حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی ﷲ عنہا کو حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے قتل کیا جیسا کہ شیعہ مؤرخ کا اعتراض ہے کیا یہ سہی ہے..؟


حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی ﷲ عنہا کو حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے قتل کیا جیسا کہ شیعہ مؤرخ کا اعتراض ہے کیا یہ سہی ہے..؟


حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی ﷲ عنہا کو حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے قتل کیا جیسا کہ شیعہ مؤرخ کا اعتراض ہے کیا یہ سہی ہے..؟


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`


جی نہیں! یہ شیعوں کا حضرت عُمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر افتراء ہے جو عقلاً نقلاً ہر اعتبار سے عاطل وباطل ہے۔ شیعہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر دروازہ گرا دیا تھا اور معاذ اللہ آپ پر تشدد کیا جس کی وجہ سے آپ کے ایک بیٹے حضرت مُحَسِّن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ شہید ہو گئے جو اس وقت آپ کے شکم میں تھے، یہ اعتراض بھی بالکل جھوٹ اور عقلاً نقلاً باطل ہے، کیونکہ حضرت محسن حضور ﷺ کے سامنے ہی پیدا ہو گئے تھے اور حضور ﷺ نے ان کا نام محسن رکھا۔ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے نہایت ہی عقیدت تھی، ایک مرتبہ آپ حضرتِ بی بی فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ہاں گئے تو فرمایا:خدا کی قسم! آپ کے والدِ محترم کے بعد لوگوں میں سے کوئی بھی مجھے آپ سے بڑھ کر عزیز و پیارا نہیں۔ حضرت سیدتنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نبی کریم ﷺ سے بے حد محبت فرماتی تھیں اسی لیے حضور ﷺ کے انتقال شریف کا آپ کو بے حد صدمہ ہوا۔ حضور ﷺ کے فِراق میں آپ کے ظاہری وفات کے 6 ماہ بعد 3 رمضان المبارک سن 11؁ھ میں ہوا۔

حضرت محسن کی ولادت حضور ﷺ کے سامنے ہی ہو گئی تھی اور آپ نے ہی اُن کا نام رکھا، چنانچہ ’’مستدرک للحاکم اور مُسندِ بزَّار‘‘ میں ہے:”واللفظ للأول:عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه، قال:لما ولدت فاطمة الحسن جاء النبي صلى الله عليه وسلم، فقال:أرونى ابنى ما سميتموه؟ قال:قلت:سميته حرباً، قال:بل هو حسن، فلما ولدت الحسين جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال:أرونى ابنى ما سميتموه؟ قال:قلت:سميته حرباً، فقال:بل هو حسين، ثم لما ولدت الثالث جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:أرونى ابنى ما سميتموه؟ قلت:سميته حرباً، قال:بل هو محسن، ثم قال:إنما سميتهم باسم ولد هارون شبر وشبير ومشبر“ یعنی حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:جب حضرت فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ہاں حسن کی ولادت ہوئی تو نبی اکرم ﷺ تشریف لائے اور فرمایا:میرا بیٹا مجھے دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:میں نے بتایا کہ میں نے اس کا نام ”حرب“ رکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:نہیں بلکہ یہ حَسَن ہے۔ پھر جب ان کے ہاں حُسَیْن کی ولادت ہوئی تو اس موقع پر بھی نبی اکرم ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: میرا بیٹا مجھے دکھاؤ تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ حضرت علی فرماتے ہیں: میں نے کہا: میں نے اس کا نام "حرب" رکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں یہ "حسین" ہے۔ پھر جب حضرت فاطمہ کے ہاں تیسرا بیٹا پیدا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: میرا بیٹا مجھے دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ حضرت علی فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: میں نے اس کا نام "حرب" رکھا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ نہیں بلکہ یہ "محسن" ہے۔ پھر فرمایا: ہم نے حضرت ہارون علیہ السلام کے بیٹوں کے ناموں کی طرح نام رکھے ہیں ( ان کے تین بیٹوں کے یہ نام تھے ) شبر شبیر اور مشبر۔ (مستدرك للحاكم، كتاب معرفة الصحابة، حديث:4773، 4/321)

حضرت فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی عقیدت: چنانچہ مستدرک للحاکم میں ہے:”حضرت عمررت فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک بار حضرت بی بی فاطمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ہاں گئے تو فرمایا:اے فاطمہ! اللہ کی قسم! آپ سے بڑھ کر میں نے کسی کو حضور اکرم ﷺ کا محبوب (یعنی پسندیدہ) نہیں دیکھا اور خدا کی قسم! آپ کے والدِ محترم کے بعد لوگوں میں سے کوئی بھی مجھے آپ سے بڑھ کر عزیز و پیارا نہیں۔“ (مستدرک للحاکم، 4/139، حدیث:4789)

خاتونِ جنت حضرت بی بی فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ سے بے حد محبت فرماتی تھیں اسی لیے نبی کریم ﷺ کے انتقال شریف کا آپ کو بے حد صَدمہ ہوا جس کا اظہار آپ یوں فرماتیں:”صبت علی مصائب لو انھا صبت علی الأیام صرن لیالیا“ یعنی (حضورِ اکرم ﷺ کے انتقال شریف پر) جو صدمہ مجھے پہنچا ہے اگر وہ صدمہ ”دِنوں“ پر آتا تو وہ ”راتیں“ ہو جاتیں۔ (مرقاۃ المفاتيح شرحِ مشکٰوۃ المصابیح، تحت الحديث:5961، 10/305)

والله تعالیٰ اعلم بالصواب

كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی

مزید پڑھیں 👇🏻 

شیخین اور حسنین کریمین کی جنت میں سرداری کے حوالے سے امام ابو جعفر الطحاوی علیہ الرحمہ کی حدیث رسول میں تطبیق


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.