اور شادی میں ڈی - جے بجانا کیسا ہے؟ اگر اسی میں نعت بجے تو پھر کیا حکم صادر ہوگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِاَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ڈی جے (.D.J) سننے کا ایک جدید آلہ ہے، اس کے بجانے کے بارے میں ضابطہ یہ ہے کہ جو چیز ڈی جے میں بجائی جائے گی تو جائز اور ناجائز کا حُکم اس میں بجائے جانے کے مطابق ہوگا، مثلاً اگر ڈی جے میں نعت پاک یا تقاریر چلائی جائیں تو نعت یا تقاریر بجانا جائز اور اگر اس میں مُروَّجہ قوَّالی یا گانے بجائے جائیں تو ڈی جے بجانا ناجائز ہوں گے۔ لہذا صورتِ مسؤولہ میں شادی یا دیگر تقاریب میں جو چیز ڈی جے میں بجائی جائے گی اسی کے مطابق حُکم عائد ہوگا۔ اگر اس میں نعت شہہءدیںﷺ سنی جائے گی تو ڈی جے بجانا جائز ومستحسن ہوگا اور اگر غیر شَرَعی چیزیں گانے باجے بجائے جائیں گے تو ڈی جے بجانا ناجائز ہوگا۔
اشیاء میں اصل جائز ومُباح ہونا ہے یعنی جب تک دلائل شرعیہ سے کسی شے کی حرمت و ممانعت ثابت نہ ہو،حلال وجائز رہتی ہے،استعمال کرنے والے پر شرعاً کوئی گرفت نہیں کہ وہ معاف ہے۔
علامہ ابن عابدین شامی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ فرماتے ہیں:” (قولہ: الأصل الإباحة أو التوقف) المختار الأول عند الجمهور من الحنفية والشافعية یعنی اشیاء میں اصل اباحت ہے یا توقف، حنفیہ اور شافعیہ میں سے جمہور علماء کا مختار مذہب یہ ہےکہ اشیاء میں اصل اباحت ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الاشربة، جلد:6، صفحہ: 460، دار الفکر، بیروت)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
كتبه: محمد اُویس العطاری المصباحی
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

