سعودی امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے

: عصر حاضر میں امام کعبہ کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم کیا ہے..؟


سعودی امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`


اس وقت جو کعبہ معظمہ کا امام ہے اس کے عقائد و نظریات باطل اور گمراہی والے ہیں لہذا اس کی اقتداء میں ادا کی گئی نماز فاسد ہوگی اور فرض سر پر رہے گا نیز پڑھنے والا گناہگار بھی ہوگا۔ نماز اعظم شعائرِ دین سے ہے، امامت صحیح ہونے کے لیے اولاً ایمان وعقائد کا درست ہونا ضروری ہے۔ امام سردار ہوتا ہے اور مقتدی اس کے متبعین ہوتے ہیں۔ امام کی تعظیم کی جاتی ہے جبکہ بدمذہب کی توہین واجب ہوتی ہے اور بدمذہب کی تعظیم کرنا، دینِ اسلام کے ڈھانے میں مدد کرنے کے مثل ہے۔

امام سردار ہوتا ہے اور مقتدی متبوع، چنانچہ حضور ﷺ فرماتے ہیں:”إنما جعل الإمام ليؤتم به“ یعنی امام تو اسی لیے مقرر ہوا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ (صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب إنما جعل الإمام ليتم به، 1/92)

کسی بد مذہب کی تعظیم کرنا اسلام ڈھانے میں مدد کرنے کے مثل ہے، چنانچہ حدیث پاک میں ہے:عن ابراهیم بن میسرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیه وآله وسلم من وقر صاحب بدعة فقد أعان علی ھدم الاسلام‘‘ یعنی حضرت ابراہیم بن میسرہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسول ِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم نے فرمایا کہ جس نے کسی بدمذہب کی تعظیم و توقیر کی تو اس نے اسلام کے ڈھانے پر مدد دی۔ (مشکوۃ المصابيح، كتاب الإيمان، المجلد الأول، صفحة:31)

اس حدیث پاک کے تحت خاتم المحققین شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ فرماتے ہیں:”در توقیر دے استخفاف و استہانت سنت ست وایں می کشد بویران کردن بنائے اسلام‘‘ یعنی بدمذہب کی تعظیم وتوقیر میں سنت کی حقارت اور ذلت ہے۔ اور سنت کی حقارت اسلام کی بنیاد ڈھانے تک پہنچا دیتی ہے۔ (أشعة اللمعات، كتاب الإيمان، باب الإعتصام بالكتاب والسنة، جلد اول، صفحة:159)

ردالمحتار میں ہے:”المبتدع تکرہ إمامته بکل حال“ یعنی بدعتی کی امامت ہر حال میں مکروہ ہے۔ (رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الإمامة، 1/414)

علامہ ابراہیم حلبی نے تصریح فرمائی کہ فاسق ومبتدع دونوں کی امامت مکروہ تحریمی ہے اور امام مالك کے مذہب اور امام احمد کی ایك روایت میں اُن کے پیچھے نماز اصلًا ہوتی ہی نہیں جیسے کسی کافر کے پیچھے۔ ”شرح صغیر منیة“ میں فرمایا:”یکرہ تقدیم الفاسق کراھة تحریم وعند مالك لا یجوز تقدیمه وھو رواية عن احمد وکذا المبتدع“ یعنی فاسق کی تقدیم (امامت) مکروہ تحریمی ہے اور امام مالك کے نزدیك اس کی تقدیم (امامت) جائز نہیں اورامام احمد سے بھی ایك روایت یہی ہے اور یہی حال بدعتی کا ہے۔ (صغيرى شرح منية المصلى، مباحث الإمامة، صفحة:264)

علامہ طحطاوی حاشیہ دُرمختار میں فاسق وبدمذہب کے پیچھے نماز کے باب میں فرماتے ہیں:”الکراھة فیه تحريمة على ما سبق“ یعنی اس میں کراہتِ تحریمی ہے جیسا کہ پہلے گزرا۔ (حاشية الطحطاوى، على الدر المختار، باب الإمامة، 1/244)

والله تعالیٰ اعلم بالصواب

كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

مزید پڑھیں 👇🏻 



Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.