سب سے پہلے مسلمان تھے تو ہندو دھرم کیسے آیا | محمد اویس العطاری المصباحی


سوال یہ ہے کہ پہلے سب مسلمان تھے تو ہندو دھرم کیسے پھیلا؟



بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جی ہاں! دنیا میں حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانہ سے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے عہد تک سب لوگ ایک دین اور ایک شریعت پر تھے، پھر ان میں اختلاف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مبعوث فرمایا ،یہ بعثت میں پہلے رسول ہیں۔ لیکن بُت پرستی کی ابتداء کچھ اس طرح ہوئی کہ ود، سُوَاع، یغوث، یعوق اور نسر یہ حضرت نوح علیه السلام کی قوم کے نیك اور پارسا لوگوں کے نام ہیں، جب وہ وفات پا چکے تو شیطان نے بعد والوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا کہ جہاں یہ لوگ بیٹھتے تھے وہیں اُن مجالس میں انہیں نصب کر دو (یعنی قرینے سے انہیں کھڑا کر دو) اور جو ان کے نام زندگی میں) تھے وہی نام رکھ دو، تو لوگوں نے (جہالت سے) ایساہی کیا۔ پھر کچھ عرصہ ان کی عبادت نہ ہوئی، یہاں تك کہ جب وہ تعظیم کرنے والے مرگئے اور علم مٹ گیا (اور ہرطرف جہالت پھیل گئی) توپھر ان کی عبادت شروع ہوگئی۔ ہندو دھرم سمیت دنیا کے تمام باطل مذاہب کی بنیاد اسی طرح نیک لوگوں کی تعظیم میں غلو سے پڑی۔

حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانہ سے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے عہد تک سب لوگ ایک دین اور ایک شریعت پر تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:”﴿كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً.﴾ یعنی لوگ ایک دین پر تھے۔ (القرآن الکریم، سورۃ البقرہ، آیت:213)

اس آیت کے تحت "تفسیر ابنِ کثیر" میں ہے:”عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ نُوحٍ وَآدَمَ(١) عَشَرَةُ قُرُونٍ، كُلُّهُمْ عَلَى شَرِيعَةٍ مِنَ الْحَقِّ. فَاخْتَلَفُوا، فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ.“ یعنی حضرت ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْهُ نے فرمایا:آدم اور نوح (عليهما السلام) کے درمیان دس قُرون تھے تمام شریعتِ حق پر قائم تھے، پھر مختلف ہو گئے، پھر اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دیتے اور ڈر سناتے۔ (تفسیر ابنِ کثیر، سورۃ البقرہ تحت الآیة:213)

"تفسیر جلالین" میں ہے:”على الإيمان فاختلفوا بأن آمن بعض وكفر بعض.“ یعنی لوگ ایمان پر تھے پھر مختلف ہو گئے بایں طور بعض ایمان لائے اور بعض کافر ہوئے۔ (تفسیر جلالین، سورۃ البقرہ، تحت الآية:213)

پت پرستی کی ابتداء کے متعلق "تفسیر دُرِّ منثور" میں ہے:”أخْرَجَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ أبِي مُطَهَّرٍ قالَ: ذَكَرُوا عِنْدَ أبِي جَعْفَرٍ يَزِيدَ بْنِ المُهَلَّبِ فَقالَ: أما إنَّهُ قُتِلَ في أوَّلِ أرْضٍ عُبِدَ فِيها غَيْرُ اللَّهِ، ثُمَّ ذَكَرَ ودًّا قالَ: وكانَ وُدٌّ رَجُلًا مُسْلِمًا، وكانَ مُحَبَّبًا في قَوْمِهِ، فَلَمّا ماتَ عَسْكَرُوا حَوْلَ قَبْرِهِ في أرْضِ بابِلَ، وجَزِعُوا عَلَيْهِ، فَلَمّا رَأى إبْلِيسُ جَزَعَهم عَلَيْهِ تَشَبَّهَ في صُورَةِ إنْسانٍ، ثُمَّ قالَ: أرى جَزَعَكم عَلى هَذا، فَهَلْ لَكم أنْ أُصَوِّرَ لَكم مِثْلَهُ فَيَكُونَ في نادِيكُمْ، فَتَذْكُرُونَهُ بِهِ؟ قالُوا: نَعَمْ، فَصَوَّرَ لَهم مِثْلَهُ، فَوَضَعُوهُ في نادِيهِمْ، وجَعَلُوا يَذْكُرُونَهُ، فَلَمّا رَأى ما بِهِمْ مِن ذِكْرِهِ، قالَ: هَلْ لَكم أنْ أجْعَلَ لَكم في مَنزِلِ كُلِّ رَجُلٍ مِنكم تِمْثالًا مِثْلَهُ، فَيَكُونُ في بَيْتِهِ فَتَذْكُرُونَهُ؟ قالُوا: نَعَمْ، فَصَوَّرَ لِكُلِّ أهْلِ بَيْتٍ تِمْثالًا مِثْلَهُ، فَأقْبَلُوا فَجَعَلُوا يَذْكُرُونَهُ بِهِ، قالَ: وأدْرَكَ أبْناؤُهم فَجَعَلُوا يَرَوْنَ ما يَصْنَعُونَ بِهِ، وتَناسَلُوا، ودَرَسَ أمْرُ ذِكْرِهِمْ إيّاهُ، حَتّى اتَّخَذُوهُ إلَهًا يَعْبُدُونَهُ مِن دُونِ اللَّهِ، قالَ: وكانَ أوَّلَ ما عُبِدَ غَيْرُ اللَّهِ في الأرْضِ ودٌّ، الصَّنَمُ الَّذِي سَمَّوْهُ بِوَدٍّ.“ یعنی عبد بن حمید نے ابو مطہر کی سند سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے ابو جعفر کے سامنے یزید بن المہلب کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: پھر انہوں نے ود کا ذکر کیا اور فرمایا:"ود" ایك مسلمان شخص تھا جو اپنی قوم میں ایك پسندیدہ اور محبوب شخص تھا جب وہ مر گیا تو سر زمین بابل میں لوگ اس کی قبرکے آس پاس جمع ہوئے اور اس کی جدائی پر بے قرار ہوئے (اور صبرنہ کر سکے) جب شیطان نے اس کی جدائی میں لوگوں کو بیتاب پایا تو وہ انسانی صورت میں اُن کے پاس آیا اور کہنے لگا میں اس شخص کے مرنے پر تمہاری بے قراری دیکھ رہا ہوں کیا مناسب سمجھتے ہو کہ میں بالکل اس جیسی تمہارے لئے اس کی تصویر بنا دوں، پھر وہ تمہاری مجلس میں رہے پھر اس کی تصویر دیکھ کر تم اسے یاد کرو۔ لوگوں نے کہا ہاں یہ تو اچھی تجویز ہے۔ پھر شیطان نے لوگوں کے لئے بالکل اسی جیسی اس کی تصویر بنا دی اور لوگوں نے اسے اپنی مجالس میں سجا رکھا اور اس کی یاد کرنے لگے۔ پھر جب شیطان نے دیکھا کہ اس کے ذکر سے لوگوں کی جو حالت ہوتی ہے۔ پھر شیطان کہنے لگا کیاتم یہ مناسب کہتے ہوکہ میں تم میں سے ہرشخص کے لئے اس کے گھر میں اس کے بزرگ کا عکس تیار کر کے سجا دوں تاکہ وہ اس کے گھرمیں موجود ہو، اور تم سب لوگ (انفرادی اور اجتماعی طور پر) اس کا تذکرہ کرتے رہو۔ لوگ کہنے لگے ہاں یہ بالکل ٹھیك ہے۔ پھر اس نے سب گھر والوں ں کے لئے بالکل اسی جیسا اس کا ایك ایك فوٹو تیار کر دیا پھر لوگ اس کی طرف متوجہ ہوگئے اور اس کا فوٹو دیکھ کر اُسے یاد کرتے رہے۔ راوی نے کہا اور ان کی اولاد نے یہ دَور پا لیا، پھر وہ دیکھتے رہے کہ جو کچھ ان کے بڑے کرتے رہے، اور پھر نسل آگے بڑھی (اور پھیلی) جب اس کے ذکر کا سلسلہ کچھ پُرانا ہو گیا یہاں تك کہ جہالت سے پچھلے اور آنے والی نسلوں نے اسے خُدا بنا لیا کہ ﷲ تعالٰی کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرنے لگے۔ (راوی نے کہا) سب سے پہلے زمین پر ﷲ تعالٰی کے علاوہ جس کی عبادت کی گئی وہ یہی بت ہے کہ جس کانام لوگوں نے وَد رکھا ہے۔ (الدر المنثور في التفسير الماثور، سورۃ نُوْح، تحت الآية:23)

والله تعالیٰ اعلم بالصواب

كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی
–-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مزید پڑھیں 👇🏻 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.