کیا حضور ﷺ سے رفع الیدین ثابت ہے؟ تو ہم کیوں نہیں کرتے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِاَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
حضور ﷺ نے پہلے رفع یدین کیا تھا لیکن بعد میں ترک کر دیا تھا۔ رسول اﷲ ﷺ سے ہرگز کسی حدیث میں ثابت نہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے ہمیشہ رفع یدین فرمایا اور بعض روایتوں سے جو رکوع کے پہلے اور بعد میں رفع یدین ثابت ہے تو وہ حکم پہلے تھا۔ بعد میں منسوخ ہوگیا۔ لہذا اَحناف کے نزدیک رفع الیدین کرنا جائز نہیں۔
سنن ابی داؤد وسنن نسائی و جامع ترمذی وغیرہامیں ایسی سند سے جس کے رجال صحیح ومسلم ہیں بطریق عاصم بن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسودعن علقمة، حضرت عبداﷲ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی:”قل ألا أخبر کم بصلاۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیه وسلم قال فقام فرفع یدیه أول مرۃ ثم لم یعد“ يعنى انہوں نے فرمایا کیا میں تمہیں خبر نہ دوں کہ حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نماز کس طرح پڑھتے تھے ، یہ کہہ کر نماز کو کھڑے ہوئے تو صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اُٹھا ئے پھر نہ اُٹھائے۔ (سنن النسائی، باب رفع الیدین للرکوع...إلخ، 1/123، جامع الترمذي، باب رفع اليدين عند الركوع، 1/35)
ترمذي نے کہا:”حدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنه حدیث حسن وبه یقول غیر واحد منأ اھل العلم من اصحاب النبی صلی اﷲ تعالى علیه وسلم والتابعین وھو قول سفیان واھل الکوفة“ يعنى یعنی حدیث ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی حدیث حسن ہے اور یہی مذہب تھا متعدد علماء منجملہ اصحاب رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم و تابعین ِ کرام و امام سفیان وعلمائے کوفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا۔ (جامع الترمذي، باب رفع اليدين عند الركوع، 1/35)
امام ابو جعفر طحاوی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ ”شرح معانی الاثار“ میں فرماتے ہیں:حدثنا أبی بکرۃ قال ثنا قال سفیان عن المغیرۃ قال قلت لابراہیم حدیث وائل انه رأی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیه وسلم یرفع یدیه إذا افتتح الصلاۃ واذا رکع واذا رفع رأسه من الرکوع فقال ان کان وائل رأہ مرۃ یفعل ذلك فقد رأہ عبداﷲ خمسین مرۃ لا یفعل ذلك“ يعنى ابو بکرہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہا ہمیں مومل نے حدیث بیان کی کہا ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی ہے مغیرہ سے اور مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے امام ابراہیم نخعی سے حدیث وائل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْهُ کی نسبت دریافت کیا کہ انھوں نے حضور پُرنور ﷺ کو دیکھا کہ حضور نے نماز شروع کرتے اور رکوع میں جاتے اور رکوع سے سر اُٹھاتے وقت رفع یدین فرمایا، ابراہیم نے فرمایا: وائل نے اگر ایك بار حضور اقدس ﷺ کورفع یدین کرتے دیکھا تو عبداﷲ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْهُ نے حضور اقدس ﷺ کو پچاس بار دیکھا کہ حضور نے رفع یدین نہ کیا۔ (شرح معاني الآثار، باب التكبير عند الركوع، 1/156)
صحیح مسلم شریف میں ہے حضور اقدس ﷺ نے فرمایا:”مالی أراکم رافعی أیدیکم کانھا اذناب خیل شمس اسکنوا فی الصلاۃ“ يعنى کیا ہوا کہ میں تمہیں رفع یدین کرتے دیکھتا ہوں گویا تمہارے ہاتھ چنچل گھوڑوں کی دُمیں ہیں قرار سے رہو نماز میں۔ (صحيح مسلم، باب الأمر بالسكون في الصلاة... إلخ، 1/181)
ان احادیثِ کریمہ سے واضح طور پرمعلوم ہوا کہ حضور سیدعالم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، حضرت فاروقِ اعظم، حضرت عبداللّٰہ بن مسعود ، حضرت ابن عمر اور صحابہ و تابعین کے دیگر جلیل القدر علماء رضواناللّٰہ علیہم اجمعین صرف تکبیر تحریمہ کے لیے رفع یدین کرتے تھے پھر آخر نماز تک ایسا نہیں کر تے تھے۔ اور بعض روایتوں سے جو رکوع کے پہلے اور بعد میں رفع یدین ثابت ہے تو وہ حکم پہلے تھا۔ بعد میں منسوخ ہوگیا۔
چنانچہ علامہ بدر الدین عینی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ فرماتے ہیں:” أَنَّه رَای رَجُلًا یَرْفَعُ یَدَیْه فِی الصَّلَوۃِ عِنْدَ الرَّکُوعِ وَعِنْدَ رَفْعِ رَأْسِه مِنَ الرَّکُوعِ فَقَالَ لَهُ لَا تَفْعلْ فَإِنَّهُ شَیئٌ فَعَلَه رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تَرَکَه‘‘ یعنی حضرت عبداللّٰہ بن زبیررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے ایک شخص کو رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا تو آپ نے اس سے فرمایا کہ ایسا نہ کرو اس لیے کہ یہ ایسی چیز ہے کہ جس کو حضورعلیہ الصلاۃ والسلامنے پہلے کیا تھا پھر بعد میں چھوڑ دیا۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، جلد:4، صفحہ:380)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

.jpg)