از: محمد اسلم ساقی مصباحی
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
امّا بعد : تمام تعریفیں اُس مصوّرِ اعظم کے لیے جس نے لفظِ "کن" کے آلۂ تصویر سے کائنات کی ایسی مصوری کی جس کی مثال تا ابد پیش نہیں کی جا سکتی۔ وہ خلاّقِ ازلی جس نے آسمان کو آفتاب و ماہتاب اور کہکشاؤں سے، فرش گیتی کو کوہساروں اور سبزہ زاروں سے، دریاؤں کو روانی اور آبشاروں سے، سمندر کو تلاطم، تموّج اور طغیانیوں سے، دامنِ دشت کو گونا گوں پرندوں کی نغمگی سے، صحرا اور ریگستانوں کو ماہِ کامل کی تابانیوں اور شفاف پانی کی رونقوں سے، یوں آراستہ کیا جیسے یہ کائنات، نگار خانۂ حسن و جمال ہو۔
بعدہ درود و سلام نازل ہوں اُس عظیم ہستی پر، جو وجہِ تخلیقِ کائنات بھی ہیں اور باعث تسکین قلوب بھی۔ جو محبوبِ رب اکبر بھی ہیں اور نازشِ روحِ انسانیت بھی۔ درود و سلام نازل ہوں اُس مثالِ انسانیت پر جن کے صدقے نظامِ ہستی کا توازن بر قرار ہے۔ جن کے طفیل انسان کو اشرف المخلوقات کا اعزازِ عظیم حاصل ہوا۔ جن کے نظرِ التفات سے لاکھوں دکھیاروں کو عاطفت کی گود نصیب ہوئی۔ جن کے اِشارۂ آبرو سے ہزاروں حیرت انگیز معجزات وقوع پذیر ہوئے۔ جن کے کہنے پر چاند نے اپنا سینہ چاک کرنے کا شرف و اعزاز حاصل کیا۔ اور نگاہِ نبوّت کے اشارے سے سورج نے پلٹ کر اپنے سر پر افتخار کا تاج زرّیں سجایا۔
سلامتی ہو اصحاب و آلِ رسول اور اُن ستودہ صفات ہستیوں پر جنہوں نے علوم و فنون کی نشر و اشاعت کا بار گراں اپنے کندھوں پر اٹھایا۔ اور علم و عمل کے ہر میدان میں ایسی رہنمائی فرمائیں جو آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔
جامعہ اشرفیہ مبارک پور دُنیائے سنیت کا ایک نمایاں اور شہرہ آفاق ادارہ ہے۔ جو کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اسی جامعہ کے احاطے میں مختلف اضلاع کی متعدّد تنظیمیں اپنے اپنے طور پر دینی اور تعلیمی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ "تنظیم فلاح قوم و ملت" بھی اسی تسلسل کی ایک نہایت مضبوط کڑی ہے۔ جس کی باگ ڈور طلبۂ کٹیہار کے با برکت ہاتھوں میں ہے۔ یہ تنظیم اپنے نمایاں کارکردگیوں کی بنیاد پر جامعہ کے احاطے میں اپنی ایک الگ شناخت رکھتی ہے۔ مگر ایک بات جو تمام تنظیمات میں مشترک ہے، وہ ہفتہ وارانہ تربیتی بزم کا اہتمام ہے۔
تنظیم فلاح قوم و ملت کے زیرِ اہتمام چلنے والی مشقی بزم جو کہ "بزمِ رشیدی" کے نام سے موسوم ہے، آج پھر اپنی سابقہ روایت کے مطابق پورے تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوئی۔ طلبہ کٹیہار اپنے چہروں پر بشاشت کا غازہ مل کر حاضرِ بزم ہوئے۔ اور آدابِ محفل کی رعایت کے ساتھ بالترتیب بیٹھ گئے۔ نقیب اہل سنت "جناب اخلاق انصاری" نے اپنی لیاقتوں کا جوہر دکھاتے ہوئے بزم کا آغاز کیا۔ اولاً اُنہوں نے بزم کے اہتمامِی زمین پر اجمالاً روشنی دالی۔ اور تلاوت قرآن سے بزم میں برکتوں کا ہجوم اکٹھا کرنے کے لیے ایک خوش الحان تالی قرآن یعنی "ذکر الحق" کو تلاوتِ قرآن کی دعوت دی۔ اُس دوران نقیب صاحب نے عمدہ اشعار سنا کر حاضرینِ بزم کے کشور قلب کو فتح کرنے کی اچھی کوشش کی۔ جناب قاری صاحب نے بھی بہترین اور شائستہ انداز میں قرآنِ مجید کی تلاوت کی۔ جو یقیناً قابلِ مبارک باد ہے۔
تلاوت قرآن سے بزم کی روح کو تازہ کرنے کے بعد نقیب صاحب نے انجمن میں نشاط و سرور کی فضا قائم کرنے کا ارادہ فرمایا، اس کے لیے انہوں نے ایک خوبصورت لب و لہجہ کے مالک "جناب داؤد صاحب" کو دعوت دی۔ شاعر صاحب نے با وقار اور پر کشش انداز میں نعت نبی پڑھ کر محفل میں ایک رقت انگیز کیفیت طاری کر دی۔ اور پوری محفل میں نشاط و سرور کا ایک سماں بندھ گیا۔
نعت نبی کے بعد دنیائے نثر کی لذتوں سے آشنا کرنے کے لیے نقیب صاحب نے بزم کے ایک بہترین مقرر "جناب ثاقب صاحب" کو دعوتِ خطاب دی۔ خطیب صاحب کے استقبال کے لیے نقیب صاحب نے جہاں ایک طرف عمدہ اشعار سنایا، وہیں دوسری طرف خطیب صاحب کی خدمت میں کچھ تعریفی کلمات بھی پیش فرمایا۔ بعدہ خطیب صاحب ممبر پر تشریف لائے، اور انہوں نے پر سکون مگر سلیس انداز میں ایسی خطابت فرمائی جسے سن کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے موضوع کا حق ادا کر دیا۔ انہوں نے حج کی تاریخی حیثیت کو زبردست انداز میں واضح کیا۔ اور بتایا کہ یہ عظیم عبادت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہے۔ مگر خطیب صاحب مقررہ وقت میں موضوع کو سمیٹنے سے قاصر رہے۔
اس کے بعد لگاتار دو مقرروں کا نام پکارا گیا مگر شومی قسمت سے دونوں صاحب غائب نظر آئے۔ جو کہ اپنے آپ میں یہ ایک بری روش ہے۔
پھر دینیات کے باب میں جناب قیصر صاحب نے ميت کو غسل اور کفن پہنانے کا مکمل طریقہ حاضرین بزم کو سنایا۔ بزم کے بعض طلبہ نے جناب قیصر سے کچھ سوالات بھی کیے جن کا جناب نے صحیح جواب بھی دیا۔ اس کے بعد حدیث کے کالم کا ایک فرد جناب حسیب صاحب نے قربانی کی فضیلت پر پانچ احادیث سنائی۔ دینیات اور حدیث کے باب میں محمد شاداب ثانیہ اور مشرف نواز خامسہ صاحبان غائب رہے۔ جس کی وجہ معلوم نہ ہو سکی۔
آخر میں مصلحِ بزم "جناب نایاب صاحب" نے تمام نام زد افراد کی علمی، فنی، لسانی اور ادبی اصلاح فرمائی۔ اصلاح کا اسلوب و انداز خوب سے خوب تر تھا۔ اس طرح جناب نے اصلاح کے فریضے کو انتہائی حسن و خوبی کے ساتھ انجام دیا۔ جو یقیناً قابلِ رشک اور لائق تقلید ہے۔
اس کے بعد صدرِ بزم "جناب عظمت صاحب" نے اپنی کچھ قیمتی اور انمول باتوں سے سامعین کے تہی دامن کو سرشار فرمایا۔ صدر صاحب کی مختصر مگر با معنی گفتگو سے چمنستان بزم کا ذرہ ذرہ کھل اٹھا۔ اور گل بوٹوں کی روح پر فرحت و انبساط کے بادل چھا گئے۔ کلیوں کی نازک جلد سے شبنم کے سفید قطرے ٹپکنے لگے۔
بالآخر بزم کا اختتام صلوۃ و سلام کی فرخندہ صدا، اور "جناب اسلم ساقی مصباحی" کی کیف آور دعا پر ہوا
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
