امام بُخاری رحمہ اللہ کا [فيه نظر] کہنا۔
از قلم: محمد ذیشان برکاتی رضوی
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ (م 256ھ) جب کسی راوی کے بارے میں (فیہ نظر) کہتے ہیں تو اس سے اُن کی مراد کیا ہوتی ہے؟ کیوں کہ امام بُخاری رحمہ اللہ کی یہ خاص اصطلاح ہے۔ بعض لوگوں نے اس سے جرح شدید مراد لیا ہے جب کہ بعض نے خفیف۔
اس موضوع پر شیخ عبد القادر المحمدی ایک جامع مقالہ موجود ہے جس کا نام (من قال فيه البخاری فيه نظر) ہے۔ جو 31 صفحات پر مشتمل ہے جس میں اُنہونے اس واضح کیا ہے کہ اس سے مراد جرح شدید ہوتی ہے۔ اس مقالہ میں انہوں نے 90 رواۃ کا موازنہ کیا ہے۔ اسی مقالہ سے یہ تحریر ماخوذ ہے۔
حافظ شمش الدین الذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : وكذا عادته إذا قال: (فيه نظر)، بمعنى أنه منهم، أوليس بثقة. فهو عنده أسوأ حالاً من (الضعيف)
اور یہی امام بخاری کی عادت ہے کہ جب وہ کسی راوی کے بارے میں [فيه نظر] کہتے ہیں تو اس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ وہ راوی متہم ہے یا قابلِ اعتماد نہیں، اور بخاری کے نزدیک اس کی حالت عام ضعیف سے بھی کہیں زیادہ خراب ہوتی ہے۔
[الموقظۃ فی علم مصطلح الحدیث ص 83 ت - شیخ عبد الفتاح ابو غدہ]
اور امام ذہبی (الميزان الاعتدال) میں کہتے ہیں: قال البخاري فيه نظر ولا يقول هذا إلا فيمن يتهمه غالباً
،بخاری رحمہ اللہ نے (فلاں کے بارے میں) [فيه نظر] کہا ہے
اور عام طور پر وہ یہ لفظ صرف اسی شخص کے بارے میں بولتے ہیں جس پر ان کی طرف سے تہمت عائد کی گئی ہو۔
[میزان الاعتدال 2/34]
حافظ ابن کثیر کہتے ہیں : من ذلك أن البخاري إذا قال في الرجل: سكتوا عنه أو فيه نظر فإنه يكون في أدنى المنازل وأردئها عنده، ولكنه لطيف العبارة في التجريح.
اس میں سے امام بخاری کا یہ قول ہے جب وہ کسی آدمی (راوی) کے بارے میں کہتے ہیں (سکتوا عنه) یا (فيه نظر)، تو اس راوی کی حیثیت بخاری کے نزدیک سب سے ادنیٰ ترین اور بہت شدید (جرح) میں شمار ہوتی ہے۔ البتہ وہ جرح میں الفاظ بہت (نرم) استعمال کرتے ہیں۔
[اختصار علوم الحديث ص 105]
حافظ عراقی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: فلان فيه نظر وفلان سكتوا عنه يقولهما البخاري فيمن تركوا حديثه.
فلاں کے بارے میں (فیه نظر) اور فلاں کے بارے میں (سکتوا عنه) یہ دونوں تعبیریں (امام) بخاری اُن راویوں کے بارے میں استعمال کرتے ہیں جن کی حدیث ترک کر دی گئی ہو۔ [شرح الالفيۃ 2/11]
اور حافظ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کہتے ہیں:تنبيهات الأول البخاري يطلق فيه نظر وسكتوا عنه فيمن تركوا حديثه ويطلق منكر الحديث على من لا تحل الرواية.
(تنبیہ اول) یہ ہے کہ امام بخاری فيه نظر اور سكتوا عنه اُن راویوں کے بارے میں کہتے ہیں جن کی حدیث کو چھوڑ دیا گیا ہو، اور وہ لفظ منکر الحديث اُس شخص کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کی روایت بیان کرنا جائز نہ ہو۔ [تدريب الراوی 1/349]
اور امام ذہبی نے (میزان الاعتدال) کے مقدمے میں اس لفظ (فیہ نظر) کو متروک راوی کے ساتھ ہی شمار کیا ہے، چنانچہ انہوں نے کہا: ثم متروك، وليس بثقة، وسكتوا عنه، وذاهب الحديث، وفيه نظر، وهاك، وساقط.
پھر (جرح کی اقسام میں) متروک، پھر ليس بثقہ (نہیں ہے ثقہ)، پھر (سکتوا عنه)، پھر (ذاہب الحدیث)، پھر (فیه نظر)، پھر (ہالک)، اور (ساقط) [میزان الاعتدال 1/4]
مگر انہوں نے اسے خاص طور پر (امام) بخاری کی طرف منسوب نہیں کیا، بلکہ حکم کو عام رکھا۔
اور حافظ عراقی نے مراتبِ جرح میں امام ذہبی کی پیروی کی ہے، بلکہ ان میں مزید بعض الفاظ کا اضافہ بھی کیا ہے۔ لکھتے ہیں: فلان كذاب، أو وضاع، أو دجال ... (والمرتبة الثانية): فلان متهم بالكذب، أو الوضع، وساقط ومتروك، وفيه نظر وسكتوا عنه وهاتان العبارتان يقولهما البخاري فيمن تركوا حديثه. (والمرتبة الثالثة): ضعيف جداً، أو رد حديثه، أو واهٍ بمرة. (پہلا درجہ) کذاب ہے، یا وضّاع ہے، یا دجّال…
(دوسرا درجہ) فلاں پر کذب یا وضع کا الزام ہے، اور ساقط، متروک، فیہ نظر، اور سکتوا عنه اور یہ دونوں عبارتیں (یعنی فیہ نظر اور سکتوا عنه) امام بخاری اُن راویوں کے بارے میں کہتے ہیں جن کی حدیث ترک کر دی گئی ہو۔ (تیسرا درجہ) ضعیف جداً، یا اس کی حدیث مردود، یا واہِ (بہت کمزور)۔[شرح الالفيۃ 2/11]
ان تصریحات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ (امام) بُخاری رحمہ اللہ کا (فیہ نظر) کہنا شدید جرح شمار ہوتی ہے۔
اور امام عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ نے (الرفع والتکمیل فی الجرح والتعدیل) میں کہا ہے کہ امام بخاری کا کسی راوی کے بارے میں یہ کہنا (فیه نظر) اس بات کی دلیل ہے کہ وہ راوی امام بخاری کے نزدیک متہم ہوتا ہے، اگرچہ دوسرے اہلِ علم کے نزدیک اس کا وہی حکم نہ ہو۔
لکھتے ہیں: قول البخاري في حق أحد من الرواة : فيه نظر. يدل على أنه متهم عنده، ولا كذلك عند غيره.
امام بخاری کا کسی راوی کے بارے میں یہ کہنا (فیه نظر) اس بات کی دلیل ہے کہ وہ راوی ان کے نزدیک متہم ہوتا ہے، اگرچہ دوسرے اہلِ علم کے نزدیک ایسا نہ ہو۔ [الرفع والتکامل فی الجرح والتعدیل ص 388 ت - شیخ عبد الفتاح ابو غدہ]
بعض راویوں کو ذکر کیا جا رہا ہے جن کے بارے میں امام بخاری نے اپنی کتاب (التاریخ الکیر) میں [فیہ نظر] کہا ہے، اس کے بعد متقدمین اور متأخرین ائمۂ جرح و تعدیل کے بعض اقوال ذکر کیے گئے ہیں تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ امام بُخاری رحمہ اللہ جب یہ لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس سے اُن کی مراد کیا ہوتی ہے، اور دیگر ائمہ نے اس راوی پر جرح شدید کی ہے یا خفیف۔ ابراہیم بن علی الرافعی: امام بخاری نے کہا: [فیہ نظر]۔ [التاريخ الكبير 1/310]
اور امام ابنِ معین نے کہا: ليس به باس (اس میں کوئی حرج نہیں)۔ اور امام ابوحاتم نے کہا: شیخ ہے۔ اور ابنِ عدی نے کہا: درمیانی درجے کا (راوی) ہے۔ اور ابنِ حبان نے کہا: وہ غلطیاں کرتا تھا، یہاں تک کہ جب تنہا روایت کرے تو اس کی روایت قابلِ احتجاج ہونے کی حد سے نکل جاتی۔ اور دارقطنی اور ابنِ حجر نے اسے ضعیف قرار دیا۔ [المجروحين 1/103،والكامل 1/258، وتہذيب الكمال 2/155، والتقريب 1/92]
جميع بن عامر (یا عمیر) التیمی: امام بخاری نے کہا: [فیہ نظر]۔
اور ابنِ حبان نے کہا: یہ رافضی تھا اور حدیث گھڑتا تھا۔
اور عجلی نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں، اس کی حدیث لکھی جا سکتی ہے، مگر قوی نہیں۔ اور ابنِ نمیر نے کہا: لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹا تھا۔
اور ابو حاتم نے کہا: محلہ الصدق اور صالح الحدیث ہے۔
اور ابنِ عدی نے کہا: اکثر وہ ایسی احادیث روایت کرتا ہے جن میں اس کی متابعت کوئی اور نہیں کرتا۔ اور ابنِ حجر نے اسے ضعیف قرار دیا۔
حبیب بن سالم انصاری، مولیٰ نعمان بن بشیر: امام بخاری نے کہا: [فیہ نظر]۔
اور ابنِ عدی نے کہا: اس کی احادیث کے متون میں کوئی منکر حدیث نہیں، البتہ اس سے مروی اسانید میں اضطراب پایا جاتا ہے۔ اور ابو حاتم اور ابو داود نے اس کی توثیق کی۔ اور ابنِ حبان نے اسے الثقات میں ذکر کیا۔ اور ابنِ حجر نے اس کے بارے میں کہا: اس میں کوئی حرج نہیں۔
عباد بن عبد الصمد: امام بخاری نے کہا: [فیہ نظر]۔
اور ابو حاتم نے کہا: یہ حدیث میں نہایت ضعیف ہے، منکر الحدیث ہے، میں اس کی کوئی صحیح حدیث نہیں جانتا۔ اور ابنِ عدی نے کہا: یہ ضعیف اور منکر الحدیث ہے۔
اور عقیلی نے کہا: اس کی احادیث منکرات ہیں، ان میں سے اکثر صرف اسی کے ذریعے معروف ہیں۔ اور ابنِ حبان نے کہا: یہ منکر الحدیث (جدا) ہے، لہٰذا ثقہ رواۃ کے موافق ہونے کی صورت میں بھی اس سے احتجاج جائز نہیں، چہ جائیکہ جب یہ عجیب و غریب روایتیں منفرد (اکیلا) بیان کرے۔
اور طرابلسی نے کہا: یہ واہی (کمزور) ہے۔
عبد اللہ بن الحسین بن عطاء بن یسار: امام بخاری نے کہا: [فیہ نظر] ہے۔
اور ابو زرعہ اور ابن حجر نے اسے ضعیف قرار دیا۔
اور ابن حبان نے کہا: (اس کی) جو روایت ثقہ رواۃ کے موافق نہ ہو اسے چھوڑ دیا جائے گا، اور اعتبار صرف ان روایتوں کا ہوگا جو مضبوط ثقہ رواۃ کے مطابق ہوں۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
غیر مقلدین کی فہمِ حدیث کا منصفانہ جائزہ اسے مکمل پڑھنے کے لیے کلک کریں

