اگر بچہ پیدا ہو تو کیا بغیر نہلائے فوراً اذان پڑھی جائے یا بعد میں بھی پڑھ سکتے ہیں؟





اگر بچہ پیدا ہو تو کیا بغیر نہلائے فوراً اذان پڑھی جائے یا بعد میں بھی پڑھ سکتے ہیں؟


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

جب بچہ پیدا ہو تو مستحب ہے کہ سب سے پہلے نہلا کر اس کے کان میں اذان واقامت کہی جائے تاکہ بچہ اُمُّ الصِّبْیَان (بچوں کی ایک بیماری جس سے اَعْضَاء میں جھٹکے لگتے ہیں) سے محفوظ رہے۔ اور بہتر یہ ہے کہ داہنے کان میں چار مرتبہ اَذان اور بائیں کان میں اِقامَت کہی جائے۔ نیز بچے کے کان میں اَذان و اِقامَت کے وقت بھی داہنے اور بائیں طرف مُنہ پھیرنے کا حُکم ہے۔ لہذا صورتِ مسؤولہ میں بچہ پیدا ہونے کے بعد نہلا کر فوراً اَذان و اِقامَت کہی جائے، تاخیر نہ کی جائے۔ لیکن اگر تھوڑی بہت دیر ہو بھی گئی تب بھی اذان واقامت ضرور کہی جائے۔ بہت لوگوں میں یہ رواج ہے کہ لڑکا پیدا ہوتا ہے تو اذان کہی جاتی ہے اور لڑکی پیدا ہوتی ہے تو نہیں کہتے۔ یہ نہ چاہیے بلکہ لڑکی پیدا ہو جب بھی اذان و اقامت کہی جائے۔


ملا علی قاری رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ فرماتے ہیں:”من ولد له ولد فاذن في أذنه اليمنى وأقام في أذنه اليسرى لم تضره أم الصبيان“ یعنی جس کے بچہ کی ولادت ہوئی اور اس نے بچے کے سیدھے کان میں اَذان دی اور اُلٹے کان میں اِقامَت پڑھی، تو اس کو ام الصبیان نُقصان نہ دے گی۔ (مِرقاة المفاتيح، الجزء الثامن، صفحة:81-82، دار الكتب العلمية بيروت)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ فرماتے ہیں:”جب بچہ پیداہو فوراً سیدھے کان میں اذان بائیں میں تکبیر کہے کہ خللِ شیطان وام الصبیان سے بچے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:24، صفحہ:452، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)

بچہ کو نہلا کر سب سے پہلے اس کے کان میں اَذان و اِقامَت پڑھی جائے، جیسا کہ ”ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت“ میں ہے:”بچہ پیدا ہونے کے بعد جو اَذان میں دیر کی جاتی ہے، اس سے اکثر یہ مرض ہو جاتا ہے اور اگر بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا کام یہ کیا جائے کہ نہلا کر اَذان و اِقامت بچہ کے کان میں کہ دی جائے تو اِنْ شَاءَ اللہ تَعالیٰ عُمر بھر محفوظی ہے۔“ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، حصہ سوم، صفحہ:418، مجلس المدينة العملية دعوت اسلامی)

صدر الشریعہ مفتی محمد اَمجَد علی اَعظَمی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ فرماتے ہیں:”جب بچہ پیدا ہو تو مستحب یہ ہے کہ اوس کے کان میں اذان و اقامت کہی جائے اذان کہنے سے ان شاء اﷲ تعالیٰ بلائیں دور ہو جائیں گی۔ بہتر یہ ہے کہ داہنے کان میں چار مرتبہ اذان اور بائیں میں تین مرتبہ اقامت کہی جائے۔ بہت لوگوں میں یہ رواج ہے کہ لڑکا پیدا ہوتا ہے تو اذان کہی جاتی ہے اور لڑکی پیدا ہوتی ہے تو نہیں کہتے۔ یہ نہ چاہیے بلکہ لڑکی پیدا ہو جب بھی اذان و اقامت کہی جائے۔“ (بہارِ شریعت، عَقِیقہ کا بیان، جلد:3، حصہ:15، صفحہ:355، مجلس المدينة العملية دعوت اسلامی)


اگر بچہ کے کان میں اذان پڑھتے وقت بھی داہنی اور وبائیں طرف مُنہ کرے چنانچہ تنویر الابصار مع دُرِّ مُختار میں ہے:”(ويلتفت فيه۔۔۔يميناً ويساراً) فقط، لءلا يستبدر القبلة (بصلاة وفلاح) ولو وحده أو لمولود“ (الدر المختار على تنوير الأبصار، كتاب الصلاة، باب الأذان، الجزء الثاني، صفحة:53، دار عالم الكتب رياض)


والله تعالیٰ اعلم بالصواب

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

کیا بارہ سال والا لڑکا بھی تکبیر پڑھ سکتا ہے؟ اس مسئلہ کو پڑھنے کے لیے   کلک کریں 



Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.