امتِ مسلمہ اور سیاست ایک تحقیقی جائزہ
از غریب نواز چشتی
تاریخِ انسانیت میں سیاست صرف تسلط و اقتدار کی حصول یابی کا نام نہیں رہی بلکہ یہ تہذیب و ثقافت، رسم و رواج اور آداب و اطوارکے عروج و زوال، قوموں کے اجتماعی شعور، اور فکری بلوغ کا آئینہ دار رہی ہے۔ اسلام نے جب دنیا کے سامنے اپنی دعوت پیش کی تو اس نے مذہب کو صرف عبادت گاہوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ انسانی زندگی کے ہر گوشے کی اہمیت و افادیت کو اپنے دائرۂ فکر اور زاویۂ نظر میں شامل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں سیاست، اخلاق سے علاحدہ نہیں، اقتدار عبادت سے منفک نہیں، اور ریاست دین سے جدا نہیں۔امتِ مسلمہ کی تاریخ اس حقیقت کی چشم دید ہے کہ جب تک سیاست، الہی اور نبوی تعلیمات کے تابع رہی، مسلمان دنیا کی فکری، عسکری،تعلیمی،تہذیبی اور روحانی قیادت کرتے رہے؛ لیکن جب سیاست مقصد کے بجائے مفاد کا آلہء کار بنی تو زوال نے امت کے دروازے پر دستک دی۔آج امتِ مسلمہ جغرافیائی اعتبار سے منتشر، فکری اعتبار سے پراگندہ، اور سیاسی اعتبار سے مغلوب و شکست خوردہ دکھائی دیتی ہے۔ ایسے میں یہ سوال نہایت اہم ہو جاتا ہے کہ اسلام اور سیاست کا باہمی تعلق کیا ہے؟ خلافتِ راشدہ سے خلافتِ عثمانیہ تک امت نے کون سے سیاسی اصول و ضوابط اپنائے؟ اور خلافتِ عثمانیہ کے سقوط کے بعد امتِ مسلمہ زوال کی اس گہری کھائی میں کیوں جا گری؟ یہ مضمون ان شاء اللہ انھیں عوامل و عناصر پر محیط ایک فکری و تحقیقی تجزیہ پیش کرے گا۔
اسلام ایک ہمہ گیر نظامِ حیات ہے۔قرآنِ مجید نے جہاں عبادات، معاملات اور اخلاقیات کی تعلیم دی، وہیں اجتماعی تنظیم، باطنی تہذیب، سیاسی ترتیب، شورائیت اور اقتدار کے اصول و قوانین بھی بیان کیے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ"حکم صرف اللہ ہی کا ہے۔یہ آیت اس امر کی طرف غماز ہے کہ اسلام میں سرچشمۂ اقتدار اللہ تعالیٰ کے احکام و فرامین کی بجا آوری ہے، نہ کہ ایک فرد، ایک خاندان یا ایک قوم کی خود ساختہ دنیاۓ تصور۔اسی طرح قرآن مجید میں آیا ہے"وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ"اور ان کے معاملات باہمی مشورے سے طے پاتے ہیں۔ یہ الہی اصول اسلامی سیاست کی بنیاد “شورائیت” کو قرار دیتی ہے، جو ظلم و ستم، تحکم و تشدد جابرانہ اقتدار اور آمرانہ نظام کی نفی کرتی ہے۔رسولِ اکرم نبی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں جو ریاست قائم فرمائی، وہ بحثیتِ مذہبی مرکز نہ تھی بلکہ ایک مکمل سیاسی، سماجی ،اخلاقی اور قانونی نظام تھا۔ “میثاقِ مدینہ” انسانی تاریخ کے اولین تحریری دساتیر میں شمار ہوتا ہے، جس میں مذہبی آزادی، اجتماعی دفاع، عدل اور شہری حقوق جیسے اصول موجود تھے۔ابن ہشام نے اپنی کتاب السیرۃ النبویۃ میں اس معاہدے کی تفصیلات ذکر کی ہیں چشمِ بینا سے دیکھی جاسکتی ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی الله عليه وسلم نے فرمایا:بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کیا کرتے تھے، جب ایک نبی وفات پاتا تو دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا، اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا بلکہ خلفاء ہوں گے۔یہ زبانِ نور سے نکلی ہوئی بات واضح کرتی ہے کہ نبوت کے بعد امت کی اجتماعی قیادت “خلافت” کے ذریعے جاری رکھی گئی۔
خلافتِ راشدہ اسلامی سیاسی افکار و نظریات کا سنہرا باب ہے۔ یہاں اقتدار ذاتی ۔ منفعت کے لیے نہیں بلکہ امانت و رواداری کے طور پر استعمال ہوا۔حضرت ابو بکر صدیق کا پہلا خطبہ اسلامی سیاسی فلسفے کا بنیادی منشور ہے۔ جس کا ایک نایاب جز یہ تھا کہ“اگر میں درست چلوں تو میری مدد کرو، اور اگر میں ٹیڑھا ہو جاؤں تو مجھے سیدھا کر دو۔” چند الفاظ پر مشتمل یہ جملہ اسلامی سیاست میں عوامی احتساب اور حکمران کی جواب دہی کا سب سے روشن اصول اور بیّن دلیل ہے۔حضرت عمر بن خطاب کے دور میں عدل و انصاف اور احتسابی نظام اپنی معراج پر پہنچا۔ تاریخِ طبری اور البدایہ والنہایہ میں مذکور ہے کہ ایک عام شہری نے مسجد میں کھڑے ہوکر خلیفۂ وقت سے لباس کے بارے میں سوال کیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وضاحت پیش کی۔ یہ منظر اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ اسلامی سیاست میں حاکم قانون سے بالاتر نہیں ہوتا۔خلافتِ راشدہ کے زمانے میں عدل و انصاف، امن و امان،صلح و آشتی اقتدار سے مقدم تھا۔بیت المال عوامی امانت کا واضح قرینہ تھا، حکمران سادگی کے عکس جمیل تھے،سیاست، اخلاقیات کے تابع تھی۔ انھیں وجوہات کی بنا پر مسلمانوں کو ہر طرح کی قیادت نصیب تھی۔
خلافتِ راشدہ کے بعد اسلامی سیاست میں تدریجاً ملوکیت داخل ہوئی۔امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور سے سیاسی نظام میں موروثیت کے عناصر نمایاں ہونے لگے۔ یہ اور بات کہ اموی اور عباسی ادوار میں اسلامی فتوحات اور علمی ترقی جاری رہی، لیکن سیاست رفتہ رفتہ روحانی و اخلاقی بنیادوں سے دور ہوتی گئی۔ابن خلدون اپنی شہرۂ آفاق کتاب المقدمہ میں لکھتے ہیں کہ "جب اقتدار عصبیت اور موروثیت کی بنیاد پر قائم ہو جائے تو ریاست کے اندر زوال کے جراثیم پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں"۔یہی وہ دور تھا جب شورائیت کمزور ہوئی،سیاسی و سماجی اقتدار خاندانی وراثت بننے لگا،علمی و روحانی قیادت میں فاصلہ بڑھا،اور امت میں داخلی تقسیم شروع ہونے لگی ۔خلافتِ عثمانیہ تقریباً چھ صدیوں تک عالمِ اسلام کی سیاسی وحدت کے ماتھے کی جھومر رہی۔سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کرکے اسلامی تاریخ کا نیا باب رقم کیا۔ عثمانیوں کے دور میں:اسلامی قانون نافذ رہا،علوم و فنون کو فروغ ملا،اور مسلم دنیا ایک سیاسی مرکز کے تحت اتحاد و اتفاق کا روشن منارہ رہی۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ داخلی کمزوریاں پیدا ہوئیں مثلاً علمی جمود، عسکری پسماندگی،درباری سازشیں، یورپی استعمار کی مداخلت اور قوم پرستی کا فروغ وغیرھم۔انیسویں صدی تک یورپ صنعتی و سائنسی انقلاب سے گزر چکا تھا جبکہ مسلم دنیا داخلی انتشار کا شکار تھی۔پہلی جنگِ عظیم کے بعد خلافتِ عثمانیہ شکست کھا گئی، اور 1924ء میں مصطفیٰ کمال اتاترک نے خلافت کا خاتمہ کر دیا۔ یہ قیامت خیز سانحہ ایک سیاسی ادارے کا خاتمہ نہیں تھا بلکہ امتِ مسلمہ کی وحدت کے شیرازے کے انتشار کا پیش خیمہ تھا۔
خلافت کے خاتمے کے بعد امت کئی قومی ریاستوں میں تقسیم ہوگئی۔ استعمار نے جغرافیہ کے ساتھ ساتھ ذہنوں کو بھی منقسم کردیا۔مسلمانوں کی سیاسی قوت روٹی کےٹکڑوں میں بٹ گئی اور “امت” کا تصور “قومیت” کی بھنبھناہٹ میں دبنے لگا۔ یہ جو امت مسلمہ کی شوکت و سیاست میں زوال آیا اس کی متعدد وجوہات ہیں ان میں سے چند ایک کی طرف اشارہ کر دینا مناسب سمجھتا ہوں۔ مسلمان جب تعلیمی میدان میں پسماندگی کا شکار ہوئے تو اس کے اثرات صرف درسگاہوں تک محدود نہ رہے، بلکہ پوری امت کی فکری، اخلاقی اور سیاسی زندگی کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ اخلاقی انحطاط نے کردار کی عظمت کو ماند کر دیا، حق شناسی کی فطرت کمزور پڑ گئی، اور سیاسی بصیرت محدود ہو کر رہ گئی۔ روحانی اعتبار سے امت پژمردہ اور ناتواں ہوتی گئی، یہاں تک کہ وہ اپنے حقیقی قائدین اور مخلص رہنماؤں کو بھی وہ مقام نہ دے سکی جس کے وہ مستحق تھے۔امتِ مسلمہ کی سیاسی تاریخ کا تاریک باب اُس وقت شروع ہوا جب فکری انتشار نے دل و دماغ کو منتشر کر دیا۔ مسلمان ذہنی جمود، فکری تعطل اور عملی بے حسی کا شکار ہو گئے۔ جن قوموں کے ہاتھوں میں کبھی علم، حکمت، عدل اور قیادت کے چراغ تھے، وہی قوم عمل کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دینے سے محروم ہو گئی۔علامہ اقبال نے اسی حقیقت کو نہایت گہرے شعور کے ساتھ بیان کیا تھا۔ع
قوتِ فکر و عمل پہلے فنا ہوتی ہے
پھرکسی قوم کی شوکت پہ زوال آتاہے
آج امتِ مسلمہ ایک نازک شاہراہ پر کھڑی ہے۔ ایک طرف عالمی طاقتوں کا دباؤ ہے، دوسری طرف داخلی انتشار۔ لیکن اس کے باوجود امکانات ختم نہیں ہوئے۔ترکی، ملائیشیا، قطر اور بعض دیگر مسلم ممالک نے جدید سیاسی و معاشی میدان میں جزوی کامیابیاں حاصل کی ہیں، مگر امت کی مجموعی وحدت اب بھی خواب معلوم ہوتی ہے۔موجودہ دور میں مسلم سیاست کے لیے چند بنیادی نکات ناگزیر ہیں،۱قرآن و سنت کی طرف فکری رجوع،۲شورائیت اور عدل کا احیاء،۳تعلیم و تحقیق کا فروغ،۴ فرقہ واریت کا خاتمہ،۵ فکری و عملی میدان میں پیش قدمی، ۶اخلاقی سیاست کی تشکیل یہ وہ اسباب و عوامل ہیں جن کی بجاآوری امت مسلمہ کی سیاست میں انقلابی لہر پیدا کرے گی۔ اسلامی سیاست کا مقصد اصلی محض حکومت حاصل کرنا نہیں بلکہ انسانیت کے لیے عدل، امن اور اخلاقی توازن قائم کرنا ہے۔اگر امت دوبارہ اپنی سیاسی فکر کو قرآن و سنت کے اصولوں سے وابستہ کرے تو اس کا احیاء ممکن ہے۔ مضمون کی طوالت کا خوف ذہن کو مضمحل کر رہا ہے اس لیے علاقہ اقبال کے ایک شعر سے اس مضمون کا اختتام کرتا ہوں جو سیاسی نظام کے نتیجے کے طور پر بالکل سٹِک علامت نما ہے۔ ع
جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
-------------------------------------------------------+----
مزید پڑھیں 👇🏻

