شادی میں عورت کا مل کے گانا یا نعت پڑھنا کیسا ہے؟




شادی میں جو عورتیں ایک جا ہو کر گیت گاتی ہے اس کا کیا حکم ہے؟ اگر وہی لوگ مل کے نعت پڑھیں تو اس کا کیا حکم ہے؟ دلائل و شواہد کی روشنی میں جواب مطلوب ہے۔


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------


آج کل عُمومی طور پر جو گیت گائے جاتے ہیں وہ ڈھول تاشے اور قواعدِ موسیقی کی طرز پر مُشتمل ہوتے ہیں لہذا اس طرح گیت گانے کی اجازت نہیں۔ اسی طرح عورت کا تنہا یا مجتمع ہو کر نعتِ رسول ﷺ پڑھنا، جن میں ان کی آواز غیر محرم اصلاً نہ سُنے، جائز ومستحسن ہے۔ نہ اس طرح کہ مائک پر ہو اور آواز غیر محرم و اجنبی سُنیں اور فتنوں کے دروازے کھلیں۔ یا کیمرے کے سامنے پڑھ کر اسے سوشل میڈیا پر اَپلوڈ کرنا، یہ ثواب نہیں بلکہ ناجائز وحرام ہے۔

خوشى كے موقع پر باجے كى آواز كو دنيا وآخرت میں ملعون قرار ديا گيا، چنانچہ مسند بزار میں ہے:”صوتان ملعونان في الدنيا والآخرة، مزمار عند نعمة، ورنة عند مصيبة“ يعنى دو آوازیں دنيا وآخرت میں ملعون ہیں:نعمت كے وقت باجے كى آواز اور مصيبت كے وقت رونے كى آواز۔ (مسند بزار، مسند أبي حمزة انس بن مالك، جلد:14، صفحة:62)


گانوں کے متعلق سننِ ابی داوُد وشعب الایمان میں ہے:”الغناء ينبت النفاق في القلب، كما ينبت الماء الزرع“ یعنی گانا دِل میں اِس طرح نِفاق پیدا کرتا ہے جیسے پانی کھیتی کو اُگاتا ہے۔ (شعب الایمان، الفصل ومما ينبغي للمسلم المرء أن يحفظ اللسان عن الشعر إلخ، جلد:7، صفحة:108)


بہارِ شریعت میں ہے:”ناچنا، تالی بجانا، ستار، ایک تارہ، دو تارہ، ہارمونیم، چنگ، طنبورہ بجانا، اسی طرح دوسرے قسم کے باجے سب ناجائز ہیں۔“ (بہارِ شریعت، جلد:3، حصہ:16، صفحہ:511، مجلس المدينة العملية دعوت اسلامی)

شریعت نے مرد و عورت کو دونوں کو پردے کا تاکیدی حُکم دیا، اور بے پردگی سے منع فرمایا، چنانچہ قرآن پاک میں ہے:﴿ قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ، وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا﴾ ترجمۂ کنز الایمان:مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے بیشک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے۔ اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے۔ (القرآن الکریم، سورۃ النور، آیت:30، 31)

فتاویٰ رضویہ میں ہے:”لڑکیوں کا غیرمردوں کے سامنے خوش الحانی سے نظم پڑھنا حرام ہے، اور اجنبی نوجوان لڑکوں کے سامنے بے پردہ رہنا بھی حرام۔۔۔ اور جو اپنی لڑکیوں کو ایسی جگہ بھیجتے ہیں، بے حیابے غیرت ہیں ان پر اطلاق دیّوث ہوسکتا ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:23، صفحہ:691، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)

والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

گانے کی طرز میں نعت پڑھنا یا سننا کیسا ہے؟ اس مسئلہ کو پڑھنے کے لیے کلک کریں 



Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.