کیا شوہر اپنی بیوی کو قبر میں اتار سکتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
جی ہاں! شوہر اپنی بیوی کو قبر میں اتار سکتا ہے شرعاً کوئی حرج نہیں۔ شوہر کا اپنی بیوی کو دیکھنا، کندھا دینا، اور قبر میں اتارنا جائز ہے، صرف نہلانے اور اسکے بدن کو بلاحائل ہاتھ لگانے کی ممانعت ہے۔ مگر عوام میں یہ بات بالکل غلط مشہور ہے کہ شوہر عورت کے جنازہ کو نہ کندھا دے سکتا ہے نہ قبر میں اتار سکتا ہے نہ مونھ دیکھ سکتا ہے، اسے ختم کرنا ضروری ہے۔
تنویر الابصار میں ہے:”ويمنع زوجها من غسلها ومسها لا من النظر إليه على الأصح، وهي لا تمنع من ذلك“ یعنی اصح قول کے مطابق شوہر کا اپنی بیوی کو غسل دینا اور اس کو (بلا حائل) چھونا منع ہے اس کو دیکھنا منع نہیں ہے۔ اور بیوی کا اپنے شوہر کو غسل دینا اور اس کو چھونا منع نہیں ہے۔ (تنویر الابصار، کتاب الصلاۃ، باب صلاة الجنائز، الجزء الثالث، صفحة:90، دار الكتب العلمية، بيروت)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:”شوہر کو بعد انتقال زوجہ قبر میں خواہ بیرونِ قبر اس کا منہ یا بدن دیکھنا جائز ہے۔ قبر میں اتارنا جائز ہے، اور جنازہ تو محض اجنبی تك اٹھاتے ہیں، ہاں بغیر حائل کے اس کے بدن کو ہاتھ لگانا شوہر کو ناجائز ہوتا ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:9، صفحہ:139، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)
صدر الشریعہ مُفتی محمد اَمجد علی اعظَمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:” عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ شوہر عورت کے جنازہ کو نہ کندھا دے سکتا ہے نہ قبر میں اتار سکتا ہے نہ مونھ دیکھ سکتا ہے، یہ محض غلط ہے صرف نہلانے اور اسکے بدن کو بلا حائل ہاتھ لگانے کی ممانعت ہے۔“ (بہارِ شریعت، جلد:1، حصہ:4، صفحہ:813، مجلس المدينة العملية دعوت اسلامی)

