مہرِ فاطمی کتنا تھا اور عصرِ حاضر کے اعتبار سے کتنا ہوتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
حضرتِ سیدہ فاطمہ زہراء رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَا کا مہر 400 مثقال چاندی تھا جس کا وَزَن 150 تولے چاندی بنتا ہے جو گراموں کے حساب سے 1749.6 گرام یعنی قریباً پونے دو کلو چاندی بنتی ہے۔ اور مہر کی مقدار کم سے کم 10 درہم (یعنی دو تولہ ساڑھے سات ماشہ (30.618 گرام) چاندی یا اس کی قیمت) ہے۔ اس سے کم نہیں ہو سکتا، زیادہ مقرر کر سکتے ہیں۔
مہرِ فاطمی کے متعلق ”مرقاۃ المفاتیح“ میں ہے:”نَقَلَ ابْنُ الْہُمَام أَنَّ صَدَاقَ فَاطِمَۃَ کَانَ أَرْبَعَ مِءَۃ دِرْہَمٍ‘‘ یعنی امام ابنِ ہُمام صاحبِ فتح القدیر نے نقل فرمایا کہ حضرت فاطمہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہا کا مہر چار سو درہم تھا۔ (مرقاۃ المفاتیح شرحِ مشکٰوۃ المصابیح، کتاب انکاح، الحدیث:3304، الجزء السادس، صفحة:360)
”أشعة اللمعات“ میں ہے:”مہرِ فاطمہ زہراء رضی اللّٰہ تعالی عنہا چہار صد درہم بود‘‘ یعنی حضرت فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا مہر چارسو درہم تھا۔ (أشعة اللمعات، الجزء الثالث، صفحة:137)
مہر کم سے کم دس درہم ہے اس سے کم نہیں ہو سکتا، چنانچہ ”در مختار“ میں ہے:”أَقَلُّه عَشَرَۃُ دَرَاھِم“ یعنی مہر کی مقدار کم از کم دس درہم ہے۔ (الدر المختار، کتاب النکاح، باب المھر، الجزء الرابع، صفحة:220)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

