مفتی ارمان علی عبیدی اور ان کی خاکساری
از قلم: محمد اکمل یزدانی
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
میرے استادِ محترم مرشدِ گرامی حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد ارمان علی عبیدی صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ ایک نہایت باصلاحیت اور جواں سال عالمِ دین ہیں۔ آپ ضلع کٹیہار کے گاؤں شہجنہ کے رہنے والے ہیں۔
موصوف کو مطالعے کا ایسا ذوق حاصل ہے کہ جب وہ کتابوں میں مشغول ہوتے تو نہ نیند کا احساس رہتا کہ رات کافی ہو گئی ہے اب سونا چاہیے اور نہ بھوک کا خیال ہوتا کہ کھانا بھی کھانا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کتابوں میں ڈوب گئے ہوں۔
علمِ نحو، منطق، فقہ اور علمِ عقائد میں آپ کو گہری دسترس حاصل ہے۔ اکثر سوالات کے جوابات فوراً عنایت فرما دیتے، اور کبھی زندگی کی بے شمار مصروفیات اور ذہنی الجھن کے باعث فوراً جواب حاضر نہ ہو تو تھوڑا سا وقت لے کر نہایت اطمینان کے ساتھ جواب دے دیتے۔
جب آپ خطاب فرماتے تو نہ شور و غوغا ہوتا، نہ جذباتی نعرے بازی، اور نہ ہی بے بنیاد یا بغیر تحقیق بات کی جاتی، بلکہ آپ کی گفتگو خالص علمی ہوتی، جس سے سننے والوں کے دل علم کے نور سے منور ہو جاتے۔
خدمتِ خلق کا جذبہ بھی آپ میں نمایاں ہے۔ لاک ڈاؤن کے زمانے میں آپ نے کئی مہینوں تک لوگوں کے گھروں میں جا کر قرآنِ پاک درست مخارج کے ساتھ پڑھانے کا اہتمام کیا، نیز ضروری دینی مسائل اور عقائد کی تعلیم بھی دی۔ بعد میں بعض لوگوں کی بے رغبتی کے باعث یہ سلسلہ موقوف کرنا پڑا۔
آپ کی عاجزی اور انکساری کا یہ عالم ہے کہ جب اپنے سے بڑے علماء اور اہلِ علم کے پاس تشریف لے جاتے تو نہایت ادب و احترام کے ساتھ ایک طالبِ علم کی طرح بیٹھتے، گویا ان کے شاگرد ہوں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کے وسیلے سے میرے مرشدِ گرامی حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد ارمان علی عبیدی صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ کے علم، عمل، صحت اور عمر میں برکت عطا فرمائے، اور ہمیں بھی انہی کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

