عصرِ حاضر میں آئینِ ہند کی پامالیاں

 
عصر حاضر میں آئین ہند کی پامالیاں| محمد کونین صدیقی کٹیہاری

عصرِ حاضر میں آئینِ ہند کی پامالیاں

 از قلم: محمد کونین صدیقی کٹیہاری 
ابنِ حاجی عبد المنان صاحب

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

انگریزوں کے مقبوضہ اور محکومہ ہندوستان سے حریت و آزادی خون کی ندیاں بہا کر اور تاریخ ساز قربانی کے بعد حاصل ہوئی۔ مختلف اقوام و مذاہب اور مسالک کی مشترکہ جدوجہد اور سعیِ پیہم نے ہمارے وطنِ عزیز کو اسارت کی زنجیر سے نجات دلائی اور حریت کی فضا میں سانس لینے کا حق دیا۔ اس آزادی کے بعد ایک ایسے منظم آئین اور مربوط دستور کی ضرورت پیش آئی جس میں ہر مکتبِ فکر کے لیے یکساں حقوق محفوظ ہوں۔ چنانچہ ایک عظیم قومی مہم اور ملت گیر تحریک کے ذریعے اس دستور کی تشکیل عمل میں آئی۔۹ ستمبر ۱۹۴۶ء سے لے کر ۲۶ نومبر ۱۹۴۹ء تک تقریباً دو سال، گیارہ ماہ اور اٹھارہ دن کی مسلسل محنت اور جاں توڑ کوشش کے بعد یہ اصول و ضوابط “مجلسِ مسودہ سازی” کے تحت مرتب و مدون ہوئے، اور ۲۶ جنوری ۱۹۵۰ء کو نافذ کیے گئے۔ اس تاریخی عمل کے  اہم معماروں میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اور مولانا ابو الکلام آزاد جیسے اکابر شامل تھے۔

آئین ساز اسمبلی (Constituent Assembly) کے ابتدائی ارکان کی تعداد ٣٨٩ تھی، جو تقسیم کے بعد کم ہو کر ٢٩٩ رہ گئی۔ ١٦٥ دنوں میں ١١ اجلاس اور نشستیں منعقد ہوئیں۔ اس اسمبلی کے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد تھے، جبکہ مسودہ سازی کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر تھے۔آئینِ ہند کی تمہیدی سطور اس طرح تحریر ہوئیں:”ہم، بھارت کے عوام، کامل سنجیدگی،نہایت متانت اور وقار کے ساتھ یہ پختہ عہد کرتے ہیں کہ بھارت کو ایک مقتدر، سماج وادی، غیر مذہبی اور عوامی جمہوریہ کی صورت دیں گے، اور اس کے ہر شہری کے لیے درج ذیل حقوق فراہم کریں گے:“(١)عدالت، معاشرتی، معاشی اور سیاسی انصاف.(٢)فکر، اظہار، عقیدہ، ایمان اور عبادت کی آزادی.(٣)درجہ اور مواقع میں مساوات اور سب کے بیچ بھائی چارے کو فروغ دینا، جو فرد کی عظمت اور ملک کی اتحاد و سالمیت کی ضمانت دے۔ہم اپنی آئین ساز اسمبلی میں، آج مؤرخہ ۲۶ نومبر ۱۹۴۹ء کو، اس آئین کو اختیار کرتے ہیں، اسے وضع کرتے ہیں، اور اپنے اوپر نافذ کرتے ہیں۔

یہ تمہید اور آغازیہ اس بات کی گواہ ہے کہ دستورِ ہند نے تمام باشندگانِ وطن کے حقوق کا مکمل لحاظ رکھا تھا۔ مگر صد حیف اور ہزارہا افسوس کہ عصرِ حاضر میں ان اصولوں کی عملی صورت ماند پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ آئین کی روح پس منظر میں چلی گئی ہے، اور اس کے نفاذ کی ذمہ داری گویا صرف عدالتوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ظالم اور جاہل حکمراں مسندِ اقتدار پر اپنے مقعد کو ٹکائے ہوئے ہیں، جنہیں اپنے وطن کی ترقی اور عوام کی فلاح کے لیے کوشاں ہونا چاہیے تھا، وہ مذہبی اقتدار کا پرچم بلند کیے باہمی اتحاد کو اختلاف اور تنازع میں بدل رہے ہیں۔ کیا یہ کسی بھی باضمیر حاکم اور اصول پسند فرمانروا کے لیے زیب دیتا ہے؟ اگر ہمارے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے اندر شرم و حیا نام کی کوئی چیز ہوتی تو وہ ضرور اس بارے میں تدبر و تفکر اور تأمل و توقف سے کام لیتے؛ لیکن خیر، یہ وہی شخص ہیں جن کا نام گجرات کے ٢٠٠٤ء کے تنازعات اور فسادات کے حوالے سے لیا جاتا ہے، جس کا ذکر عزیز برنی نے اپنی کتاب “داستانِ ہند” میں کیا ہے۔

ہمارے صدرِ جمہوریہ، جو ملک کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہیں، روز بروز لوازماتِ حیات اور اسبابِ ضرورت پر عائد محصولات میں پیہم اضافہ کر رہے ہیں ،نہ سڑکوں کی حالت بہتر ہے، نہ روزگار کے مواقع میسر ہیں۔ تو آخر یہ قومی وسائل کہاں صرف ہو رہے ہیں؟ جہاں سڑک بنتی ہے وہاں چند ہی دنوں میں ٹوٹ پھوٹ کا منظر سامنے آ جاتا ہے؛ پل ابھی افتتاح بھی نہیں ہوتا کہ خستہ حالی نمایاں ہو جاتی ہے۔ اگر یہ سب کچھ حکومتی مشاورت سے ہو رہا ہے تو پھر اس پر سنجیدہ غور کیوں نہیں کیا جاتا؟یہیں بس نہیں، قوانین اور اصول گویا صرف مسلمانوں کے لیے سخت رہ گئے ہیں۔ اگر کہیں معمولی سا واقعہ بھی پیش آ جائے تو میڈیا اسے نمایاں عنوان بنا دیتا ہے۔ کیا یہی آئینِ ہند کی پاسداری ہے؟ کیا اس کا کوئی حامی و ناصر نہیں؟ آخر کب تک خاموش رہا جائے؟عبادت گاہوں میں مشکلات، مدارس پر قدغنیں، گھروں کا انہدام، اور شہریت کے ثبوت کے نام پر ایسی قانونی پیچیدگیاں جن سے عام آدمی ذہنی اذیت میں مبتلا ہو ،یہ سب حالات ایک باشعور شہری کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ وطنی ہونے کا ثبوت مانگا جاتا ہے اور ایسے عناصر کے سامنے سر جھکانے کا دباؤ ہوتا ہے جن کی فکر خود اس وطن کی سالمیت سے ہم آہنگ نہیں۔ملک کے مختلف حصوں میں بے گناہوں کی گرفتاری، حق گو افراد پر سختی، اور انصاف کے حصول میں دشواریاں — یہ سب سوال پیدا کرتے ہیں کہ آیا آئین کی اصل روح باقی ہے یا محض الفاظ کی حد تک رہ گئی ہے۔ مزید تفصیلات ہے لیکن ایک شعر ہے کہ ع

ہے اتنا درد مرے دل میں اے حزیں چشؔتی
کسے چھپاؤں میں اور کس کو میں بیان کروں

یومِ جمہوریہ کے پُرمسرت موقع پر، جب نئی دہلی کے “کرتویہ پتھ” (سابقہ راج پتھ) پر صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو پرچم کشائی کرتی ہیں، تو دل یہ چاہتا ہے کہ یہ منظر صرف رسمی نہ رہے بلکہ آئین کی حقیقی روح کے احیا کا عہد بھی بنے۔لیکن ع

اے صنم وصل کی تدبیروں سے کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے

:اختتام پر علامہ اقبال کے یہ اشعار پیش خدمت ہے جوحب الوطنی کے جذبے کو تازگی بخشتے ہیں

سارے جہاں سے اچھّا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی، یہ گلستاں ہمارا

یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے
اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا

کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دورِ زماں ہمارا

یہ مضمون اسی امید و آس کے ساتھ پیش ہے کہ آئینِ ہند کی اصل روح  انصاف، مساوات، آزادی اور اخوت دوبارہ عملی زندگی میں پوری قوت کے ساتھ جلوہ گر ہو۔

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

ہندوستان کی دستور سازی میں مسلمانوں کا کردار  یہاں کلک کریں 



Post a Comment

4 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.
  1. Aur bhi mehnat ki zarurat hai aur mehnat kijiye inshallah ek din achha mazmun nigar zarur baniyega lekin ek baat dimag me rakha kijiye ki shaye karne se pahle tashreeh karwa liya kijye hazrat se ek hazrat h bahut azeem shakhsiyat hai unse tasheeh karwa liya kijye

    ReplyDelete
    Replies
    1. Ji insha allah taala zarur ayinda iska khayal rakhunga..

      Delete