ازواج مطہرات کا مہر کتنا تھا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اکثر ازواجِ مطہرات کا مہر 500 درہم سے زائد نہیں تھا لیکن أم المؤمنین حضرت أم حبیبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا مہر 4000 درہم یا 4000 دینار تھا۔
ازواجِ مطہرات کا مہر 500 درہم سے زائد نہ تھا، چنانچہ ”صحیح مسلم“ میں ہے:”عن ابی سلمة قال سألت عائشة رضی اﷲ تعالٰی عنھا کم کان صداق النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قالت کان صداقه لأزواجه ثنتی عشرۃ اوقیة ونش،قالت اتدری ماالنش قلت لاقالت نصف اوقیة فتلك خمس مائة دراھم احمد والدارمی والأربعة عن امیرالمؤمنین عمر الفاروق الاعظم رضی اﷲتعالٰی عنه قال ماعملت رسول اﷲ صلّی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نکح شیئا من نسائه ولا انکح شیئا من بناته علی اکثر من اثنتی عشرۃ اوقیة “ یعنی ابوسلمہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالٰی سے پوچھا کہ حضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام نے اپنی ازواج کیلئے بارہ اوقیہ( چالیس درہم فی اوقیہ) اور ایك نش مقرر فرمایا: نے پُوچھا کہ تمہیں معلوم ہے نش کیا ہوتا ہے، میں نے کہا نہیں، توآپ نے فرمایا نش نصف اوقیہ کو کہتے ہیں، تو یہ کل پانسو درہم ہوئے۔ امام احمد، دارمی اور سُنن اربعہ(ابوداؤد، نسائی، ترمذی، ابن ماجہ) نے امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا حضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام نے اپنی ازواج یا صاحبزادیوں کا نکاح بارہ اوقیہ سے زیادہ پر کیا ہو یہ مجھے معلوم نہیں۔ (صحيح مسلم، كتاب النكاح، باب الصداق، 1/458)
اُم المومنین اُمِّ حبیبہ بنت ابی سفیان خواہر جناب امیر معاویہ رضی اﷲتعالٰی عنہم کا مہر ایك روایت پر چار ہزاردرہم تھا، جیساکہ سُنن ابی داؤد میں ہے۔ دوسری میں چار ہزار دینارتھا، چنانچہ ”فی المستدرك صححہ الحاکم واقرہ الذھبی ولا یخالف ھذا ما مر من حدیثی أم المؤمنین وأمیر المؤمنین رضی اﷲتعالٰی عنہما فان ھذہ الامھارلم یکن من رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم بل من ملك الحبشة سیّدنا النجاشی رضی اﷲتعالٰی عنه“ یعنی جیسا کہ مستدرك میں امام حاکم نے اس کی تصحیح کی اورذہبی نے اس کوثابت مانا، اور یہ حضرت ام المؤمنین اور عمر فاروق رضی اﷲتعالٰی عنہما سے مروی کا مخالف نہیں ہے کیونکہ یہ مہر حضور علیہ الصّلٰوۃ والسّلام نے مقرر نہیں کیا بلکہ حبشہ کے بادشاہ حضرت سیّدنا نجاشی رضی اﷲتعالٰی عنہ نے مقرر کیا تھا۔ (المستدرك للحاكم، كتاب النكاح، مهر أم حبيبة، 2/181)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

