ماں تیرے جانے کے بعد| محمد اسلم ساقی


ماں تیرے جانے کے بعد


محمد اسلم ساقی

    کٹیہار ، بہار


زندگی میں در پیش ہونے والے بعض حوادثات ایسے زخم ریز ہوتے ہیں، جن کی ضربِ شدید کا احساس سالوں بیت جانے کے بعد بھی جسم و روح پر ہوتا رہتا ہے۔ اکثر ہم کائنات کی رنگا رنگی سے مرعوب و متاثر ہو کر اُن حادثاتی خیالات کو صفحۂ ذہن سے مٹا بھی دیتے ہیں۔ لیکن بعض دفعہ وہ روح فرسا واردات و حوادث سطحِ ذہن پر انتہائی بے خبری کے عالم میں ایسے رونما ہوتے ہیں جیسے ناگہاں ملک الموت۔ اُن روداد کے یاد آتے ہی پیروں تلے سے زمین کھِسک جاتی ہے۔ جسم و جان پر تزلزل و تذبذب کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ طبیعت اضمحلال و پژمردگی کے نذر ہو جاتی ہے۔ آنکھوں سے اشک سیلِ رواں کی طرح جاری ہو جاتا ہے۔ تنہائی اپنے حصار میں لیکر ذہن و دماغ پر خیالات و احساسات کا ہتھوڑا چلاتی ہے۔


عام طور سے میری طبیعت ان داخلی کیفیات سے گھری رہتی ہے۔ لیکن آج ان کیفیات کا یومِ شباب ہے، جس کی وجہ سے میری طبیعت کی اضطرابی حالت مزید متاثر ہوتی جا رہی ہے۔ قلبِ ناساز داروئے درد و الم کا اثر قبول کرنے سے منہ چرا رہا ہے۔ اس لیے کہ ایک سال قبل آج کی تاریخ ( 4 محرم الحرام 1446ھ ) میں ایک ماں اپنے چار بیٹوں کے سروں سے اپنی شفقتوں کا سایہ اٹھا کر داعی اجل کو لبیک کہہ دیتی ہے۔ اور اپنے رفیقِ حیات کے ہاتھوں میں شکوہء بے وفائی کی تسبیح تھما کر روپوش ہو جاتی ہے۔


جب جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں تعطیل عید الاضحٰی ہوئی، تو چھٹی کے ایّام گزارنے کے لیے گھر چلا گیا۔ اس دوران والدہ کی طبیعت سخت ناساز تھی۔ گھر میں رہتے ہوئے والدہ کی خوب خوب عیادت کی۔ کچھ ہی دنوں کے بعد تعطیل کے ایام گزر گئے، اور میرے دونوں بھائی ( حافظ محمد اشرف اور محمد شوکت ) جامعہ روانہ بھی ہو گئے۔ لیکن میں مزید کچھ دنوں کے لیے ٹھہر گیا۔ اور ماں کی عیادت میں مصروف رہا۔ جب والدہ کی طبیعت کچھ سازگار ہوئی تو میں بھی جامعہ اشرفیہ کے لیے گھر سے روانہ ہو گیا۔ گھر سے نکلتے وقت شومئی قسمت سے ماں کی آخری قدم بوسی کا اعزاز بھی حاصل نہ ہو سکا۔ اُس پر مستزاد یہ کہ گھر کے آنگن سے نکلتے ہوئے دکھیاری ماں کے حسرت زدہ چہرے کی طرف پلٹ کر بھی نہیں دیکھا۔ جس کا قلق آج بھی میں اپنے سینے میں محسوس کر رہا ہوں۔ کسے معلوم تھا کہ ماں کے اُن نازک قدموں کا بوسہ اور چہرے کی زیارت دوبارہ میسّر نہیں ہوگی، جن قدموں کی برکتوں سے گھر کا گوشہ گوشہ جنّت نشان بنا ہوا تھا۔ جن کے چہرے کی بشاشت سے گھر کی دیواریں مسکراتی تھیں۔ بلآخر ؛ سفر کی مشقتیں برداشت کرتے ہوئے میں جامعہ پہنچ گیا۔


مجھے جامعہ پہنچے پانچ دن بھی نہیں ہوئے تھے کہ علالت کی ماری ماں کا روگ مزید بڑھ گیا۔ حتی کہ ہاسپیٹل میں ایڈمٹ بھی کر دی گئی۔ اور میں اب تک اس جاں سوز سانحہ سے بے خبر تھا۔جامعہ میں موجود میرا چھوٹا بھائی "حافظ اشرف" ایک روز اپنا اُداس اور غم آشام چہرہ لیے ہوئے میرے پاس آیا، اور یوں گویا ہوا کہ آفت رسیدہ ماں کے جسمِ نازک پر مرض و علالت کے طمانچوں کی مزید ضرب مجھ سے برداشت نہیں ہوتی، اس لیے میں بغرض عیادت گھر کے لیے رختِ سفر باندھ رہا ہوں۔ یہ دل دہلا دینے والی خبر سن کر کلیجہ سہم گیا... تابِ گویائی نابود ہو گئی... چہرے کی بشاشت کا رنگ اُڑ گیا۔ قدرے توقف کے بعد میں نے بھائی کو گھر روانہ ہونے کی اجازت دے دی۔ وہ جامعہ سے رخصت لی اور گھر پہنچ کر ماں کی دیکھ بھال میں مصروف ہو گیا ۔


آج جامعہ میں میرا نواں یا دسواں دن ہے۔ میں حسبِ معمول کلاس کر رہا ہوں۔ اچانک گھر سے کال آیا لیکن میں دورانِ درس کال ریسیو نہیں کر سکا۔ کال آتے ہی ذہن و دماغ پر برے خیالات کی آمد و رفت شروع ہو گئی۔ توّجہ انتشار کا شکار ہو گئی، دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ آنکھیں دیوار پر لٹکی گھڑی کے کانٹوں کی طرف مڑ مڑ کے دیکھنے لگیں۔ اتنے میں گھنٹی کی آواز گوشِ سماعت سے ٹکرائی اور میں فوراً کلاس روم سے نکل کر اپنی آرام گاہ پہنچا، اور دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ کپکپاتے ہوئے ہاتھوں سے کال بیک کیا۔ میری چھوٹی چاچی نے کال ریسیو کرتے ہی کہا بیٹا " اسلم " کیا کر رہے ہو... اور کہاں ہو... ہو سکے تو ٹرین میں بیٹھو اور جلدی سے گھر آ جاؤ۔ ان الفاظ کو سنتے ہی میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں... ضبط کا پیمانہ چھلک اٹھا۔ کسی قدر دل کی بے قراری پر قابو پاکر میں نے والدہ کے متعلق سوال کیا تو چاچی نے جواباً کہا کہ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے، بچنے کی کوئی امید نہیں ہے، قضا تیغِ برہنہ لیے سرہانے کھڑی ہے۔ ان درد ناک لفظوں کو سنتے ہی کلیجہ ہل گیا، دل کی دنیا پر اندھیرا چھانے لگا۔ امیدوں کا چراغ طوفانوں کی زد میں آ گیا۔ فوراً یہ خبر اپنے چھوٹے بھائی" شوکت " کو سنائی۔ نشتر کی طرح چبھنے والی یہ خبر سنتے ہی اُن کی آنکھیں بھی بھیگ گئیں۔ اور دونوں بھائی آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب لے کر پرنسیپل کی بارگاہ میں چھٹی کی درخواست پیش کی۔ حضرت نے کرم فرمائی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے پندرہ روز کی چھٹی عنایت فرمائیں۔


دل تو پہلے سے ہی بے چینی کے بحرِ بے کراں میں مستغرق تھا، ساتھ میں یہ فکر بھی دامن گیر ہو گئی کہ چھ سو کلو میٹر کی یہ طویل مسافت کم سے کم وقت میں کیسے طے کرینگے۔ اتفاق سے اس روز "غریب نواز ایکسپریس" اپنی سابقہ روایت کے خلاف صحیح وقت پر چل رہی تھی۔ ابھی ہم جامعہ ہی میں تھے کہ ٹرین اعظم گڑھ کے حدود تجاوز کر چکی تھی۔ اِدھر متعلقین کی جانب سے مسلسل کال، اور فرش گیتی پر والدہ کی آخری سانسوں کی گنتیوں کی خبریں ہماری مایوسی اور اضطرابی کیفیت کو مزید بڑھا رہی تھی۔ بلآخر احباب نے باہم صلاح و مشورے سے رات دس بجے کی ایک گاڑی تجویز کیا۔ ہم دس بجنے کے انتظار میں ایک ایک لمحہ انتہائی بے صبری کے ساتھ کاٹ رہے تھے۔ اس دوران کلیجہ منہ کو آ رہا تھا... بے قراری انتہا کو پہنچ رہی تھی... اور ہمارا جسمِ خاکی بے جان مجسمہ کی صورت اختیار کر رہا تھا۔ پھر شدید انتظار کے بعد سورج کی کرنوں نے اپنا دامن سمیٹا، اور شام کی زلفِ سیاہ کائنات کے سر پر چھا گئی۔ تقریباً رات کے آٹھ بجے ایک عزیز دوست ( محمد افتخار عالم ) نے اپنی دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے ہم دونوں بھائیوں کو جامعہ سے رخصت کیا۔ جامعہ میں موجود بے شمار بچوں میں وہ تنہا شخص تھا جو ہماری اُس نازک حالت میں شانہ بشانہ کھڑے رہ کر دلی ہمدردی کا مظاہرہ کیا، اور اپنے اس عملِ خیر کے اجر و ثواب سے اپنے نامہ اعمال کے عَلمِ شوکت کو بلند کرنے کا شرف و اعزاز حاصل کیا۔ ہم اُن کا بے حد شکر گزار ہیں ۔


ہم وقت مقررہ سے پہلے اسٹیشن پہنچ چکے تھے۔ اسٹیٹنس پر لوگوں کا ہجوم تھا۔ اُن کے چہروں پر بشاشت و شادمانی کے آثار نظر آ رہے تھے۔ اور ہم لوگوں سے اپنا درد چھپانے کے لیے چہرے پر جھوٹی مسکراہٹ لا کر ڈھونگ کر رہے تھے، جبکہ اندرونِ دل مایوسی کی آگ شعلہ زنی کر رہی تھی۔ اور شدّتِ کرب سے خونِ جگر سوکھا جا رہا تھا۔ گھڑی کے کانٹوں کی رفتار دھیمی ہو چکی تھی۔


چھوٹا بھائی شوکت ایک بینچ پر بیٹھے کائینات کی رنگینیوں سے منہ موڑ کر عالمِ تصور میں ماں کی شفقتوں کو یاد کر کے آنکھوں سے آنسوؤں کا دریا بہا رہا تھا۔ ماں کے محبت بھرے لہجے کی نزاکت کو یاد کر کے اپنی پلکوں کو آنسوؤں کے قطروں سے بھاری کر رہا تھا۔ اور محبین مجھے کال کر کے ہمت سے کام لینے کی تلقین کر رہے تھے۔ والدِ محترم کی بس ایک ہی خواہش تھی کہ میرا دونوں لاڈلا، موت کی سسکیاں لے رہی ماں کے سینے سے لپٹ کر ہم کلام ہو جائے۔ راز و نیاز کی باتیں کر کے اپنے اپنے حق میں تسکینِ قلب کا سامان فراہم کر لے۔


کچھ دیر بعد ٹرین آئی، اور ہم اپنا سامانِ سفر اٹھا کر ٹرین میں داخل ہو گئے۔ اتفاق سے اس ڈبّے میں جامعہ کا ایک ساتھی مل گیا، جو کسی ضرورت کے تحت گھر جا رہا تھا۔ خبر و خیریت کے بعد کچھ دیر باہم گفتگو ہوئی، پھر سلسلہ کلام منقطع کر کے اپنی اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گئے۔ ابھی رات کے ساڑھے بارہ بھی نہیں بجے تھے کہ یکایک بھائی ( حافظ اشرف ) کا کال آیا، کال ریسیو کرتے ہی چیختی چلاتی ہوئی درد ناک آواز میں کہا " بھائی والدہ اس دنیا میں نہیں رہی " اپنے بھائی کے اس جملے پر یقین بھی نہیں ہوا تھا کہ آنکھوں نے آنسو برسانا شروع کر دیا۔ حصولِ یقین کے لیے کچھ پوچھنے سے پہلے ہی بھائی نے اُس ایک درد آمیز جملے پر اکتفا کرتے ہوئے کال کاٹ دیا۔ اب کیا تھا ؛ دل نے والدہ کی موت کی گواہی دینی شروع کر دی۔ موت کا یقین ہوتے ہی دونوں بھائی سِسک سِسک کر بِلک بِلک کر رونے لگے... روتے روتے آنکھوں کا چشمہ سوکھ گیا... چہرے پر ضعف و نقاہت کے آثار نمودار ہو گئے... رگوں کی حرارت سرد پڑ گئی... جگر کا خون پلکوں نے سوکھ لیا... دلوں کا نازک آبگینہ ٹوٹ گیا... حسین خوابوں کا تار تار بکھر گیا... دل کی دنیا درہم برہم ہو کر رہ گئی۔ 


اس اجنبی ٹرین میں کون تھا؟ جو ہم دکھیارے بھائیوں کی غمگساری کرتا۔ کون تھا؟ جس کے سینے سے لپٹ کر ہم دل کا بوجھ ہلکا کرتے۔ کون تھا؟ جو صبر کی تلقین کے ذریعے ہمارے آنسوؤں کے سیلاب کو روکتا۔ لمحہ لمحہ درد و غم کے اتھاہ ساگر میں دل ڈوبتا جا رہا تھا۔ اب کسی طرح جذباتِ دل پر قابو پایا ہی تھا کہ پھر ایک بار ماں کی مامتا، لاڈ پیار اور محبتیں یاد آ گئیں جس سے دونوں بھائیوں کی چیخیں نکل پڑیں۔ اُس نالۂ درد سے دھرتی کا کلیجہ پھٹ گیا... چشمِ فلک سے خون برسنے لگا... پتھروں کے جگر سے آنسوؤں کا فوارہ پھوٹنے لگا... حتی کہ اس گریہء بے اختیار سے کائنات کی ماؤں کے آنچل کا دامن بھیگ گیا...


ٹرین میں بیٹھے اُس ساتھی کو جب ہماری گریہ و زاری برداشت نہ ہوئی، تو انہوں نے دونوں بھائیوں کو چُپ کراتے ہوئے صبر کی تلقین کی.. کسی طرح اسی عالمِ کرب میں رات کا بچا ہوا حصہ گزرا۔ اور کچھ ہی دیر بعد سحر طلوع ہو گئی۔ پھر ہمنے اپنے متعلقین کو والدہ کے انتقال کی خبر دی۔ اور پھر آدھے دن کی مشقتیں جھیل کر 4 محرم الحرام کو تقریباً دو بجے گھر پہنچا۔


جیسے ہی گھر کے دروازے پر پہنچا، ناز کے پلے ہوئے دونوں جگر پاروں کو دیکھ کر بے ساختہ لوگوں کی چیخیں نکل گئیں۔ اہل خانہ زار و قطار رونے لگے۔ والدِ محترم اپنے چاروں لاڈلوں کو اپنے سینے سے لگا کر بے تحاشہ رونے لگے۔ باپ بیٹوں کی آہ و فغاں دیکھ کر وہاں پر موجود تمام لوگوں کی آنکھیں بھر آئیں۔ میرے چھوٹے چاچا جو گھر سے لے کر ہاسپیٹل تک ہمہ وقت والدہ کی عیادت میں مصروف رہے اُن کے رونے کی کیفیت ناقابل بیان ہے۔ بس اتنا کہہ سکتے ہیں کہ اُن کی آنکھوں سے پانی نہیں، سُرخ خون بہہ رہا تھا... وہ گھر جو کبھی جنّت نشان ہوا کرتا تھا آج وہی گھر ماتم کدہ بنا ہوا ہے۔ کل جس گھر کی دیواروں کی پیشانی سے مسکراہٹ چھلکتی تھی۔ آج اُس گھر کی دیواروں کا رنگ اُترا ہوا ہے۔ وہ اُسارا جس کی آغوش میں بیٹھ کر ماں اپنے جگر پاروں کو کھانا کھلاتی تھی، آج اسی جگہ پر ماں کی بے جان لاش پڑی ہوئی ہے۔ میں والدِ محترم کے پاس سے فوراً والدہ کے پاس گیا، جیسے ہی چہرے سے پردہ ہٹایا اپنی ماں کے ساکت و جامد چہرے کو دیکھ کر پھر سسکیاں لے لے کر رونا شروع کر دیا۔ ماں کے سینے سے لپٹنے ہی جا رہا تھا کہ فوراً مجھے دادی نے اپنے آغوش میں لے لیا۔ روتے روتے روح حلق کو آ پہنچی تھی کہ لوگوں نے والدہ کے پاس سے اٹھا کر دوسری جگہ بٹھا دیا۔ 


پھر غسل کر کے جنازے کی تیاری میں مصروف ہو گئے۔ سب لوگوں نے خواہش ظاہر کی کہ آپ ہی اپنی ماں کی نمازِ جنازہ پڑھائیں۔ لہٰذا ساڑھے چار یا پانچ بجے جنازے کی نماز عمل میں آئی۔ جنازے کے فوراً بعد بارش کی شکل میں اللہ کی رحمت برسنے لگی۔ پھر مطلع اس قدر صاف ہو گیا کہ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ تھوڑی دیر قبل بارش ہوئی ہے۔ پھر بہت ہی احتیاط اور انتہائی حُسنِ خوبی کے ساتھ والدہ کی تدفین ہوئی۔ اُس کے بعد دعا ہوئی اور سوائے میرے، سب اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے۔ میں وہاں ٹھہر کر آیات قرآنیہ کی تلاوت کی، قبر پر اذان پڑھی اور آخر میں والدہ کو تلقین کر کے واپس لوٹ گیا۔


احباب سے گزارش ہے کہ میری والدہ کے حق میں دعا فرمائیں۔

اللہ تعالی میری والدہ کے گناہ کبائر و صغائر کو معاف فرما کر جنّت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ۔

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

مزید پڑھیں 👇🏻 

استاد اور والدین میں افضل کون.؟



Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.