جس رُوم میں تصویر ہو تو اس میں نماز پڑھنے کی صورتیں؟



جس رُوم میں تصویر ہو تو اس میں نماز پڑھنے کی صورتیں؟


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

نمازی کے سر پر یعنی چَھت پر یا سَجدے کی جگہ پر یا آگے یا دائیں یا بائیں جاندار کی تصویر آویزاں ہونا مکروہِ تحریمی ہے اور پیچھے ہونا بھی مکروہ ہے مگر گُزشتہ صُورَتوں سے کم۔ اگر تصویر فرش پر ہے اور اس پر سجدہ نہیں ہوتا تو کراہت نہیں۔ اگر تصویر غیر جاندار کی ہے جیسے: دریا، پہاڑ وغیرہ تو اس میں کوئی مُضائقہ نہیں۔ اِتنی چھوٹی تصویر ہو جسے زمین پر رکھ کر کھڑے ہو کر دیکھیں تو اَعضاء کی تفصیل نہ دکھائی دے نماز کے لیے باعثِ کراہت نہیں ہے۔ یا اس کا سر کاٹ دیا جائے یا چہرے کو مسخ کر دیا جائے تب کراہت نہیں، یا تصویر والے لباس پر کوئی دوسرا کپڑا پہن یا اوڑھ لیا جائے جس سے وہ تصویر چھُپ جائے تو کراہت نہیں۔

تنویر الابصار مع در مختار میں ہے:”(ولبس ثوب فيه تماثيل) ذى روح، وأن يكون فوق رأسه أو بين يديه أو (بحذائه) يمنة أو يسرة أو محل سجوده (تمثال) ولو في وسادة منصوبة لا مفروشة. (واختلف فيما إذا كان) التمثال(خلفه، والأظهر الكراهة) (و) لا يكره (لو كانت تحت قدميه) أو محل جلوسه لأنها مهانة (أو في يده) عبارة الشمني «بدنه»لأنها مستورة بثيابه (أو على خاتمه) بنقش غير مستبين. قال في البحر: ومفاده كراهة المستبين لا المستتر بكيس أو صرة أو ثوب آخر، وأقره المصنف ( أو كانت صغيرة) لا تتبين تفاصيل أعضائها للناظر قائماً، وهي على الأرض، ذكره الحلبي (أو مقطوعة الرأس أو الوجه) أو ممحوة عضو لا تعيش بدونه (أو لغير ذي روح لا) يكره، لأنها لا تعبد“ یعنی اور ایسا کپڑا پہن کر نماز پڑھنا، مکروہ تحریمی ہے جس میں جاندار کی تصویر ہو اور یہ کہ تصویر سر کے اوپر ہو یا سامنے ہو یا داہنی یا بائیں طرف ہو یا محل سجود میں ہو، اور اگر کھڑے ہوئے تکیہ پر تصویر ہو، بچھے ہوئے پر کراہت نہیں اور اگر تصویر نمازی کے پیچھے ہو تو اختلاف ہے اور اظہر یہ ہے کہ مکروہ ہے، اور اگر تصویر دونوں قدموں کے درمیان ہو تو یا محلِ جلوس میں ہو تو مکروہ نہیں کیوں کہ وہ توہین کی جگہ ہے۔ اور اگر نمازی کے ہاتھ پر تصویر ہو،شمنی کی عبارت میں ہے نمازی کے بدن پر ہو تو نماز مکروہ نہ ہوگی کیونکہ یہ کپڑوں سے چھپی ہوئی ہے۔ یا تصویر انگوٹھی پر ہو ایسے نقش کے ساتھ جو واضح نہ ہو۔بحر میں فرمایا کہ اس (یعنی تصویر کے چھپ جانے والی) علت کا مفاد یہ ہے کہ کراہت نظر آنے والی تصویر میں ہے، نہ کہ اُس تصویر میں جو بٹوے یا تھیلی یا دوسرے کپڑے سے چھپی ہو۔(یونہی نماز مکروہ نہ ہوگی اس صورت میں کہ) وہ تصویر چھوٹی ہو کہ جس کے اعضاء کی تفصیل کھڑے ہوکر دیکھنے والے پر ظاہر نہ ہو،اس حال میں کہ تصویر زمین پر ہو۔یا وہ تصویر ایسی ہو کہ اُس کا سر یا چہرہ کاٹ دیا گیا ہو۔ یا وہ عضو محو کر دیا جس کے بغیر زندگی نہ رہے یا غیر جاندار کی تصویر ہو تو مکرونہیں، کیونکہ اس کی عبادت نہیں کی جاتی۔ (تنوير الأبصار مع الدر المختار، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، الجزء الثاني، صفحة:416-418، دار عالم الكتب رياض)

تصویر کا پیچھے ہونا بھی مکروہ ہے لیکن دیگر صورَتوں سے کم، چنانچہ رد المحتار میں ہے:”(والأظهر الكرامة) لكنها فيه أيسر“ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، مطلب إذا تردد الحكم... إلخ، الجزء الثاني، صفحة:417، دار عالم الكتب رياض)

اگر غیر جاندار کی تصویر ہو تو نماز میں کراہت نہیں، چنانچہ رد المحتار میں ہے:قوله: (أو لغير ذي روح) لقول ابن عباس للسائل«فإن كنت لا بد فاعلا فاصنع الشجر وما لا نفسه له»رواه الشيخان، ولا فرق في الشجر بين المثمر وغيره“ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، مطلب إذا تردد الحكم... إلخ، الجزء الثاني، صفحة:418، دار عالم الكتب رياض)

چھوٹی تصویر ہو تو کراہت نہیں، چنانچہ ہدایہ میں ہے:لوکانت الصورۃ صغیرۃ بحیث لاتبدو للناظر لاتکرہ لان الصغار جدالاتعبد
 ترجمہ: اگر تصویر اتنی چھوٹی ہو کہ دیکھنے والے کے لیے واضح نہ ہو تو مکروہ نہیں اس لئے کہ اتنی چھوٹی تصویروں کی پوجا نہیں کی جاتی۔

اس کے تحت فتح القدیر میں ہے:(قوله بحيث لا تبدو للناظر) أي على بعد ما۔۔۔ فليس لها حكم الوثن فلا يكره في البيت“ 
 ترجمہ: یعنی کچھ دور سے دیکھنے میں دیکھنے والے کے لیے واضح نہ ہو، تو ایسی تصویربت کے حکم میں نہیں لہذا گھرمیں اس کا رکھنا مکروہ نہیں ہوگا۔ (فتح القدیر، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ و ما یکرہ فیھا، ج:1، صفحة:428، مطبوعہ: کوئٹہ)

اگر صورت مٹا دی جائے تو صورت نہیں رہتی، چنانچہ ہدایہ میں ہے:”ممحو الرأس لیس بتمثال لأنه لایعبد بدون الراسؤ“ 
 یعنی اگر سر محو کر دیا جائے یعنی مٹا دیا جائے تو وہ تصویر اورمورتی نہ رہے گی کیونکہ بغیرسراس کی عبادت نہیں کی جاتی۔ (الهداية، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة... إلخ، 1/122)

عنایہ میں ہے:”انه لایعبد بلا رأس فکان کالجمادات“ یعنی اگر سر نہ ہو تو اس کی عبادت نہ ہوگی کیونکہ وہ محض بے جان چیزوں کی طرح ہے۔ (العناية شرح الهداية،على هامش فتح القدىر، باب ما يفسد الصلاة، 1/363)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ فرماتے ہیں:”جاندار کی اتنی بڑی تصویر کہ اسے زمین پررکھ کر کھڑے ہو کر دیکھیں تو اعضاء بالتفصیل نظر آئیں بشرطیکہ نہ سربریدہ ہو، نہ چہرہ محورکردہ، نہ پاؤں کے نیچے ، نہ فرش پاانداز میں، نہ مخفی پوشیدہ جس کمرہ میں ہو، اس میں نماز مطلقًا مکروہ ہے خواہ آگے ہو یاپیچھے یا دہنے یا بائیں یا اُوپر یاسجدہ کی جگہ اور ان سب میں بدترجائے سجود یاجانب قبلہ ہونا ہے پھر اوپر، پھر دہنے بائیں، پھر پیچھے اور اس میں کراہت کے متعدد وجوہ ہیں اس مکان کامعبدِ کفارسے مشابہ ہونا، تصویر کا بطور اعزاز ظاہر طور پر رکھا یا لگا ہونا، آگے یاجائے سجود پر ہو تو اس کی عبادت سے مشابہ ہو، ملائکہ رحمت کا اس مکان میں نہ آنا متواترحدیثوں میں ہے کہ حضورسیدالمرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”ان الملٰئکۃ لاتدخل بیتافیہ کلب ولاصورۃ“ يعنى بیشك فرشتے اس گھرمیں نہیں جاتے جس میں کتا یاتصویرہو۔ یہ وجہ اُن تمام صورمذکورہ کوشامل اور وہم مذکور فی السوال کاعلاج کامل۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد:7، صفحہ:188-189، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)


⚠️یہ جواب تو تصویر والے رُوم میں نماز پڑھنے کا ہے، رہا تصویر سازی تو مجسمہ بنانا یا دستی تصویر بنانا یہ دونوں تو بالاتفاق حرام ہیں۔ اور رہا فوٹو کھینچنا یا کھنچوانا تو یہ ضرورت کے وقت جائز اور بغیر ضرورت کے ناجائز و گناہ۔ یوں ہی گھر میں جاندار کی تصویر بغیر ضرورت تعظیماً رکھنا بھی ناجائز و گُناہ اور مانعِ دخولِ ملائکہ ہے۔


والله تعالیٰ اعلم بالصواب

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

تصویر والے لباس کو پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ اس مسئلہ کو پڑھنے کے لیے کلک کریں 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.