بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوش آمدید

Sada e Qalb
The voice of our heart
آپ کی آمد ہمارے لیے باعثِ مسرت ہے
Sada e Qalb
The Voice of our heart

Sada E Qalb

صداۓ قلب
مؤسس: محمد کونین الصدیقی المصباحی
کسی اچھی اور معیاری تحریر کا مطالعہ انسان سے انسانیت تک کا ایک مکمل سفر ہے، ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحریر انسانی فکرونظرکو معراج کی آخری سرحد تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،آئیں مطالعے کے اس سفر میں قدم قدم ساتھ چلتے ہیں۔

ہزاری روزہ کی حقیقت؟




یہ ہزاری روزہ کا کیا مسئلہ ہے؟


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

مشہور ہے کہ ”رجب کی 26 کو ہزار اور 27 کو لاکھ روزوں کا ثواب ملتا ہے۔“ ان دنوں میں روزہ رکھنا تو بالکل جائز ومستحسن ہے، مگر یہ جو ثواب کے متعلق مشہور ہے اس کا ثبوت نہیں۔

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اَعظَمی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ فرماتے ہیں:”رجب کی ۲۶ و ۲۷ کو روزے رکھتے ہیں، پہلے کو ہزاری اور دوسرے کو لکھی کہتے ہیں یعنی پہلے میں ہزار روزے کا ثواب اور دوسرے میں ایک لاکھ کا ثواب بتاتے ہیں۔ ان روزوں کے رکھنے میں مضایقہ نہیں، مگر یہ جو ثواب کے متعلق مشہور ہے اس کا نہیں۔“ (بہارِ شریعت، جلد:3، حصہ:16، صفحہ:646، مجلس المدينة العملية دعوت اسلامی)

ستائیسویں روزہ رکھنے کے متعلق ہے کہ ”جو رجب کے ستائیسویں دن کا روزہ رکھےگا تو اللہ پاک اس کے لئے ساٹھ مہینوں کے روزوں کا ثواب لکھے گا۔“ (فضائل شھرِ رجب للخلّال، صفحہ:76)


والله تعالیٰ اعلم بالصواب

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

   اُلٹی آنے سے روزہ کب ٹوٹتا ہے؟ اس مسئلہ کو پڑھنے کے لیے کلک کریں 

0 Response to "ہزاری روزہ کی حقیقت؟ "

Post a Comment

Article Top Ads

Central Ads Article 1

Middle Ads Article 2

Article Bottom Ads

-->