Protection (Condom)کانڈم کا استعمال کرنا کیسا ہے؟ تفصیل کے ساتھ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
کانڈم کا استعمال عزل کی طرح ہے اور عزل کے معنی ہیں: علاحدگی اور اصطلاح میں عزل کے معنی ہیں: انزال کے وقت عورت سے علاحدہ ہوجانا اور باہر منی نکالنا، تاکہ حمل قائم نہ ہو۔ لونڈی میں تو بہرحال جائز ہے اور اپنی آزاد منکوحہ عورت میں بیوی کی اجازت سے جائز ہے بلا اجازت مکروہ۔ لہذا آزاد عورت کی رضامندی سےکسی جائز مَقصد کے پیشِ نظر وقتی طور پر ضَبطِ تولید کے لیے کانڈم کا استعمال کرنا شرعاً جائز ہے۔ لیکن ہمیشہ کے لیے کسی عمل سے قوت تولید کو ختم کر دینا کسی طرح جائز نہیں۔ جبکہ یہ عقیدہ ہو کہ ہمارے اس فعل کو خلق میں کوئی دَخَل نہیں۔ یہ قُدرَت کے اختیار کی بات ہے۔
حضور ﷺ نے عَزل سے منع نہیں فرمایا، چنانچہ حدیث شریف میں ہے:”كنا نعزل والقران ينزل. متفق عليه.وزاد مسلم: فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فلم ينهنا“ یعنی روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ ہم عزل کرتے تھے اور قرآن اتررہا تھا۔(مسلم،بخاری) مسلم نے یہ زیادہ کیا کہ یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچی تو ہم کو منع نہ فرمایا۔ (مشکوۃ المصابیح، حدیث:3184)
اس حدیث پاک کے تحت حکیم الأُمَّت مُفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْهِ فرماتے ہیں:”عزل کے معنی ہیں علاحدگی اصطلاح میں عزل کے معنی ہیں انزال کے وقت عورت سے علاحدہ ہوجانا اور باہر منی نکالنا، تاکہ حمل قائم نہ ہو لونڈی میں تو بہرحال جائز ہے اور اپنی آزاد منکوحہ عورت میں بیوی کی اجازت سے جائز ہے بلا اجازت مکروہ یہ ہی عام علماء و عام صحابہ کا مذہب ہے۔“ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:5 , حدیث نمبر:3184)
فقیہ ملت مفتی محمد جلال الدین احمد امجدی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْه فرماتے ہیں:”کسی جائز مَقصد کے پیشِ نظر وقتی طور پر ضَبطِ تولید کے لیے کوئی دوا یا رَبَڑ کی تھیلی استعمال کرنا جائز ہے۔ لیکن کسی عَمَل سے ہمیشہ کے لیے قوتِ تولید کو ختم کر دینا کسی طرح جائز نہیں۔“ (فتاویٰ فیض الرسول، کتاب الحظر والإباحة، جلد:2، صفحہ:498
بَحرُ العُلُوم علامہ مُفتی محمد عَبد المَنَّان اَعظَمی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ رقمطراز ہیں:” نرودھ کا استعمال ہمارے نزدیک عزل کے معنیٰ میں ہے کہ دونوں میں یہ بات مُشتَرَک ہے کہ مادہ تولید کا اخراج رحم سے باہر ہوتا ہے۔ عُلَمَائے اَحناف رضوان اللہ تعالیٰ علیهم أجمعين نے بیوی کی اجازت سے اس کو جائز فرمایا ہے۔
شامی میں ہے:”وجاز عزله عن أمته بغير اذنها وعن عرسه به“ بعض حدیثوں سے اس کی کراہت کا اشارہ ملتا ہے، اس سے مراد اس خیال کی نفی ہے آج کل پڑھے لکھے لوگوں کا نظریہ ہے کہ اس طرح ہم شرح پیدائش پر قابو پائیں گے اور بچہ پیدا کرنا اور نہ پیدا کرنا انسان کے بس کی بات ہے اگر اس خیال کے تحت کوئی عزل کرتا ہے تو نہ صرف یہ کہ یہ فعل ممنوع بلکہ سخت گُمراہی ہے اور اگر یہ عقیدہ ہو کہ ہمارے اس فعل کو خلق میں کوئی دَخَل نہیں۔ یہ قُدرَت کے اختیار کی بات ہے تو اس کا حُکم اوپر مَذکُور ہوا۔“ (فتاوى بحر العلوم، کتاب النکاح، جلد:2، صفحة:605)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

