:جامعہ اشرفیہ کا قیام حافظ ملت کا عظیم کارنامہ
مرتب: محمد ثمیر احمد
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
وہ دور جب فکر دین کی شمعیں مدھم پڑھتی جا رہی تھی اور ملت ایک ایسی رہنمائی کی تلاش میں تھی جو اسے دوبارہ علم و ہدایت کے راستے پر گامزن کر سکے ایسے میں تاریخ ہند کے افق پر ایک روشن عزم ابھرا۔ یہ وہ تاریخی لمحہ تھا جب ایک مرد مجاہد نے علم و ایمان کا چراغ جلانے کا عزم کیا جنہیں دنیا حافظ ملت کے لقب سے جانتی اور پہچانتی ہے یہ عزم اتنا مضبوط تھا کہ حالات کی سختیاں بھی اس کے ارادے کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔ حافظ ملت علیہ الرحمہ نے نہ وسائل کی کمی دیکھی اور نہ حالات کی تنگی صرف ایک مقصد پیش نظر رکھا دین کی سربلندی اور اسی جذبۂ ایمانی کا نتیجہ تھا جامعہ اشرفیہ کا قیام ایک ایسا ادارہ جو ایمان علم عمل کا حسین سنگم بن گیا
جامعہ اشرفیہ مبارک پور کی بنیاد خود حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ نے رکھی دارالعلوم اشرفیہ کی عمارت کے لیے حضور حافظ ملت اور ان کے معاونین نے شیخ محمد امین انصاری سے گولہ بازار مبارک پور میں ایک وسیع زمین حاصل کی اور 1935ء میں اس کی سنگ بنیاد کی تاریخ طے پائی۔جلسۂ سنگ بنیاد میں شیخ المشائخ حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی، حضرت صدر شریعہ اعظمی، حضرت محدث اعظم ہند اور دیگر علماے اہل سنت شریک ہوئے بعد نماز جمعہ بزرگان دین اور حضور حافظ ملت نے اپنے مقدس ہاتھوں سے دارالعلوم کا سنگ بنیاد رکھ کر اس کے فروغ و ترقی اور بقا و استحکام کی دعا فرمائی اس کا تاریخی نام باغ فردوس 1353ھ ہے۔ دارالعلوم اشرفیہ مصباح العلوم اس کا نام تجویز ہوا اور دارالعلوم اشرفیہ کے نام سے شہرت حاصل ہوئی۔ پھر جب دارالعلوم اشرفیہ کی عمارت طالبان علوم نبوت کے لیے نا کافی ثابت ہو رہی تھی تو حافظ ملت نے اپنی بلند نگاہی اور مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ اس علمی اور ملی ضرورت کے پیش نظر یہ طے کیا کہ آبادی سے باہر نکل کر کسی وسیع خطہ زمین پر ایک شہر علم بسایا جائے، طے شدہ خطوط پر مبارک پور کے جنوبی حصے میں الجامعۃ الاشرفیہ کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے وسیع و عریض زمین کی خریداری ہو گئی اور اسی جگہ پر قلعۂ علم بسایا گیا یہ دارالعلوم اہل سنت مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم کی ہی ترقی یافتہ شکل ہے جو 1972ء میں الجامعۃ الاشرفیہ عربک یونیورسٹی کے نام سے موسوم ہوا۔ مگر اس راہ میں بے شمار مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا شروع کے مہینوں میں لوگ چندہ دینے پر امادہ نہ تھے بعض لوگوں نے بدگمانیاں پیدا کی اور کہا: یہ ادارہ کامیاب نہیں ہوگا تو کسی نے کہا: اتنی غربت میں مدرسہ چل نہیں سکے گا۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ کھانے کے لیے کچھ موجود نہ ہوتا، مگر تدریس جاری رہتی حافظ ملت علیہ الرحمہ خود فرماتے تھے: کہ ہمارے جیب میں کچھ نہ ہوتا تھا لیکن اللہ کا یقین اور دین کی محبت ہمارے ساتھ ہوتی تھی۔ اس کے باوجود بھی حضور حافظ ملت نے سب کچھ برداشت کیا مگر اپنا قدم پیچھے نہیں ہٹایا جب جامعہ ترقی کرنے لگا تو مختلف طبقات سے مخالفتیں شروع ہوئیں بعض لوگوں نے نظام تعلیم پر اعتراض کیے چند لوگوں نے شخصی حسد کی وجہ سے ادارے کو بد نام کرنے کی کوشش کی لیکن حافظ ملت نے سب کا جواب حکمت، صبر اور عمل سے دیا۔ اور ہمیں بھی یہ سکھا گئے کہ: ”ہر مخالفت کا جواب کام ہے“ اور یوں جامعہ اشرفیہ کا قیام ہوا۔ آج یہ عظیم قلعہ نہ صرف ملک میں بلکہ دنیا کے ہر گوشے میں اپنی روشنی بکھیر رہا ہے۔۔
جامعہ اشرفیہ کی یہ داستان قیام ہمیں ایک حقیقت یاد دلاتی ہے کہ جب نیت روشن ہو، مقصد پاک ہو اور دل میں دین کی تڑپ ہو تو پھر راستے کی کانٹے دار رکاوٹیں بھی قدموں کے نیچے نرم گلاب بن جاتی ہیں۔ حافظ ملت نے تنگی، مخالفت، فقر و فاقہ اور طرح طرح کی آزمائشوں کا سامنا کیا، مگر کبھی ہمت نہ ہاری ان کی استقامت نے ایک چھوٹی سی جھونپڑی کو عالمی درسگاہ بنا دیا۔
آج جامعہ اشرفیہ کی بلند و بالا عمارتیں، اس کی علمی فضا، اس کے ہونہار فارغین - یہ سب حافظ ملت کی ان آنسوؤں، دعاؤں اور راتوں کی جاگنے کا روشن ثمرہ ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ: جن کے دلوں میں اخلاص کی شمع جلتی ہے، اللہ ان کے خوابوں کو حقیقت کا نورانی جامہ پہنا دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس گلشن کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، اور ہمیں بھی دین کی ایسی ہی ثابت قدم خدمت کی توفیق بخشی۔۔ (امین)
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

