حضور ﷺنے گیارہ شادی کیوں کیے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
قرآنی حکم اُمّتِ مُحمَّدیہ کے لیے ہے کہ آزاد مرد بیک وقت صرف چار عورتوں سے نکاح کر سکتا ہے جبکہ چاروں کے حقوق کما حقہ ادا کر سکے۔ اس پر چاروں امام اور جمہور مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ جبکہ حضورﷺ کا گیارہ بیویوں سے نکاح کرنا، آپ کے خصائص میں سے ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:﴿فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَۚ-فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً﴾ ترجمۂ کنز الایمان: نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو دو اور تین تین اور چار چار پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو (القرآن الکریم، سورۃ النِّسَآء، آیت:3)
اس آیت کے تحت ”تفسیر جلالین“ میں ہے:”أي اثنتين وثلاثاً وأربعاً ولا تزيد على ذلك“ ترجمہ:یعنی دو، تین یا چار کرو اور اس سے زیادہ نہ کرو۔ (تفسیر الجلالین، سورۃ النِّسَآء، تحت الآية:3)
”خزائن العرفان“ میں ہے:”اِس آیت سے معلُوم ہوا کہ آزاد مرد کے لئے ایک وقت میں چار عورتوں تک سے نکاح جائز ہے خواہ وہ حُرَّہ (آزاد) ہوں یا اَمَہ یعنی باندی۔ مسئلہ: تمام امّت کا اجماع ہے کہ ایک وقت میں چار عورتوں سے زیادہ نکاح میں رکھنا کسی کے لئے جائز نہیں سوائے رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے یہ آپ کے خصائص میں سے ہے۔ (خزائن العرفان، سورۃ النِّسَآء، تحت الآية:3)
حدیث پاک ہے کہ ایک شخص نے اسلام قبول کیا، اس کی آٹھ بیویاں تھیں، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: اِن میں سے صرف چار رکھنا۔ چنانچہ ابو داؤد کی حدیث پاک ہے:”قال وهب:الاسدى قال:أسلمت وعندى ثمان نسوة فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم. فقال النبي صلى الله عليه وسلم:اختر منهن أربعاً.“ یعنی حضرت حارث بن قیس اسدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْهُ بیان کرتے ہیں:میں نے اسلام قبول کیا، تو اس وقت میری آٹھ بیویاں تھیں، میں نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم ﷺ سے کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:تم ان میں سے چار کو اختیار کر لو۔ (ابو داؤد، کتاب الطلاق، باب في من أسلم وعندہ نساء۔۔۔ إلخ، 2/396، الحدیث:2241)
دوسری حدیث شریف میں ہے:”وعن ابن عمر: ان غيلان بن سلمة الثقفي أسلم، وله عشر نسوة في الجاهلية، فاسلمن معه فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «امسك أربعا، وفارق سائرهن». رواه احمد والترمذي وابن ماجه.“ یعنی روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ غیلان ابن سلمہ ثقفی اسلام لائے ان کے زمانہ جاہلیت میں دس بیویاں تھیں وہ بھی انکے ساتھ اسلام لائیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چار کو رکھ لو باقی کو علیحدہ کردو۔ اس کو احمد،ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا۔ (مشکوۃ المصابیح، المجلد الأول، الحدیث:3176)
اس حدیث پاک کے تحت ”مرقاۃ المفاتيح“ میں ہے:”وأنه لا يجوز أكثر من أربع نسوة“ یعنی اس سے معلوم ہوا کہ (بیک وقت) چار عورتوں سے زیادہ نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔ (مرقاۃ المفاتيح شرح مشكوة المصابيح، كتاب النكاح، باب المحرمات، الجزء السادس، صفحة:306، دار الكتب العلمية بيروت)
ہدایہ میں ہے:”وللحر أن يتزوج أربعاً من الحرائر والإماء وليس له أن يتزوج أكثر من ذلك لقوله تعالى فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى وثلاث ورباع“ یعنی آزاد مرد چار آزاد عورتوں اور باندیوں سے نکاح کر سکتا ہے اور اس سے زیادہ شادی کرنے کی اجازت نہیں اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہیں پسند ہوں، دو دو اور تین تین اور چار چار۔ الھداية، كتاب النكاح، المجلد الثاني،صفحة:331)
اس کے تحت ”فتح القدير“ میں ہے:”اتفق عليه الأئمة الأربعة وجمهور المسلمين“ یعنی اس بات پر ائمہ اربعہ اور جمہور مسلمین کا اتفاق ہے۔ (فتح القدیر، کتاب النکاح، صفحة:229)
”درمختار“ میں ہے:”(و)صح(نكاح أربع من الحرائر والإماء فقط للحر)لا أكثر“ یعنی آزاد مرد کے لیے آزاد عورتوں اور لونڈیوں میں سے چار سے شادی کرنا، جائز ہے، اس سے زیادہ جائز نہیں۔(درمختار، کتاب النکاح، الجزء الثالث، صفحة:48، مطبوعہ بیروت)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی
مزید پڑھیں 👇🏻

