امام اعظم ابو حنیفہ کی حالاتِ زندگی


امام اعظم ابو حنیفہ حضرت نعمان بن ثابت رضی ﷲ عنہما

🌹 امام اعظم ابو حنیفہ کی حالاتِ زندگی 🌸

از قلم:✍🏻 محمد کونین صدیقی ابن حاجی عبد المنان عفی عنہما۔

-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

قادر مطلقﷻ نے مذہبِ اسلام کی صیانت کے لیے ہر دور میں ایسے رجالِ حق کو اٹھایا جو علم و تقویٰ کے ذریعے دین کے قلعے کی نگہبانی کیے، اور بد مذہبوں کے قلعے قمع کیے، انھیں ذی حَشم میں فقہ حنفی کے بانی، علم و حکمت کے بہر بے کراں، حلم و بردباری کے پیکر، فقاہت و ذہانت اور تجارت میں یکتا، سلیم الحس، شیریں گفتار، جلیل القدر تابعی، عظیم محقق، منفرد المثال فقیہ، رئیس الفقہا و المجتہدین، سید الاولیا و المحدثین، امام الائمہ، سراج الامہ، کاشف الغمہ، ابو حنیفہ حضرت نعمان بن ثابت بن نعمان بن مرزبان کی ذات ستودہ ہے، جو فارسی النسل تھے، جن کی تعریف میں ہر محدث، امام، فقیہ مدح سرا ہے، یہی ان کی رفیع المرتبت، جلالتِ علم اور شانِ بالائی کی اعلیٰ ترین دلیل ہے۔

ولادت باسعادت: عراق کے شہرہ آفاق شہر "عراق" بہ قریب "نجف " میں ۸۰ ھ مطابق ۵/ستمبر ٦٩٨ء کو اس خاک گیتی پر تشریف لائے

ابتدائی ایام میں ضروری علوم سے فارغ ہوکر اپنی تجارت و معیشت شروع کی لہذا امام اعظم رحمہ اللّٰہ کی ذہانت و فطانت کو دیکھتے ہوے علم حدیث کی معروف شخصیت حضرت شیخ عامر شعبی کوفی رحمہ اللّٰہ نے (جو پانچ سو سے زائد اصحابِ رسول ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوۓ) تجارت سے تحصیل علم کی طرف منتقل ہونے کا انقلابی فکر پرور مشورہ دیا، اور امام اعظم رحمہ اللّٰہ نے عزم مصمم کیا اور اس کو عملی جامہ پہنایا اور علم حدیث، علم کلام اور علم فقہ میں ایسے کمال پر گدی نشین ہوۓ کہ علمی اور عملی لحاظ سے زمانہ "امام اعظم" کہتا ہے،
ملاقاتِ صحابہ کرام علیھم السلام:  امام اعظم رحمہ اللّٰہ نے اپنی حیاتِ زندگانی میں ایک کثیر تعداد اصحابِ رسول ﷺ سے ملاقات کی تھی، جن سے اکتسابِ علم و فیض و برکت حاصل کیا، جن میں عظیم الاثر حضرت انس بن مالک وغیرہ رضی ﷲ عنہم اجمعین عالی مرتبت اصحابِ رسول ﷺ ہیں۔
اساتذہ کرام علیہم الرحمہ : امام اعظم رحمہ اللّٰہ اپنا علمی و روحانی تشنگی بجھانے کے لیے دیگر ممالک کے اسفار بھی کیے جن میں مکہ معظمہ، مدینہ منورہ اور ملک شام نمایاں ہیں، جس میں موجود شیخ الشیوخ معتبر و مستند علما سے الگ الگ علوم و فنون حاصل کیے، سید شاہ تراب الحق قادری رحمہ اللّٰہ نے اپنے مسودہ کتاب "امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ ص: ۹۲" میں "مناقب للموفق ص۱۹۲" کے مطابق فرمایا کہ امام اعظم رحمہ اللّٰہ کے اساتذہ کرام کی تعداد تقریباً چار ہزار کی بتائی گئی ہے۔
تلامذہ محترم علیہم الرحمہ: جس طرح امام اعظم رحمہ اللّٰہ کے اساتذہ کی لمبی فہرست ہے، اسی طرح تلامذہ مشرفہ کی بھی طویل و عریض قطاریں ہیں، جن میں امام ابو یوسف و امام محمد اور حسن بن زیاد و ابراہیم بن ادہم وغیرہ رحمہم اللّٰہ لاتعداد اشراف شاگردی کے جام سے لبا لب ہو کر سیراب ہو چکے ہیں، جن میں ہر ایک اپنے اپنے وقت کی عظیم الشان شخصیت شمار کی جاتی ہے،
والدین معظمین علیہما الرحمہ: اہل خانہ سے والہانہ محبت کرتے تھے والد بزرگوار امام اعظم رحمہ اللّٰہ کے بچپنے میں ہی سپردِ خاک ہو چکے تھے، اور والدہ ماجدہ ایک مدت تک با حیات رہیں، ان سے بے تحاشا الفت و محبت کرتے تھے، وقت کے اتنے بڑے امام ہونے کے با وجود امی جان کی تشفی بخش کے لیے عمرو بن زر رحمہ اللّٰہ سے مسئلہ دریافت کرنے جاتے، جب کہ بسا اوقات امام اعظم رحمہ اللّٰہ سے ہی استفسار کرکے ان کا جواب دیتے پھر سکون القلب والدہ محترمہ کو سناتے پھر وہ مطمئن ہوتیں۔
:پوشاک مبارک 
بنفس نفیس امام اعظم رحمہ اللّٰہ اپنے لباس کے معاملے میں قیمتی اور بے حد نظیف و نفیس کپڑے اپنے بدن میں ملبوس کرتے، اور خوشبو کے معاملے میں سراپا نور بہ مجسمہ تھے، اپنے معمول کی بنیاد پر ہمیشہ گھر سے بازار جاتے وقت خوشبودار عطر لگایا کرتے تھے، جن سے راستے اور مارکیٹ میں موجود لوگ حقیقی طور پر متاثر ہوا کرتے تھے۔
:عبادت و ریاضت
امام ذہنی رحمہ اللّٰہ نے فرمایا کہ زہد و ورع میں اور تہجّد کے تسلسل کے متعلق تواتر سے ثابت ہے، عبادت و ریاضت میں کثرتِ قیام کی وجہ سے "میخ" کہا جاتا تھا، امام اعظم رحمہ اللّٰہ نے تقریباً چالیس برس تک عشا کی وضو سے فجر کی نماز ادا کیے، بعد نماز درس و تدریس کا اہتمام کرتے تھے،
:تبلیغی امور
امام اعظم رحمہ اللّٰہ اپنے پیشہ میں نہایت ہی عمدہ نظم و نسق کا اہتمام رکھتے تھے، تجارت کے قول و قرار میں مستحکم اور امانت میں سنت نبوی ﷺ کے تحت اتم امین تھے، اور واجب الادا مقروض کے قرض کو صلح رحمی میں معاف و درگزر کرتے تھے۔
:قید و شہادت 
خلافت عباسیہ کے خلیفہ منصور نے امام اعظم رحمہ اللّٰہ کو چیف جسٹس (قاضی القضاۃ) کا منصب دینا چاہا، مگر امام اعظم رحمہ اللّٰہ ان کا خفیہ منصوبہ جانتے تھے، اسی لیے اس عہدہ کا انکار کر دیے، اور دشمنوں نے خلیفہ منصور کے ذہن سازی کرکے منفی اثرات ڈال دیے، امام اعظم رحمہ اللّٰہ کے خلاف بھڑکا دیا، اور امام اعظم رحمہ اللّٰہ کو قید کر دیا گیا، اور ظلم و ستم اور بے حرمتی میں حد سے تجاوز کر گیا، اور جب بے انت غمیر محدود سے کام نہ چلا تو قید خانے میں ہی زہر دے دیا، اور اس کا جب اثر ہوا تو سر بسجود ہو گئے، اور اسی حالت میں شہادت کا جام نوش فرماے، اور اور یوں چشمِ زدن میں علم و عرفان کا وہ آفتاب ۲ / شعبان المعظم  ۱۵۰ھ میں افقِ دنیا سے غروب ہو گیا۔ (انا للّٰہ وانا الیہ راجعون)
:نمازِ جنازہ 
اور نماز جنازہ کا اژدحام بکثرت ہوا اس وقت پچاس ہزار سے زیادہ کی تعداد جنازہ میں شرکت کی، اور امام اعظم رحمہ اللّٰہ کے صاحب زادے حضرت حماد بن نعمان بن ثابت رضی ﷲ عنہم اجمعین نے پڑھائی۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

امام اعظم اور قیاس سے استدلال [ایک جائزہ] اس موضوع کو پڑھنے کے لیے کلک کریں


Post a Comment

1 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.