نماز کے درمیان پیروں کا فیصلہ کتنا ہونا چاہیے؟



سوال:- نماز کے درمیان پیروں کا فیصلہ کتنا ہونا چاہیے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

حالتِ نماز میں دونوں پیروں کے درمیان کم از کم چار اُنگل اور زیادہ سے زیادہ ایک بالشت کا فاصلہ ہونا چاہیے۔ لیکن ایک ہاتھ پھیلانا کسی معتبر کُتُب سے ثابت نہیں ہے۔

رد المحتار میں ہے:”ینبغی أن یکون بینھما مقدار اربع اصابع الید لأنه أقرب إلی الخشوع ھکذا روی عن أبی نصر الدبوسی انه کان یفعله کذا فی الکبرٰی“ يعنى دونوں قدموں کے درمیان ہاتھ کی چار انگلیوں کی مقدار فاصلہ ہونا چاہیے کیونکہ یہ خشوع کے زیادہ قریب ہے۔ ابو نصر دبوسی سے اسی طرح منقول ہے کہ وہ یہی کرتے تھے ایسا ہی کُبری میں ہے۔ (رد المحتار،كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة،بحث القيام، الجزء الثاني، صفحة:131، دار عالم الكتب رياض)

نورالایضاح اور اس کی شرح مراقی الفلاح للعلامۃ الشرنبلالی میں ہے: یسن تفریج القدمین فی القیام قدر اربع اصابع لأنه أقرب الی الخشوع“ یعنی حالتِ قیام میں دونوں قدموں کو چار انگلیوں کے فاصلہ پر کھلا رکھنا سنّت ہے کیونکہ یہ خشوع کے زیادہ قریب ہے۔ (مراقی الفلاح و حاشية مراقى، فصل في بيان سنن الصلاة، صفحة:143)

سید الطحطاوی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ نے حاشیہ میں فرمایا:” نص علیه في کتاب الاثرعن الامام ولم یحك فیه خلافا“ یعنی کتاب الاثر میں امام صاحب نے اس پر نص کی ہے، اور اس میں اختلاف بیان نہیں کیا۔ (مراقی الفلاح و حاشية مراقى، فصل في بيان سنن الصلاة، صفحة:143)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ فرماتے ہیں:”چار ہی انگل کا فاصلہ رکھنا چاہئے یہی ادب اور یہی سنت ہے اور یہی ہمارے امام ِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْهُ سے منقول ہے۔۔۔ مگر ایك ہاتھ کا فرق نہ کسی مذہب کی کتاب میں نظر سے گزرا نہ کسی طرح قابلِ قبول ہوسکتا ہے کہ ہدایۃً طرز و روش ادب وخشوع سے جُدا ہے، جن شافعیہ نے ایسا کیا غالبًا کوئی عذر ہوگا یا شاید ناواقفی کی بنا پر کہ مکہ معظمہ کا ہر متنفس تو عالم نہیں، اعتبار اقوال و افعالِ علماء کا ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:6، صفحہ:153-155، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)


والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

نماز میں رفع یدین کرنا کیسا ہے؟ اس کو پڑھنے کے لیے کلک کریں


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.