کسی کام کے سبب قرآن بھولنا کیسا ہے؟
اگر کوئی شخص کام میں مصروف ہونے کے سبب حفظِ قرآن بھول جائے تو کیا توبہ کرنا کافی ہے یا قرآن پاک کو یاد رکھنا ضروری ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
قرآن پاک کو یاد رکھنا ضروری ہے فقط توبہ کافی نہیں ہے کیونکہ اگر ایک مرتبہ قرآن پاک حفظ کر لیا تو زندگی بھر یاد رکھنا ضروری ہوتا ہے، قرآن پاک یاد کرنے کے بعد بھول جانے کے متعلق حدیث پاک میں سخت وعیدیں وارد ہیں۔ اگر قرآن پاک یاد کرنا ترک کر دیا جائے تو وہ سینوں سے نکل جاتا ہے، لہذا حُفّاظ کو چاہیے کہ قرآن مجید کو وقتاً فوقتاً یاد کرتے رہیں تاکہ بھولنے سے محفوظ رہیں۔ فقط کام کے سبب قرآن پاک یاد نہ کرنا قابلِ قبول عُذر نہیں ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص بوڑھا ہے یا ذہن اتنا کمزور ہو گیا کہ مسلسل پڑھنے کے باوجود یاد نہیں رہا اور حافظ نے اپنی طرف سے یاد کرنے میں کوتاہی نہیں کی پھر بھول گیا تو اللہ پاک سے اُمید ہے کہ اس پر مواخذہ نہ ہو۔
قرآن پاک بھلا دینا گُناہ ہے، چنانچہ حدیث پاک میں ہے:”عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:«عرضت عليَّ أجور أمتي حتى القذاة يخرجها الرجل من المسجد، وعرضت على ذنوب أمتي، فلم أر ذنباً أعظم من سورة من القرآن أو أية أوتيها رجل ثم نسيها.“ یعنی حضرتِ انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْهُ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:میری امت کے ثواب مجھ پر پیش کیے گئے، یہاں تک کہ تنکا جو مسجد سے آدمی نکال دیتا ہے اور میری امت کے گناہ مجھ پر پیش ہوئے، تو اس سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ آدمی کو سورت یا آیت دی گئی اور اس نے بھلا دیا۔ (جامع الترمذي، أبواب فضائل القرآن، 19۔ باب، الحدیث:2925، جلد:4، صفحة:420)
دوسری روایت میں ہے:”ما من امرء يقرأ القرآن ثم ينساه؛ إلا لقي الله يوم القيامة أجذم، رواہ ابو داؤد والدارمی والنسائي.“ یعنی جو قرآن پڑھ کر بھول جائے قیامت کے دن کوڑھی ہو کر آئے گا، اس حدیث کو ابو داؤد و دارمی و نَسائی نے روایت کیا۔ (سنن أبي داود، کتاب الوتر، باب التشدید فیمن حفظ القرآن ثم نسیه، الحدیث:1474، جلد:2، صفحة:107)
اگر قرآن پاک یاد نہیں کرتے رہو گے تو وہ تمہارے سینوں سے نکل جائے گا، جیسا کہ حدیث پاک میں ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:”تعاھدوا القراٰن فوالذی نفسی بیدہ لھو أشد تفصیا من الإبل في عقلھا، رواہ البخاری ومسلم۔ یعنی نگاہ رکھو قرآن کو اور اسے یاد کرتے رہو سو قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے البتہ قرآن زیادہ چھوٹنے پر آمادہ ان اونٹوں سے جو اپنی رسیوں سے بندھے ہوں، اس کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا۔ (صحيح البخاري، كتاب فضائل القرآن، 2 /753)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی
------- ----------------------- -------------------------- ----------------------- -------------------------- --------
مزید پڑھیں 👇🏻

