ہندوستان کی دستور سازی میں مسلمانوں کا کردار
رشحات خامہ: اظہار احمد نوریؔ مصباحیمدیر: آئینۂ زعیم العلما میگزین جامعہ اشرفیہ مبارک پور
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
یومِ جمہوریہ کسی بھی آزاد ملک کی تاریخ کا وہ یادگار دن ہوتا ہے جو اس کی سیاسی خود مختاری، آئینی بالادستی اور عوامی اقتدارِ اعلیٰ کا عملی اعلان ہوتا ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان میں یہ دن یومِ جمہوریہ ہر سال 26 جنوری کو پورے جوش، وقار اور قومی جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔جو اس تاریخی لمحے کی یاد دہانی ہے جب 1950ء میں ملک کا آئین نافذ ہوا اور ہندوستان ایک باقاعدہ جمہوری (Republic) بن کر ابھرا۔ اور ہمارا ملک ایک جمہوری ملک قرار پایا۔ جس میں تمام مذاہب کے ماننے والوں اور مختلف قوموں کے لوگوں کو مذہبی آزادی کے ساتھ اس ملک میں رہنے اور جینے کا حق ملا۔
:تاریخی پس منظر
15 اگست 1947 کو آزادی حاصل کرنے کے بعد ہندوستان میں ایک آئین ساز اسمبلی کا قیام عمل میں آیا، جس کا مقصد ہندوستان کے لیے ایک جامع دستور مرتب کرنا تھا ،جس میں اس ملک کے تمام باشندوں کے حقوق کا تحفظ بھی ہو اور ان کی خوش حال اور پرامن زندگی کی ضمانت بھی،اس مقصد کے لیے دستورساز اسمبلی نے سات افراد پرمشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ، جو ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی قیادت میں سخت محنت اور انتھک کوششوں کے بعد اس کمیٹی نے دو سال گیارہ مہینے اٹھارہ دن یعنی تین سال کی مسلسل محنت کے بعد ملک کے آئین کا مسودہ تیار کیا ،جسے ملک کی پارلیمنٹ نے منظور کرکے 26 جنوری 1950 کو نافذ کردیا،اس آئین کی رو سے *ہمارا ملک جمہوریہ ہندکہلایا* ۔( آزادی سے جمہوریت تک:۱۰۹)
:آئین کی اہمیت
ہندوستانی آئین دنیا کا سب سے طویل تحریری آئین ہے، جس نے تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی دی ہے. یہ آئین ملک میں عدل، آزادی، مساوات اور بھائی چارے کے اصولوں پر مبنی ایک جمہوری نظام کی بنیاد ہے.
:دستور ہند کی تشکیل میں علما کی بصیرت
دستورِ ہند کی تشکیل محض ایک قانونی عمل نہیں تھا، بلکہ یہ مختلف طبقات، مذاہب اور افکار کی مشترکہ فکری جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ اس عظیم عمل میں جن حضرات نے اپنی محنت، بصیرت اور دور اندیشی کا مظاہرہ کیا، ان میں مسلمان اور بالخصوص علماءِ کرام بھی نمایاں طور پر شامل تھے۔ جس طرح ملک کو انگریزوں کی غلامی سے نجات دلانے میں مسلمانوں اور علما کا کردار تاریخ کا روشن باب ہے، اسی طرح آزادی کے بعد ایک ایسے ہندوستان کی تعمیر میں بھی ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں جو امن، محبت، رواداری اور جمہوری اقدار پر قائم ہو۔
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ اگر دستور سازی کے نازک مرحلے پر علماءِ کرام نے بالغ نظری، حکمت اور وسعتِ فکر سے کام نہ لیا ہوتا، اور ملک کو جمہوری خطوط پر استوار کرنے پر زور نہ دیا ہوتا، تو ہندوستان داخلی انتشار، مذہبی تنگ نظری اور فرقہ وارانہ تعصب کی آگ میں جل سکتا تھا۔ ایسی صورت میں نہ صرف مسلمان بلکہ دیگر تمام برادرانِ وطن بھی اپنے بنیادی حقوق، مذہبی آزادی اور انسانی وقار سے محروم ہو کر ایک مجبور و بے بس زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے۔ مگر یہ انہی مخلص رہنماؤں کی قربانیوں اور ملت و وطن کے تئیں ان کی بے لوث فکر مندی کا ثمر ہے کہ *آج ہندوستان ایک جمہوری ملک کے طور پر پہچانا جاتا ہے،* جہاں ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اپنے خیالات کے اظہار اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔
دستورِ ہند نے ہر شہری کو یہ حق دیا ہے کہ وہ ظلم، جبر، ناانصافی اور آئینی اصولوں کے خلاف ہونے والے فیصلوں پر احتجاج کرے، اور ملک کی تعمیر و ترقی، سالمیت، امن و محبت اور تہذیب و ثقافت کے تحفظ کے لیے مثبت جدوجہد میں حصہ لے۔ یہ تمام حقوق اسی جمہوری ڈھانچے کا حصہ ہیں، جس کی بنیاد رکھنے میں مسلمانوں اور علما کی فکری کاوشیں شامل رہی ہیں۔
تاہم یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس طرح سے تحریکِ آزادی کے مجاہدین میں مسلمانوں کے ناموں کو نکال دیا گیا یا اور گنے چنے نام رہ گیے اور کتابوں، نصابوں، تعلیمی اداروں، جلسوں، اجتماعوں اور قومی تقریبات سے مسلمانوں کے تذکروں کو رفتہ رفتہ حذف کیا گیا، اسی طرح دستور سازی میں مسلمانوں کی علمی، فکری اور عملی خدمات کو بھی تاریخ کے صفحات سے الگ کر دیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آج خود مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اس حقیقت سے ناواقف ہے کہ ان کے اسلاف نے ملک کے آئین کی تشکیل میں بھی فعال اور مؤثر کردار ادا کیا تھا۔
یہ تاریخی ناانصافی نہ صرف مسلمانوں کے ساتھ ہے بلکہ خود ہندوستان کی مشترکہ تاریخ کے ساتھ بھی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دستورِ ہند کی تشکیل میں مسلمانوں اور علما کرام کی خدمات کو دیانت داری کے ساتھ اجاگر کیا جائے، تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ یہ آئین صرف کسی ایک طبقے کی کوشش کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ مختلف مذاہب، قوموں اور افکار کی مشترکہ قربانیوں اور دانش مندی کا ثمر ہے۔ یہی شعور قومی یکجہتی، باہمی احترام اور حقیقی جمہوری روح کو زندہ رکھنے کا ضامن بن سکتا ہے۔
:دستور ساز اسمبلی میں مسلمانوں کی نمائندگی
دستور ساز اسمبلی (Constituent Assembly) میں متعدد ممتاز مسلم شخصیات شامل تھیں جنہوں نے مختلف کمیٹیوں میں کام کرتے ہوئے اپنی فکری بصیرت اور قانونی مہارت کا لوہا منوایا۔ جن کو رمیض احمد تقی نے اپنے مضمون غیر معمولی تحقیق سے جمع کیا اور تقریبا ۳۵ مسلم ممبران کے نام شمار کروائیں ،ان میں مولانا ابوالکلام آزاد، ڈاکٹر سیف الدین کچلو، بیگم اعزاز رسول، محمد اسماعیل، حسرت موہانی اور دیگر اکابر شامل تھے۔ ان حضرات نے مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق، بنیادی حقوق اور وفاقی نظام جیسے اہم موضوعات پر مدلل گفتگو کی اور قابلِ قدر تجاویز پیش کیں۔
:سیکولرزم اور مذہبی آزادی کا تصور
ہندوستان کے دستور میں مذہبی آزادی اور سیکولرزم کی جو مضبوط بنیاد رکھی گئی، اس میں مسلمانوں کے افکار کا گہرا اثر ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد جیسے رہنماؤں نے واضح کیا کہ ایک کثیر المذاہب ملک میں ریاست کا غیر جانب دار ہونا ہی قومی اتحاد کی ضمانت ہے۔ اسی فکر کے نتیجے میں دستور کے آرٹیکل 25 تا 28 میں ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل، تبلیغ اور اس کی ترویج کی آزادی دی گئی۔
:بنیادی حقوق اور مساوات
مسلمان اراکینِ اسمبلی نے اس بات پر زور دیا کہ دستور میں مساوات، انصاف اور انسانی وقار کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ نتیجتاً آرٹیکل 14 (قانون کے سامنے مساوات)، آرٹیکل 15 (امتیاز کی ممانعت) اور آرٹیکل 16 (مساوی مواقع) جیسے دفعات شامل ہوئیں، جو بلا لحاظِ مذہب، ذات یا نسل ہر شہری کو یکساں حقوق فراہم کرتی ہیں۔
:لسانی و ثقافتی تحفظ
مسلمان نمائندوں نے اردو سمیت تمام اقلیتی زبانوں اور ثقافتوں کے تحفظ کے لیے بھی آواز اٹھائی۔ دستور کے آرٹیکل 29 اور 30 کے تحت اقلیتوں کو اپنی زبان، رسم الخط اور ثقافت کے تحفظ اور تعلیمی ادارے قائم کرنے کا حق دیا گیا، جو ہندوستانی تنوع کے تسلسل کی ضمانت ہے۔
:جمہوری اقدار اور قومی یکجہتی
مسلمان قائدین نے دستور سازی کے دوران اس بات پر زور دیا کہ جمہوریت، مشاورت اور رواداری ہندوستانی معاشرے کی اساس ہوں۔ ان کی کوششوں سے دستور میں ایسے اصول شامل ہوئے جو مختلف طبقات کو ایک متحد قوم میں پروتے ہیں اور اختلاف کے باوجود باہمی احترام کو فروغ دیتے ہیں۔
:حاصل کلام
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہندوستان کی دستور سازی میں مسلمانوں کا حصہ محض عددی نہیں بلکہ فکری، اخلاقی اور نظریاتی اعتبار سے نہایت اہم ہے۔ ان کی بصیرت، اعتدال پسندی اور انصاف پسندی نے دستورِ ہند کو ایک جامع، ہمہ گیر اور انسانی قدروں سے مزین دستاویز بنایا۔ آج کا ہندوستانی دستور اسی مشترکہ جدوجہد کا ثمرہ ہے، جس میں مسلمانوں کی خدمات ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔
یہ دستور وطن ہم کو بہت ہی پیارا لگتا ہے۔ اندھیری رات میں جیسے کوئی ستارہ لگتا ہے -
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

