مروجہ اعراس پر ایک تنقیدی جائزہ
از قلم : محمد دلشاد رضا شادزیر تعلیم : الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مذہبی و معاشرتی رسوم و رواج نے انسانی زندگی پر ہمیشہ گہرا اثر ڈالا ہے ۔ ان ہی میں سے مروجہ اعراس اور جلسے بھی ہیں۔ آج اگر دن بدن منعقد ہونے والے مروجہ اعراس اور جلسوں کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان میں بے شمار ایسی لایعنی چیزوں کو شامل کر دیا گیا ہے جس کا نا تو اسلام میں کوئ حیثیت ہے اور نا ہی شریعت میں اس کی کوئ حقیقت ۔
عرس اولیائے کرام اور بزرگان دین کے روحوں کو ثواب پہنچانے اور ان کی تعلیمات و سیر کو لوگوں کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے منایا جاتا ہے تاکہ لوگ ان کی طرز حیات کے مطابق زندگی گزار کر دین سے قریب ہوں ۔ افسوس کہ آج کے مروجہ اعراس دین اسلام کی حقیقی روح سے کافی دور جا چکے ہیں، ان میں نام و نمود ، فضول خرچی ، بےحیائی و بے پردگی جیسی خرافات دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں ۔ اور ہاں آج عوام ان لوگوں کا عرس منارہے ہیں جن کی تاریخ میں نہ کوئ اہم پہلو موجود ہے نہ کوئ خدمات اور نہ ہی ان کی کوئ سوانح حیات ، حتی کہ خود ان کی ذات کے بارے میں کامل یقین نہیں کہ وہ مؤمن بھی تھا یا نہیں؟
حال ہی میں ایک واقعہ پیش آیا رام گنج اسلام پور اتر دیناج پور میں ۔ وہاں کوئ بابا تھا جو شب و روز کسی ندی یا تالاب کے کنارے بیٹھا رہتا،اسی طرح اس کی زندگی گزری۔جب اس کا انتقال ہوا تو وہاں کے باشندے اس کا مزار بنانے اور اس کا عرس منانے کے لیے مکمل تیار تھے۔صرف اس وجہ سے کہ اس نے اپنی زندگی کی ایک لمبی مدت ایک ہی جگہ میں بیٹھ کر گزاری ، اس کے سوا اس کی اور کوئ خاص بات نہیں تھی لوگ اسی کو کرامت سمجھ بیٹھے ، اخیر میں علاقائی علمائے کرام کی کافی تفتیش کے بعد اس کا مؤمن ہونا ثابت ہوا ، علما نے اس کے مراسم بعد الموت پر اکتفا کرنے کا حکم دیا اور اس کی قبر کو مزار کی شکل دینے یا اس کا عرس منانے سے منع کیا ، یہ ہے ہماری قوم کی حالت !
اور اگر عورتوں کی بات کی جائے تو آج کل عورتیں مزارات کی زیارت کے لیے کثرت سے جاتی ہیں ، مزارات کا طواف کرتی ہیں ، صاحب مزار کے چوکھٹ سے لے کر کھڑکی تک ان میں سے ہر چیز کو چومنا باعث اجر و ثواب سمجھتی ہیں ، اور اگر غلطی سے صاحب مزار کے سامنے کوئ درخت ہو تو اس کے شاخوں پر منتوں کا دھاگا باندھ کر پورا درخت بھر دیتی ہیں ، بعض عورتوں کی منتیں کچھ یوں ہوتی ہیں کہ میری اگر یہ مرغی بچ گئی تو میں ایک بکری کی قربانی دوں گی ، اور ایک عورت کئ کئ چادروں کی منتیں لے کر آتی ہیں ، ایک بیٹا کی طرف سے ایک بیٹی کی طرف سے ایک پوتا کی طرف سے ایک پوتی کی طرف سے وغیرہ...آپ خود اس سے اندازہ لگائیے! کیا اسلام ایسی چیزوں کی اجازت دیتا ہے ، یہ تمام رسوم و رواج محض اسلامی تعلیمات سے نا آشنا اور نا واقفیت کی پیداوار نہیں تو اور کیا ہیں۔
اور اگر عرس کے نام پر منعقد ہونے والے جلسوں کی بات کی جائے تو اس میں اصلاح پر تفریح کا پہلو غالب نظر آتا ہے ، ان کے اثرات وقتی اور سطحی ثابت ہوتے ہیں ۔ جس قدر مروجہ اعراس اور جلسوں کی مخالفت ہو رہی ہیں اسی قدر اس کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ، حال ہی کی بات ہے ٫٫ مفتی سلمان ازہری صاحب ،، دوران خطاب فرما رہے تھے : کہ صرف بہار میں اس قدر کثرت سے جلسے ہو رہے ہیں کہ میں اگر سال کا پورا تین سو پینسٹھ دن دے دوں تب بھی کم پڑ جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کس قدر کثرت سے جلسے ہو رہے ہیں ، ان جلسوں کی کیفیت کچھ یو ہوتی ہیں : بیش قیمت خطبا و شعرا منگوائے جاتے ہیں ، ان کے لیے بہترین کھانے پینے کا انتظام کیا جاتا ہے ، بڑے بڑے اسٹیج اور اس کی سجاوٹ میں کئ کئ لاکھ روپیہ خرچہ کیا جاتا ہے اور ہاں یہ جلسہ کرانے میں اکثر وہ نوجوان پیش پیش ہوتے ہیں جو دین کی مبادیات سے بھی واقف نہیں ہوتے ، دینی شعور اور فکر و عمل سے بے بہرہ ہوتے ہیں، کبھی ان کا من بنا تو جلسہ کروا لیا، کبھی من چاہا تو مشاعرہ کروالیا اور تھوڑا عشق و مستی کا جوش چڑھا تو قوالی کروالیا وہ بھی مرد و عورت کے درمیان مقابلہ والی ۔ اور پھر کیا پوری رات موج مستی میں مگن رہتے ہیں صبح فجر کی نماز غائب کر کے آرام سے دن بھر سوتے رہتے ہیں ۔
اعراس اور جلسوں کی یہ مروجہ صورت حال نے اصل مقصد کو پس پشت ڈال دیا ہے ، آج امت مسلمہ کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں زیارتِ قبور ، سکھانے کی اشد ضرورت ہے ، اور فضولیات اور لغویات سے خالی کر کے جلسوں کے مصارف میں میانہ روی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
🤍♥️🤲🏻مولا تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

