نماز میں برے خیالات کا آنا کیسا ہے؟ کیا نماز ہو جائے گی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
---------------------------------------------------------
نماز میں اگر برے خیالات آتے ہوں تو حتی الامکان انہیں دفع کرنے کی کوشش کرے اور اگر تب بھی نہ ہو تو نماز نہ چھوڑے کیونکہ جب نفس شیطان اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے تو تم نماز کیوں چھوڑتے ہو،مکھیوں کی وجہ سے کھانا نہیں چھوڑا جاتا،تم الله کے بندے ہو دل کے بندے نہیں، دل لگے یا نہ لگے نماز پڑھے جاؤ۔ بندہ جب نماز پڑھتا ہے تو شیطان بھی نماز میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ وضو ٹوٹ گیا، کبھی پیشاب کا قطرہ نکلنے تو کبھی ریح خارج ہونے کا دل میں شبہ ڈالتا ہے، کبھی کچھ یاد دلاتا ہے یہاں تک کہ بندہ بھول جاتا ہے کہ اس نے کتنی رکعت ادا کیں؟ لیکن نماز میں برے خیالات آنے سے نماز میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
مسلم شریف کی حدیث پاک میں ہے:”عن عثمان ابن ابي العاص قال قلت: یا رسول الله ان الشيطان قد حال بيني وبين صلاتي و بين قراءتي يلبسها علي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ذلك شيطان يقال له خنزب فاذا احسسته فتعوذ بالله منه واتفل على يسارك ثلثا قال ففعلت ذلك فاذهبه الله عني“
یعنی: روایت ہے حضرت عثمان ابن ابی العاص فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله شیطان مجھ میں اور میری نماز اور تلاوت میں حائل ہوگیا نماز مشتبہ کردی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شیطان کو خِنْزَبْ کہا جاتا ہے جب کبھی تم اسے محسوس کرو تو اس سے الله کی پناہ مانگو اور بائیں طرف تین بار دھتکار دو میں نے یہ ہی کیا تو الله نے اسے دفع فرما دیا۔ (صحیح مسلم، حدیث:2203، صفحہ:1209)
دوسری حدیث شریف میں ہے:”عن القاسم بن محمد ان رجلا ساله فقال: «اني اهم في صلاتي فيكثر ذلك علي فقال لہ امض في صلاتك فانه لن يذهب ذلک عنك حتى تنصرف وانت تقول ما اتممت صلاتي“
یعنی : روایت ہے حضرت قاسم ابن محمد سے کہ ان سے کسی شخص نے پوچھا(عرض کیا)میں اپنی نماز میں وہم کیا کرتا ہوں اور یہ واردات مجھ پر بہت ہوتی رہتی ہے فرمایا اپنی نماز پڑھ گزرو کیونکہ یہ وہم تو جائے گا نہیں حتی کہ تم یہ کہتے ہوئے نماز ختم کرو گے کہ میری نماز مکمل نہ ہوئی۔ (مشکوۃ المصابیح، حدیث:78)
اس حدیث کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:”سبحان اللّٰہ! کیا عجیب تعلیم ہے یعنی ان خطرات کی وجہ سے ہر نماز چھوڑو نہ لوٹاؤ یہ آتے ہی رہیں گے،جب نفس شیطان اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے تو تم نماز کیوں چھوڑتے ہو،مکھیوں کی وجہ سے کھانا نہیں چھوڑا جاتا،تم الله کے بندے ہو دل کے بندے نہیں،دل لگے یا نہ لگے نماز پڑھے جاؤ۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازمکمل نہ ہونے کا وہم کافی نہیں،ان وہمیات کا خیال نہ کرے،نماز پڑھے جائے۔” (مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، جلد:1، تحت الحدیث:78)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ چند احادیث ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:”ان حدیثوں کا حاصل یہ ہے کہ شیطان نَماز میں دھوکا دینے کے لئے کبھی انسان کی شَرمگاہ پر آگے سے تھوک دیتا ہے کہ اُسے قطرہ آنے کا گُمان ہوتا ہے ، کبھی پیچھے پھونکتا ، یا بال کھینچتا ہے کہ رِیح خارِج ہونے کا خیال گزرتا ہے ۔اِس (طرح کے وسوسے آنے )پر حکم ہو ا کہ نَماز سے نہ پِھرو، جب تک تَری یا آواز یا بُو نہ پاؤ، جب تک وُقوعِ حدَث (یعنی وُضو ٹوٹنے ) پریقین نہ ہو لے ۔(فتاوٰی رضویہ، جلد:1، صفحہ:774)
نماز میں رکعت بھولنے کیے متعلق صَدرُ الشَّریعہ ، بَدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں:”جس کو شمارِ رَکعَت(رَک۔عَت) میں شک ہو، مَثَلاً تین ہوئیں یا چار اور بُلُوغ(یعنی بالغ ہونے ) کے بعد یہ پہلا واقِعہ ہے تو سلام پھیر کر یا کوئی عمل مُنَافی نَماز(یعنی جونَماز سے باہَر کر دے ایسا فِعل) کر کے توڑ دے یا گمانِ غالِب کے بَمُوجَب پڑھ لے مگر بَہرصورت اِس نماز کو سِرے سے پڑھے ۔ مَحض توڑنے کی نیَّت کافی نہیں۔ اور اگر یہ شک پہلی بار نہیں بلکہ پیشتر (یعنی اس سے قبل)بھی ہوچکا ہے تو اگر گُمانِ غالِب کسی طرف ہو تو اُس پر عمل کرے ورنہ کم کی جانب کو اختیار کرے ، یعنی تین اور چار میں شک ہو تو تین قرار دے ، دو اور تین میں شک ہو تو دو۔ وَعَلٰی ہٰذَا الْقِیاس(یعنی اوراِسی اندازے کے مطابِق)اور تیسری چوتھی دونوں میں قَعدہ کرے (یعنی التَّحیات میں بیٹھے ) کہ تیسری رَکْعَت کا چوتھی ہونا محتمل ہے ( یعنی تیسری کے چوتھی ہونے کا اِمکان ہے ) اور چوتھی میں قعدے کے بعد سَجدۂ سَہو کرکے سلام پھیر دے ۔البتہ گُمانِ غالِب کی صورت میں سجدۂ سَہو نہیں مگر جبکہ سوچنے میں بقدر ایک رکن کے وقفہ کیا ہو تو سجدۂ سہو واجب ہوگیا۔“ (بہار شریعت، جلد:1، حصہ:4، صفحہ:718، مجلس المدينة العملية دعوت اسلامی)
نماز میں وسوسہ سے بچنے کا طریقہ
بیان کرتے ہوئے مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنّان ایک حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:”نَماز شُروع کرتے وقت تکبیرِ تحریمہ سے قَبل، تجرِبہ(تَج۔ رِ۔ بہ ) ہے کہ جو تحریمہ (یعنی نماز شروع کرنے )سے پہلے اِس طرح (یعنی اُلٹی طرف تین بار ) تُھتکار کر لاحول شریف (یعنی لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم) پڑھ لے پھر تحریمہ کرے (یعنی نَماز شروع کرے )، دورانِ نَماز میں نگاہ کی حفاظت کرے (وہ یوں )کہ قِیام میں سَجدہ گاہ (یعنی سجدے کی جگہ) رُکوع میں پُشتِ قَدَم(یعنی پاؤں کے پنجے کی اوپری سطح)، سجدے میں ناک کے بانسے (یعنی ناک کی ہڈّی پر )، جلسہ (یعنی دوسجدوں کے درمیان بیٹھنے میں )اور قَعدہ (یعنی اَلتَّحِیّات وغیرہ پڑھنے )میں گود میں (نظر) رکھے تو اِنْ شَآءَاللہ نَماز میں حُضورِ(قَلب یعنی خُشوع و خُضوع)نصیب ہو گا۔“ (مِراٰۃالمناجیح،شرحِ مشکوۃ المصابیح، جلد:1، صفحہ:89)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
==========================================
کپڑے فولڈ کرکے نماز پڑھنا کیسا ہے کیا اس سے نماز ہوگی اس مسئلہ کو پڑھنے کے لیے

