامائن، ہندی ٹیکا سمیت، ارنیہ کانڈ، سرگ: 46، حصہ: 1، ناشر: کھیَم راج شری کرشن داس، ممبئی)

:"رام چرت مانس" میں ہے
“बधुं सखा सगँ लेहिं बोलाई। बन मृगया नित खेलहिं जाई।
पावन मृग मारहिं जियँ जानी। दिन प्रति नृपहि देखावहिं आनी।”
یعنی شری رام چندر جی بھائیوں اور دوستوں کو بلا کر ساتھ لے لیتے ہیں اور روزانہ جنگل میں جا کر شکار کھیلتے ہیں۔ پاک سمجھ کر ہرنوں کو مارتے ہیں اور روزانہ لا کر راجا دشرتھ جی کو دکھاتے ہیں۔

“जे मृग बान के मारे। ते तनु तजि सुरलोक‌‌‌ सिधारे।।
अनुज सखा सँग भोजन करहिं। मातु पिता अग्या अनुसरहीं।।”
یعنی جو ہرن شری رام جی کے تیر سے مارے جاتے تھے، وہ جسم چھوڑ کر دیولوک کو چلے جاتے تھے۔ شری رام چندر جی اپنے چھوٹے بھائیوں اور ساتھیوں کے ساتھ بھوجن کرتے ہیں، اور ماتا پتا کی آگیا کا پالن کرتے ہیں۔
(شری رام چرت مانس، دوہا نمبر: 204، ٹیکا کار: ہنومان پرساد پودار)

اسلام نے حلال جانور ذبح کرنے کا بھی ایک رحمت بھرا نظام دیا ہے: تیز دھار چھری، جانور کو تکلیف نہ دینا، بھوکا پیاسا نہ رکھنا، ایک کے سامنے دوسرا ذبح نہ کرنا، اور "بسم اللہ اللہ اکبر" پڑھ کر ذبح کرنا۔ یہ ظلم نہیں، رحمت اور شکر کا طریقہ ہے۔
اللہ پاک ہمیں دینِ متین پر قائم رہنے اور اغیار کے پروپیگنڈے سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔

از قلم: محمد اُویس العطاری المصباحی

مزید پڑھیں 👇🏻 




Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.