نماز میں دو سجدوں کا ثبوت کہاں سے ثابت ہے؟



نماز میں دو سجدوں کا ثبوت کہاں سے ثابت ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

ہر رکعت میں باجماعِ اُمّت دو سجدے فرض ہیں، اس میں کسی عالم کا اختلاف نہیں اس کا مُنکر اجماعِ اُمّت کا منکر ہے۔ لہذا اگر کسی نے ایک رکعت میں صرف ایک سجدہ کیا تو دوبارہ نماز پڑھنا فرض ہے۔

بحرالرائق میں: کنز الدقائق کے قول ”فرضھا التحریمة والقیام والقراءۃ والرکوع والسجود“ یعنی نماز کے فرائض تکبیر تحریمہ، قیام، قرأت، رکوع اور سجود ہیں۔ (کنز الدقائق، باب صفة الصلاة، صفحة:30) کی شرح میں فرمایا: (لقوله تعالٰی) ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وللاجماع علی فریضتھما ورکنیتھما والمراد من السجود السجدتان فاصله ثابت بالکتاب والسنة و الاجماع“ يعنى اس کی دلیل اﷲ تعالٰی کا ارشاد گرامی ہے: ارکعوا واسجدوا (رکوع کرو اور سجدہ کرو۔) نیز ان دونوں کے فرض اور رکن ہونے پر اجماع ہے اور سجود سے دونوں سجدے مراد ہیں اور سجدہ کی اصل کتاب و سنت اور اجماع سے ثابت ہے اور سجدہ کا ہر رکعت میں دو دفعہ ہونا سنّت اور اجماع سے ثابت ہے۔ (البحر الرائق، باب صفة الصلاة، الجزء الأول، صفحة:293)
مراقی الفلاح میں تھا:” یفترض السجود“ يعنى سجدہ فرض کیا گیا ہے۔ (مراقی الفلاح، مع حاشية الطحطاوى،باب شروط الصلاة، صفحة:125
علامہ طحطاوی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ نے حاشیہ میں فرمایا:” المراد منه الجنس ای السجدتان“ يعنى مراد اس سے جنسِ سجدہ یعنی دو سجدے ہیں۔ (.25)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ فرماتے ہیں:”باجماعِ امت دونوں سجدے فرض ہیں، اصلًا اس میں کسی عالم کا خلاف نہیں کہ قوی و راجح بتایا جائے، اس کا منکر اجماعِ امت کا منکر ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:6، صفحہ:169، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)

والله تعالیٰ اعلم بالصواب

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

تصرفاتِ اولیاء کا ثبوت کیا ہے؟   اس مسئلہ کو پڑھنے کے لیے کلک کریں 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.