شب قدر کی فضیلت
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:﴿اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِ لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ ﴾ ترجمۂ کنز الایمان:بیشک ہم نے اسے شبِ قدر میں اتارا۔ اور تم نے کیا جانا کیا شبِ قدر۔ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر۔ (القرآن الکریم، سورۃ الْقَدَر، آیت:1-3)
★فضائل
حدیث پاک میں ہے:عن عاىشة قالت: قال رسول الله-صلى الله عليه وسلم:”تحروا ليلة القدر في الوتر من العشر الاواخر من رمضان. “ یعنی روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شبِ قدر رمضان کے آخری عشرہ کی طاق تاریخوں میں ڈھونڈو۔ (بخاری)
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول ُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے اس رات میں ایمان اور اخلاص کے ساتھ شب بیداری کرکے عبادت کی تو اللّٰہ تعالیٰ اس کے سابقہ (صغیرہ) گناہ بخش دیتا ہے۔ (بخاری، کتاب الایمان، باب قیام لیلۃ القدر من الایمان، ۱ / ۲۵، الحدیث: ۳۵)
اور حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رمضان کا مہینہ آیا توحضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’بے شک تمہارے پاس یہ مہینہ آیا ہے اور اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ،جوشخص اس رات سے محروم رہ گیا وہ تمام نیکیوں سے محروم رہا اور محروم وہی رہے گا جس کی قسمت میں محرومی ہے۔( ابن ماجہ، کتاب الصیام، باب ما جاء فی فضل شہر رمضان، ۲ / ۲۹۸، الحدیث: ۱۶۴۴)
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ یہ رات عبادت میں گزارے اور اس رات میں کثرت سے اِستغفار کرے، جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں :،میں نے عرض کی : یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ لیلۃ القدر کون سی رات ہے تو ا س رات میں مَیں کیا کہوں ؟ارشاد فرمایا: تم کہو ’’اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ‘‘اے اللّٰہ!،بے شک تو معاف فرمانے والا،کرم کرنے والا ہے،تو معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے تو میرے گناہوں کو بھی معاف فرما دے۔( ترمذی، کتاب الدعوات، ۸۴-باب، ۵ / ۳۰۶، الحدیث: ۳۵۲۴)
نیزآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ’’اگر مجھے یہ معلوم ہوجائے کہ کونسی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس رات میں یہ دعا بکثرت مانگوں گی’’اے اللّٰہ میں تجھ سے مغفرت اور عافیت کا سوال کرتی ہوں ۔( مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الدعاء، الدعاء با العافیۃ، ۷ / ۲۷، الحدیث: ۸)
★ دلائل ہر رات کے متعلق موجود ہیں مگر ستائیسویں شب کے دلائل ہی قوی اور زیادہ ہیں اور یہی حضرتِ امام اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، چنانچہ ”تفسیر نسفی“ میں ہے:”وهي لَيْلَةُ السابِعِ والعِشْرِينَ مِن رَمَضانَ، كَذا رَوى أبُو حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللهُ - عَنْ عاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ أنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ كانَ يَحْلِفُ عَلى لَيْلَةِ القَدْرِ أنَّها لَيْلَةُ السابِعِ والعِشْرِينَ مِن رَمَضانَ، وعَلَيْهِ الجُمْهُورُ.“ (تفسير نسفي، سورة القدر، تحت الآية:1)
★شبِ قدر پوشیدہ رکھے جانے کے وجوہات کے متعلق ”امام فخر الدین رازی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ“(المتوفى:606ھ) فرماتے ہیں:”المَسْألَةُ الخامِسَةُ: أنَّهُ تَعالى أخْفى هَذِهِ اللَّيْلَةَ لِوُجُوهٍ:
أحَدُها: أنَّهُ تَعالى أخْفاها، كَما أخْفى سائِرَ الأشْياءِ، فَإنَّهُ أخْفى رِضاهُ في الطّاعاتِ، حَتّى يَرْغَبُوا في الكُلِّ، وأخْفى غَضَبَهُ في المَعاصِي لِيَحْتَرِزُوا عَنِ الكُلِّ، وأخْفى ولِيَّهُ فِيما بَيْنَ النّاسِ حَتّى يُعَظِّمُوا الكُلَّ، وأخْفى الإجابَةَ في الدُّعاءِ لِيُبالِغُوا في كُلِّ الدَّعَواتِ، وأخْفى الِاسْمَ الأعْظَمَ لِيُعَظِّمُوا كُلَّ الأسْماءِ، وأخْفى الصَّلاةَ الوُسْطى لِيُحافِظُوا عَلى الكُلِّ، وأخْفى قَبُولَ التَّوْبَةِ لِيُواظِبَ المُكَلَّفُ عَلى جَمِيعِ أقْسامِ التَّوْبَةِ، وأخْفى وقْتَ المَوْتِ لِيَخافَ المُكَلَّفُ، فَكَذا أخْفى هَذِهِ اللَّيْلَةَ لِيُعَظِّمُوا جَمِيعَ لَيالِي رَمَضانَ. یعنی پانچواں مسئلہ:اللہ عَزَّوَجَلَّ نے شب ِقدر کو چند وجوہ کی بناء پر پوشیدہ رکھا ہے۔ جس طرح دیگر اَشیاء کو پوشیدہ رکھا،مثلاً اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی رضا کو اطاعتوں میں پوشیدہ فرمایا تاکہ بندے ہر اطاعت میں رغبت حاصل کریں۔ اپنے غضب کو گناہوں میں پوشیدہ فرمایا تاکہ ہر گناہ سے بچتے رہیں۔ اپنے ولی کو لوگوں میں پوشیدہ رکھا تا کہ لوگ سب کی تعظیم کریں۔ دعاء کی قبولیت کو دعاؤں میں پوشیدہ رکھا تاکہ کہ وہ سب دعاؤں میں مبالغہ کریں۔ اسمِ اعظم کو اَسماء میں پوشیدہ رکھا تاکہ وہ سب اَسماء کی تعظیم کریں۔اورنمازِ وُسطیٰ کو نمازوں میں پوشیدہ رکھا تاکہ تمام نمازوں کی پابندی کریں ۔تو بہ کی قبولیت کو پوشیدہ رکھا تاکہ بندہ توبہ کی تمام اَقسام پر ہمیشگی اختیار کرے اور موت کا وقت پوشیدہ رکھا تاکہ بندہ خوف کھاتا رہے، اسی طرح شب ِقدر کوبھی پوشیدہ رکھاتا کہ لوگ رمضان کی تمام راتوں کی تعظیم کریں۔
وثانِيها: كَأنَّهُ تَعالى يَقُولُ: لَوْ عَيَّنْتُ لَيْلَةَ القَدْرِ، وأنا عالِمٌ بِتَجاسُرِكم عَلى المَعْصِيَةِ، فَرُبَّما دَعَتْكَ الشَّهْوَةُ في تِلْكَ اللَّيْلَةِ إلى المَعْصِيَةِ، فَوَقَعْتَ في الذَّنْبِ، فَكانَتْ مَعْصِيَتُكَ مَعَ عِلْمِكَ أشَدَّ مِن مَعْصِيَتِكَ لا مَعَ عِلْمِكَ، فَلِهَذا السَّبَبِ أخْفَيْتُها عَلَيْكَ. یعنی دوسری وجہ:گویا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’اگر میں شبِ قدر کو مُعَیَّن کر دیتا اور یہ کہ میں گناہ پر تیری جرأت کو بھی جانتا ہوں تو اگر کبھی شہوت تجھے اس رات میں گناہ کے کنارے لا چھوڑتی اور تو گناہ میں مبتلا ہو جاتا تو تیرا اس رات کو جاننے کے باوجود گناہ کرنا لاعلمی کے ساتھ گناہ کرنے سے زیادہ سخت ہوتا۔ پس اِس وجہ سے میں نے اسے پوشیدہ رکھا۔
وثالِثُها: أنِّي أخْفَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ حَتّى يَجْتَهِدَ المُكَلَّفُ في طَلَبِها، فَيَكْتَسِبَ ثَوابَ الِاجْتِهادِ. یعنی تیسری وجہ: گویا کہ ارشاد فرمایا میں نے اس رات کو پوشیدہ رکھا تاکہ شرعی احکام کا پابند بندہ اس رات کی طلب میں محنت کرے اور اس محنت کا ثواب کمائے۔
ورابِعُها: أنَّ العَبْدَ إذا لَمْ يَتَيَقَّنْ لَيْلَةَ القَدْرِ، فَإنَّهُ يَجْتَهِدُ في الطّاعَةِ في جَمِيعِ لَيالِي رَمَضانَ، عَلى رَجاءِ أنَّهُ رُبَّما كانَتْ هَذِهِ اللَّيْلَةُ هي لَيْلَةَ القَدْرِ. یعنی چوتھی وجہ: جب بندے کو شبِ قدر کا یقین حاصل نہ ہوگا تو وہ رمضان کی ہر رات میں اس امید پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت میں کوشش کرے گا کہ ہوسکتا ہے کہ یہی رات شبِ قدر ہو۔ (تفسیر کبیر، سورۃ القدر، تحت الآیة:1، 11/ 229-220)
طالبِ دُعا:محمد اُویس العطاری المصباحی
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مزید پڑھیں 👇🏻
نیز

