امام اعظم اور قیاس سے استدلال [ایک جائزہ]
تحریر: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الرضا بریلی شریف
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
امام المجتہدین، شرح "من یرد اللہ به خیرا یفقه فی الدین"، سند المحدثین، امام الائمہ، کاشف الغمہ، امام اعظم ابو حنیفہ حضرت نعمان بن ثابت کوفی رضی اللہ عنہ، آسمانِ فقاہت کے اس چمکتے دمکتے سورج کا نام ہے جس کی ضیا پاشیوں سے عالمِ انس و جن منور و تابناک ہے۔ آپ نے قرآن و حدیث سے مسائل کا استنباط و استخراج کیا، اصول و ضوابط وضع کیے اور منصبِ عظیم مجتہد فی الشرع پر فائز ہوئے۔ آپ نے فقہ کی تدوین فرمائی۔ جن مسائل کا سراغ صراحتاً قرآن و حدیث میں نہیں ملا، ان مسائل کو قرآن و حدیث کی روشنی میں قیاسِ شرعی کے ذریعے استنباط فرمایا۔
قیاس کی لغوی اور اصطلاحی تعریف ـــــــــــــ
قیاس لغت میں "تقدیر" یعنی "اندازہ لگانا" کو کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے: "قست الثوب بالذراع" (میں نے گز کے ذریعے کپڑا ناپا) اور "قست النعل بالنعل" (میں نے جوتے کو جوتے سے ناپا)۔
اور اصطلاح میں ٫٫مساواۃ المسکوت للمنصوص فی علۃ الحکم،، یعنی حکم کی علت میں مسکوت کا منصوص کے برابر ہونا۔ [مخلصا فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت ص ٣٠٥]
المنار مع نور الانوار میں ہے: القیاس فی اللغۃ: التقدیر و فی الشرع: تقدیر الفرع بالاصل فی الحکم و العلة۔ یعنی قیاس لغت میں اندازہ لگانے کو کہتے ہیں اور شریعت میں قیاس حکم اور علت میں اصل پر فرع کا اندازہ لگانے کو کہتے ہیں۔ [جلد دوم ص ٢٣٩ دار نور الصباح مکتبہ امیر]
قیاس کا ثبوت قرآن و حدیث کی روشنی میں ــــــــــــــ
اللہ جل و علا کا ارشاد ہے: فَٱعۡتَبِرُوا۟ یَـٰۤأُو۟لِی ٱلۡأَبۡصَـٰرِ [الحشرـ٢]
[تو عبرت لو اے نگاہ والو [کنز الایمان]
قیاس کی دلیل میں صاحب المنار نے مذکورہ بالا آیت کریمہ کو ارقام فرمایا اور المنار کی شرح نور الانوار میں ملا جیون احمد رضی اللہ عنہ نے اسی کی شرح یوں فرمائی؛
لأن الاعتبار رد الشيء إلى نظيره، فكأنه قال : قيسوا الشيء على نظيره، وهو شامل لكل قياس، سواء كان قياس المثلات على المثلات، أو قياس الفروع الشرعية على الأصول، فيكون إثبات حجية القياس به ثابتاً بالنص [جلد دوم ص ٢٤١]
ترجمہ: اس لیے کہ شے کو شے کی نظیر کی طرف پھیرنے کو اعتبار کہتے ہیں، تو گویا کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا: شے کو اس کی نظیر پر قیاس کرو، اور وہ تمام قیاس کو شامل ہے، خواہ وہ قیاسِ مثلات بر مثلات (یعنی عقوبات کو عقوبات پر قیاس کرنا) ہو یا فروعِ شرعیہ کا قیاس اصولِ شرعیہ پر ہو۔ تو اس طریقے سے حجیتِ قیاس کا اثبات نص سے ثابت ہوا۔
:حدیث شریف میں ہے
عن معاذ بن جبل : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما بعثه إلى اليمن قال : كيف تقضي إذا عرض لك قضاء ؟ قال : أقضي بكتاب الله قال : فإن لم تجد في كتاب الله ؟ قال : فبسنة رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فإن لم تجد في سنة رسول الله ؟ قال : أجتهد رأيي ولا آلو قال : فضرب رسول الله صلى الله عليه و سلم على صدره وقال : الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لما يرضى به رسول الله
[مشکوٰۃ المصابیح ٣٦٧٣، سنن أبو داود رقم الحدیث ۳۵۹۲، والبيهقي في "الكبرى" ١١٤/١٠، والترمذي رقم الحدیث ۱۳۲۷]
ترجمہ: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جب یمن (کا والی بنا کر) بھیجا تو ارشاد فرمایا کہ جب تمہارے سامنے کوئی مسئلہ آئے گا تو کیسے فیصلہ کروگے؟ تو کہا: میں کتاب اللہ سے فیصلہ کروں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اگر کتاب اللہ میں نہ پاؤ (تو کیا کروگے)؟ کہا: تو میں سنت (حدیث) رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فیصلہ کروں گا۔ فرمایا: اگر سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نہ ملے تو (کیا کروگے)؟ کہا: تو میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور میں اجتہاد کرنے میں کوتاہی سے کام نہیں لوں گا۔ راوی نے کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست اقدس حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے سینے پر مارا اور فرمایا: تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد معاذ بن جبل کو اس چیز کی توفیق عطا کی جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی ہو۔
ایک وہم کا ازالہ ـــــــــــ
وہم: بعض حضرات کو یہ وہم ہوا کہ قیاس کی کیا ضرورت ہے جب کہ قرآن مجید میں سب کچھ ہے، جیسا کہ اللہ جل جلالہ کا ارشاد ہے: وَنَزَّلۡنَا عَلَیۡكَ ٱلۡكِتَـٰبَ تِبۡیَـٰنࣰا لِّكُلِّ شَیۡءࣲ وَهُدࣰى وَرَحۡمَةࣰ وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُسۡلِمِینَ [النحل ٨٩]
ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور بشارت مسلمانوں کو۔
مَّا فَرَّطۡنَا فِی ٱلۡكِتَـٰبِ مِن شَیۡءࣲۚ [الانعام ٣٨]
ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے اس کتاب میں کچھ اٹھا نہ رکھا۔
ازالۂ وہم: اس وہم کا ازالہ یہ ہے کہ بے شک قرآن مقدس میں سب کچھ ہے لیکن کسی کو قرآن میں کسی مسئلے کا نہ ملنا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ وہ قرآن میں نہیں ہے کیونکہ عدم وجدان عدم کون (یعنی نہ پایا جانا نہ ہونے) کو مستلزم نہیں۔ نور الانوار میں ہے: ان عدم الوجدان لا یقتضی عدم کونه فی الکتاب [جلد دوم ص ٢٤٢] یعنی قرآن مجید میں کسی چیز کا نہ پایا جانا اس کے نہ ہونے کو مستلزم نہیں ہے۔ تو جب مسئلہ قرآن و حدیث میں نہ ملے تو پھر انسان کیا کرے؟ کس پر عمل پر؟ اس کی حلت و حرمت کو کیسے پہچانے؟ تو ضروری ہوا کہ وہ قرآن و حدیث کے معانی و مفاہیم پر غور و فکر کر کے قیاس کرے اور پھر اس کے بعد جو نتیجہ نکلے اس پر عمل کرے مثال: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: التمر بالتمر، والحنطة بالحنطة، والشعير بالشعير، والملح بالملح، مثلا بمثل، يدا بيد، فمن زاد أو استزاد فقد أربى، إلا ما اختلفت ألوانه [رواه الإمام أحمد و مسلم] ان چھ چیزوں میں زیادتی کے ساتھ بیچنے میں ربا ہونے پر تو نص ہے لیکن جو اشیاء ستہ کے علاوہ ہیں ان پر نص نہیں تو لازم آیا کہ حدیث میں غور و فکر کیا جائے کہ آ خر کیوں ان چیزوں میں فضل حرام ہے؟ تو معلوم ہوا کہ یہ بعض مکیلی بعض موزونی چیزیں ہیں اور ہم جنس ہیں اس لیے فضل حرام ہے تو اسی پر دوسری چیزوں کو قیاس کیا گیا اگر وہ موزونی یا مکیلی ہوں اور ہم جنس ہوں تو ان میں بھی فضل کے ساتھ بیچنا حرام اور برابری کے ساتھ بیچنا جائز ہوگا جیسے چونے کو چونے سے بیچنا تو اشیاء ستہ میں فضل کی حرمت نص سے ثابت ہوئی اور ان کے علاوہ میں قیاس سے
ہر شخص کو قیاس سے استدلال کی اجازت کیوں نہیں؟ــــــــــــــــــــــــ
ہر ایک شخص کو اتنا علم نہیں کہ وہ قرآن مجید کے ناسخ و منسوخ، حقیقت و مجاز، مشترک و مؤول، عبارت و دلالت، اقتضاء و اشارت، ظاہر و نص، مفسر و محکم، خفی و مشکل، مجمل و متشابہ، قرآن کے دیگر معانی و مفاہیم پر مطلع ہو سکے، اسلوب قرآن مجید سمجھ سکے اور اس سے اپنا مسئلہ حل کر سکے۔ ایسے ہی حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ناسخ و منسوخ، علل خفیہ، غوامض دقیقہ پر نظر کر سکے۔ صحاح و سنن، مسانید و جوامع و معاجم و اجزاء وغیرہا کتب احادیث میں اس کے طرق مختلفہ و الفاظ متنوعہ، احوال رواۃ پر نظر تام کر پائے۔
قیاس تو دور کی بات ہے امام کے قیاس کیے ہوئے مسئلے کے خلاف کوئی حدیث مل جائے تو اس پر عمل کرنے کے لیے کیسے کیسے قواعد و ضوابط قیود و شرائط ہیں ان کا اندازہ امام اہل سنت اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کی کتاب مستطاب 'الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذھبی" سے لگا سکتے ہیں جس میں امام اعظم رضی اللہ عنہ کے قول کے خلاف کوئی حدیث صحیح مل جائے تو اس پر عمل کب روا ہے؟ اور کس کے لیے روا ہے؟ اس پر نفیس تحقیق کی گئی ہے۔ اس میں امام اہل سنت نے چار منزلوں کا ذکر فرمایا، جن میں سے ہر ایک دوسری سے سخت تر ہے۔ ان میں سے پہلی منزل کا اقتباس قارئین ملاحظہ فرمائیں اور حیرت و استعجاب میں ڈوب جائیں۔
:فتاوی رضویہ شریف جلد ٢٧ ص ٧٠ میں مرقوم ہے
نقد رجال کہ اُن کے مراتب ثقہ و صدق و حفظ و ضبط اور اُن کے بارے میں ائمہ شان کے اقوال و وجوہ طعن و مراتب توثیق و مواضع تقدیم، جرح و تعدیل و حوامل طعن و مناشی توثیق و مواضع تحامل و تساهل و تحقیق پر مطلع ہو، استخراج مرتبہ اتقان راوی بنقد روایات وضبط مخالفات و اوہام و خطیات وغیرہا پر قادر ہو، ان کے اسامی و القاب و کنی و انساب و وجوه مختلفه تعبیر رواة خصوصا اصحابه تدلیس شیوخ و تعیین مهمات و متفق و متفرق و مختلف موتلف سے ماہر ہو۔ ان کے موالید و وفیات و بلدان و رحلات و لقاء و سماعات و اساتذه و تلامذہ و طرق تحمل و وجوه ادا و تدلیس و تسویه و تغیر و اختلاط آخذین من قبل و آخذين من بعد و سامعین حالین و غیر هما تمام امور ضروریہ کا حال اس پر ظاہر ہو۔ اُن سب کے بعد صرف سند حدیث کی نسبت اتنا کہہ سکتا ہے صحیح یا حسن یا صالح یا ساقط یا باطل یا معضل یا مقطوع یا مرسل یا متصل ہے۔
جب ایک حدیث کو حسن، صحیح، یا معطل یا ساقط یا مرسل کہنے کے لیے اتنے قیود و شرائط ہیں تو پھر قرآن و حدیث سے استدلال کے لیے کتنے علوم و فنون کی ضرورت ہے ؟ جب پہلی منزل میں نہیں پہنچ سکے تو چاروں منزل کیسے عبور کر سکتے ہیں ؟ جب چاروں منزلیں عبور نہیں کر سکتے تو قول امام کے خلاف رائے کیسے قائم کر سکتے ہیں ؟ جب اس بارگاہ میں یہ بے مائیگی ہے تو پھر از خود قرآن و حدیث سے کیسے مسائل نکال سکتے ہیں؟ اسی لیے امام اہل سنت نے منزل سوم میں فرمایا: علل خفیہ غوامض دقیقہ پر نظر کرے جس پر صدہا سال سے کوئی قادر نہیں [فتاوی رضویہ شریف جلد ٢٧ ص ٧١] اسی لیے لازم آیا کہ کسی نہ کسی امام کی تقلید کی جائے اور ان کے نقش قدم پر چل کر زندگی بسر کی جائے کیونکہ
ترے غلاموں کا نقش قدم ہے راہ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے
نیز امام اجل سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں: الحدیث مضلة الا للفقهاء یعنی حدیث سخت گمراہ کرنے والی ہے مگر مجتہدوں کو۔
: علامہ ابن الحاج مکی "مدخل" میں فرماتے ہیں
يريد ان غيرهم قد يحمل الشيئ على ظاهره ولد تأويل من حديث غيره او دليل يخفى عليه او متروک اوجب ترکه غیر شیئ مما لا يقوم به الا من ستبحر و تفقه [المدخل لابن الحاج فصل فی ذکر النعوت دار الکتب العربی بیروت جلد ١ ص ١٢٢]
ترجمہ: امام سفیان کی مراد یہ ہے کہ غیر مجتہد کو کبھی ظاہر حدیث سے جو معنی سمجھ میں آتے ہیں، اُن پر جم جاتا ہے۔ حالانکہ دوسری حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں مراد کچھ اور ہے، یا وہاں کوئی اور دلیل ہے جس پر اس شخص کو اطلاع نہیں، یا متعدد اسباب ایسے ہیں، جن کی وجہ سے اس پر عمل نہ کیا جائے گا۔ ان باتوں پر قدرت نہیں پاتا مگر وہ جو علم کا دریا بنا اور منصب اجتہاد تک پہنچا۔
امام اعظم پر بے بنیاد اعتراض کا تحقیقی جواب ـــــــــــــــ
بعض حضرات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کو حدیثیں یاد نہیں تھیں، وہ تو فقط قیاس آرائیاں کرتے تھے اور اپنے قیاس کے ذریعے مسائل کا استنباط کرتے تھے۔ بعض نے کہا صرف سات حدیثیں یاد تھیں۔ لیکن اگر اس امر کو حقائق کے تناظر میں پرکھا جائے تو پتہ چلے گا کہ بخاری و مسلم و ترمذی وغیرھم سب امام اعظم رضی اللہ عنہ کے مرہون منت ہیں امام اعظم کو لاکھوں حدیثیں ضبط و اتقان، لوازمات حدیث کے ساتھ یاد تھیں جن سے آپ مسائل کا استنباط فرماتے تھے۔ امام بخاری جیسے محدث آپ کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد ہیں۔
:امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ 'انوار المنان فی توحید القرآن" میں رقمطراز ہیں
أما البخاري فتلمیذ تلميذ تلميذ تلميذ تلميذ تلميذ الإمام الأعظم. لأنه:
(۱) تلمذ على إمام السنة عصام الإسلام في المحنة أحمد بن حنبل.
(۲) وأحمد تلمذ على عالم قريش الإمام المطلبي محمد بن إدريس الشافعي.
(۳) والشافعي تلمذ على الإمام الرباني محمد بن الحسن الشيباني.
(٤) ومحمد تلمذ على قاضي الشرق والغرب الإمام أبي يوسف.
(٥) وأبو يوسف تلمذ على إمام دار الهجرة عالم المدينة مالك.
(٦) ومالك تلمذ على إمام الأئمة، فقيه الأمة أبي حنيفة النعمان رضي الله تعالى عنه وعنهم فالبخاري تلميذ إمامنا في الدرجة السادسة.
(۷) والإمام مسلم تلميذه في الدرجة السابعة. لأنه تلمذ على البخاري، وإن لم يرو عنه في صحيحه.
(۸) والإمام الترمذي تلميذه في الثامنة تلمذ على مسلم.
وبالجملة الأئمة الثلاثة وأصحاب الصحاح الستة كلهم من تلاميذه وتلاميذ تلاميذ تلاميذه بدرجات. رحمة الله تعالى عليهم أجمعين.
ترجمہ: رہے بخاری تو وہ تو امام اعظم کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد کے شاگرد ہیں۔ اس لیے کہ (۱) انہوں نے امام السنۃ ، زمانۂ شدت میں اسلام کی بولتی زبان احمد بن حنبل کی شاگردی اختیار کی ، اور (۲) احمد بن حنبل عالم قریش امام معلمی امام محمد بن ادریس شافعی کے شاگرد ہیں ، اور (۳) شافعی ، امام ربانی محمد بن حسن شیبانی کے شاگرد ہیں ، اور (۴) امام محمد، قاضی شرق و غرب امام ابو یوسف کے شاگرد ہیں ، (۵) اور امام ابو یوسف امام عالم مدینہ طیبہ امام مالک کے شاگرد ہیں، اور (۲) امام مالک امام الائمہ فقیہ الامہ ابو حنیفہ کے شاگرد ہیں۔
تو بخاری تو ہمارے امام کے چھٹے درجہ میں شاگرد ہیں اور امام مسلم ہمارے امام کے ساتویں درجہ میں شاگرد ہیں ؛ اس لیے کہ وہ بخاری کے شاگرد ہیں اگر چہ انہوں نے اپنی صحیح میں ان سے حدیث روایت نہ کی ، اور امام ترمذی امام اعظم کے آٹھویں درجہ میں شاگرد ہیں ، انہوں نے امام مسلم کی شاگردی اختیار کی ، اور مختصر یہ کہ ائمۂ ثلاثہ اور اصحاب صحاح ستہ سب کے سب ہمارے امام کے شاگردوں میں ہیں اور کئی درجوں میں شاگردوں کے شاگردوں کے شاگردوں کے قبیل سے ہیں ۔ رحمة الله عليهم اجمعين [انوار المنان فی توحید القرآن ص ٢٦٣ مشمولہ المعتقد المنتقد]
:اسی میں ہے
قال الإمام ابن حجر المكي الشافعي في شرح المشكوة، وعنه نقل لي المرقاة في ترجمة الإمام الأعظم رضي الله تعالى عنه : تلمذ لــه كبـار مـــن الأئمة المجتهدين ، العلماء الراسخين عبد الله بن المبارك، والليث بن سعد، الإمام مالك بن أنس.
امام ابن حجر مکی شافعی شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں: اور انہی سے۔ " مرقاۃ المفاتیح " میں علامہ ملا قاری نے امام اعظم کے ترجمہ (تعارف) میں نقل کیا رضی اللہ عنہ۔ ائمۂ مجتہدین اور علماء راسخین میں سے بڑے بڑوں نے ان کی شاگردی اختیار کی جیسے عبد اللہ بن مبارک، لیث بن سعد، امام مالک بن انس۔ [انوار المنان فی توحید القرآن ص ٢٦٣-٢٦٤ مشمولہ المعتقد المنتقد]
ان اقتباسات میں واضح طور پر ہے کہ بڑے بڑے محدثین خصوصا امام مالک، امام بخاری اصحاب صحاح ستہ رضوان اللہ علیہم اجمعین واسطہ بلا واسطہ امام اعظم رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں تو کوئی عاقل یہ گمان کر سکتا ہے کہ امام اعظم قرآن و حدیث کو چھوڑ کر محض اپنی رائے سے مسائل بیان فرماتے تھے؟ ہر گز نہیں! بلکہ آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں قیاس فرماتے تھے۔ کیونکہ قیاس مظہر کتاب و سنت ہے اور واضح رہے کہ آپ قیاس نص کی عدم موجودگی میں کرتے نہ کہ نص کی موجودگی میں۔
جیسا کہ میزان الاعتدال میں امام ابو جعفر شیزاماری سے منقول ہے: فعلم ان الامام لا يقيس ابدا مع وجود النص كما يزعمه بعض المتعصبين وانما يقيس عند فقد النص.
ترجمہ: مذکورہ عبارت سے یہ بات واضح ہو گئی کہ نص کی موجودگی میں حضرت امام کبھی بھی قیاس نہیں کرتےتھے، جیسا کہ بعض تعصب پرستوں کا خیال ہے۔ ہاں نص کی عدم موجودگی میں قیاس کرتے تھے۔ [ بحوالہ غرائب البیان ص ٥٩ ]
امام اعظم اور قیاس ـــــــــــــــــــــــــ
امام اعظم رضی اللہ عنہ جب قرآن و حدیث میں صراحۃ مسئلہ نہ پاتے پھر قیاس فرماتے اسی کو امام عارف عبد الوہاب شعرانی کی کتاب "المیزان" کے حوالے سے امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری برکاتی بریلوی رضی اللہ عنہ نے فتاوی رضویہ شریف میں ارقام فرمایا:
امام اجل سیدنا جعفر صادق وامام سفیان ثوری ومقاتل بن حیان وحماد بن سلمہ وغیرھم ائمۂ مجتہدین پیش امام اعظم سیدنا امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وعنہم آمدہ گفتند بمارسیدہ است کہ تو در مسائل قیاس بکثرت میکنی امام با ایشاں مناظرہ کرد و مذہب خود پیش نمود و گفت کہ پیش از ہمہ عمل بقرآن عظیم میکنم باز بحدیث باز باجماع باز باقوال صحابہ وچوں دریں ہمہ نیابم آں گاہ براہ قیاس شتابم ایں مناظرہ درمسجد جامع کوفہ روز جمعہ از آغاز نہار تا وقت زوال جاری بود آخر ہا ہمہ ائمۂ مذکورین برخاستند و بوسہ بر سر و زانوئے امام اعظم دادند وگفتند تو سردار علمائے پیش از یں انچہ نادانستہ بحق تو گفتہ بودیم بما عفو کن امام گفت حق جل وعلا ما و شما ہمہ را مغفرت کند الامام العارف الشعرانی قدس سرہ فی المیزان کان ابومطیع یقول کنت یوما عندالامام ابی حنیفۃ فی جامع الکوفۃ فدخل علیہ سفین الثوری و مقاتل بن حیان وحماد بن سلمۃ وجعفر الصادق وغیرہم من الفقہاء فکلموا الامام ابا حنیفۃ و قالوا قد بلغنا انک تکثر من القیاس فی الدین وانا نخاف علیک منہ فان اول من قاس ابلیس فناظر ھم الامام من بکرۃ نہار الجمعۃ الی الزوال وعرض علیہم مذہبہ وقال انی اقدم العمل بالکتاب ثم بالسنۃ ثم باقضیۃ الصحابۃ مقدما مااتفقوا علیہ علی مااختلفوا فیہ وحینئذ اقیس فقاموا کلھم وقبلوا یدیہ ورکبتہ وقالوا لہ انت سیدالعلماء فاعف عنافیما مضی منا من وقیعتنا فیک بغیر علم فقال غفر اﷲ لناولکم اجمعین انتھی [فتاوی رضویہ شریف قدیم جلد ٩ ص ٦٦-٦٧]
ترجمہ: امام کبیر سیدنا امام جعفر صادق،امام سفیان ثوری، مقاتل بن حیان اور حماد بن سلمہ اور ان کے علاوہ دیگر ائمۂ مجتہدین امام اعظم سیدنا امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی خدمت میں گئے اور امام صاحب سے فرمانے لگے کہ ہمیں یہ اطلاع پہنچی ہے آپ مسائل شرعیہ میں بہت زیادہ قیاس آرائی سے کام لیتے ہیں۔ امام صاحب نے ان سے مناظرہ کیا اور وضاحت سے اپنا مذہب(نظریہ)پیش کیا اور فرمایا: میں تو سب سے پہلے قرآن پر عمل کرتاہوں، اس کے بعد حدیث، پھر اجماع امت، پھر اقوال صحابہ کرام پر،جب ان سب میں کوئی مسئلہ نہ ملے، تو پھر قیاس سے کام لیتا ہوں۔ یہ مناظرہ جامع مسجد کوفہ میں جمعہ کے دن صبح سے لے کر زوال کے وقت تک جاری رہا۔ بالآخر مذکورہ تمام امام اٹھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے حضرت امام اعظم رحمۃاﷲ تعالی علیہ کے سر اور زانوؤں پر بوسہ دیا اور فرمایا کہ آپ علماء کرام کے سردار ہیں اور ہم اس سے پہلے بے خبری میں آپ کے متعلق جو سنی سنائی کہتے رہے وہ ہمیں معاف کردیں۔امام صاحب نے فرمایا: ﷲ تعالٰی بزرگ و برتر مجھے اورآپ سب کو معاف فرمائے۔
:فتاوی رضویہ شریف رسالہ "الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذھبی" میں ہے
امام ابن حجر مکی شافعی کتاب الخیرات الحسان میں فرماتے ہیں: جلیل القدر تابعی، امام المحدثین حضرت سلیمان اعمش رضی اللہ عنہ؛ کہ اجلہ ائمہ تابعین و شاگردانِ حضرت سیدنا انس رضی اﷲ عنہ سے کسی نے کچھ مسائل پوچھے، اس وقت ہمارے امام اعظم سیدنا ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بھی حاضر مجلس تھے، امام اعمش رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے وہ مسائل ہمارے امام سے پوچھے۔ امام نے فورًا جواب دیا۔امام اعمش نے کہا: یہ جواب آپ نے کہاں سے پیدا کیے؟ فرمایا۔ اُن حدیثوں سے جو میں نے خود آپ سے سنی ہیں۔ اور وہ حدیثیں مع سند روایت فرما دیں۔ امام اعمش رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے کہا:
حسبك ماحدثتك بہ فی مائۃ یوم تحدثنی بہ فی ساعۃ واحدۃ ماعلمت انّك تعمل بھٰذہ الاحادیث یا معشر الفقہاء انتم الاطباء ونحن الصیادلۃ وانت ایّھاالرجل اخذت بکلا الطرفین۔
بس کیجئے جو حدیثیں میں نے سو دن میں آپ کو سنائیں آپ گھڑی بھر میں مجھے سنائے دیتے ہیں۔مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ ان حدیثوں میں یوں عمل کر دیتے ہیں۔ اے فقہ والو! تم طبیب ہو اور محدث لوگ عطار ہیں، یعنی دوائیں پاس ہیں مگر ان کا طریق استعمال تم مجتہدین جانتے ہو۔اور اے ابوحنیفہ ! تم نے تو فقہ و حدیث دونوں کنارے لیے۔ [فتاوی رضویہ شریف جلد ٢٧ ص ٧٤]
ان اقتباسات سے امام اعظم رضی اللہ عنہ کی بلندی فکر، حزم و احتیاط، وفور معلومات، ژرف نگاہی، عمیق نظری، وسعت ذہنی، قوت حافظہ، جودت طبع، نکتہ رسی، اجتہادی ملکہ اظہر من الشمس ہے
خلاصۂ کلام ـــــــــــــــــــــ
بعد تتبع و تفحص جب قرآن و حدیث میں کوئی مسئلہ صراحۃ نہ ملتا تو امام اعظم رضی اللہ عنہ اپنے علم و دانائی سے قرآن و حدیث میں قیاس کر کے مسائل کا استنباط و استخراج فرماتے تاکہ امت مسلمہ کو صحیح راہ مل سکے۔
قیاس کن ز گلستان او بہارش را ـــع
امت مسلمہ پر امام اعظم کا احسان عظیم ہے کہ انھوں نے فقہ کی تدوین فرما کر سب کے لیے ایک راہ ہموار فرمائی اور اللہ جل جلالہ نے ان کو دنیا میں یہ انعام عطا فرمایا کہ آج امت محمدیہ ان کی تقلید کر رہی ہے۔ اللہ جل جلالہ ہمیں صحیح طریقے سے ان کی تقلید کی توفیق مرحمت فرمائے۔ رَبَّنَا ٱفۡتَحۡ بَیۡنَنَا وَبَیۡنَ قَوۡمِنَا بِٱلۡحَقِّ وَأَنتَ خَیۡرُ ٱلۡفَـٰتِحِینَ آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم و آلہ و صحبہ اجمعین
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

